حکومت حافظ سعید کو کیوں روکے ؟؟

آئی بی سی اردوکی ویب سائٹ پر ایک انٹرویودیکھا جس میں آئی ایس آئی کے سابق عہدیدار اسد منیر کا انٹرویو شائع ہواجس میں انہوں نے پاک بھارت تعلقات پر گفتگو کی۔

انٹرویو دیکھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے

انہوں نے اڑی حملے کے تحریک آزادی پر اثرات اور مسئلہ کشمیر پر اپنا موقف پیش کیا ۔اسی انٹرویو کے دوران انہوں نے پاکستان کی ایک معروف مذہبی و فلاحی تنظیم جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کے حوالے سے بھی گفتگو کی ۔ان کے مطابق
حافظ محمد سعید ڈکلیئرڈ دہشت گرد ہیں
حافظ سعید کو جلسے نہیں کرنے چاہیے
انہیں ٹی وی پر نہیں آنا چاہیے
ان پر کسی الزام کا ثبوت نہیں
وہ لشکر طیبہ کا سربراہ رہا لیکن اس نے کبھی یہ نہیں کہا کہ بھارت جا کر دہشت گردی کرو۔
یہ وہ نکات ہیں جو حافظ محمد سعید کے حوالہ سے اسد منیر نے بیان کیے۔

حافظ سعید کے حوالہ سے صرف اسد منیر ہی نہیں بلکہ معروف لکھاری اور ریسرچر عامر رانا ، معتبر صحافی سلیم صافی اور ارشاد محمود بھی ملتے جلتے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں ۔ عام طور پر حافظ سعید یا ان کی جماعت پر جو الزامات لگتے ہیں ان میں
یہ نان اسٹیٹ ایکٹر ہیں
ان کی وجہ سے دنیا مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں دلچسپی نہیں لیتی
کشمیر میں جاری تحریک آزادی ان کے بیانات کی وجہ سے دہشت گردی قرار دی جاتی ہے
یہ حکومت کو دھمکاتے ہیں اور ان کی وجہ سے پاکستان کو دنیا میں تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے
وغیرہ وغیرہ۔

ان سارے سوالوں کے جواب سے پہلے تو یہ طے کر لینا چاہیے کہ دلیل اور ثبوت کے بغیر مکالمہ بے کار ہے ۔ہمیں طے کر لینا چاہیے کہ کیا کوئی قانون موجود ہے ۔ کیا آپ کسی بھی انسان سے اس کی آزادی بغیر کسی ثبوت کے صلب کرنے کا اختیار رکھتے ہیں ۔ کیا صرف اس وجہ سے آپ کسی سے اس کے بولنے چلنے کی آزادی چھین لینا چاہتے ہیں کیونکہ وہ کچھ لوگوں کو پسند نہیں ۔ کیا یہ ضروری ہے کہ آپ کانام معتبر ہے آپ کا نام کسی اداے کے ساتھ جڑا ہے تو آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں ؟ کیا انگریزی اچھی ہونے کا یہی مطلب ہے کہ آپ حق اور انصاف کی بجائے وہی کچھ کہیں جوانگریزی میڈیاکہتاہے ؟ اگر آپ نے صحافت میں کچھ نام کما لیا تو آپ کسی کو بھی ہدف بنا کر بغیر کسی تحقیق کے الزامات لگا سکتے ؟ بدقسمتی سے انصاف ، عدل اور تحقیق کے سار ے ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے ہم ( الا ماشاء اللہ ) اپنے نام اور ادارے ، اپنے تجربہ اور اپنی انگریزی کا فائدہ اٹھا کر کسی کو بھی طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے میں ہر گز دیر نہیں کرتے ۔ جہاں بیرونی پراپیگنڈہ ہمیں متاثرکر جائے باوجود کہ ہم انسانی حقوق ، آزادی کی بات کرتے ہیں ہم عدل کے تمام تقاضوں کو بلائے طاق رکھ دیتے ہیں ۔

جہاں تک بات اسد منیر کے خیالات کی ہے تو ان کے سوالات میں ہی سارے جوابات موجود ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ حافظ سعید ایک دہشت گرد ڈکلئیرڈ ہے ۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ اقوام متحدہ میں بھارت کی درخواست پر حافظ سعید سمیت دیگر ان کے دو افراد کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان پر تین قسم کی پابندیاں عاید کر رکھی ہیں جن میں اول وہ بین الاقوامی سفر نہیں کر سکتے ، دوم وہ اسلحہ کی خرید و فروخت نہیں کر سکتے اور آخری پابندی کہ ان کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کردیے جائیں ۔

اس پر بحث سے پہلے ہمیں حافظ سعید کے متعلق کچھ باتوں کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ وہ پاکستان کی ایک معروف یونیورسٹی میں شعبہ اسلامیات کے سربراہ رہ چکے ہیں ۔ ان کی کوئی سرگرمی خفیہ ہے نہ ہی وہ پہاڑوں میں کسی غار میں چھپے ہیں ۔

اقوام متحدہ کی جانب سے پابندی کے اعلان کے بعد حکومت نے انہیں اپنے گھر میں نظر بند کر دیا ۔ حافظ سعید نے اس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا جس پر ایک فل بنچ تشکیل دیا گیا ۔ اس کیس میں ایک طرف حکومت تھی تو دوسری جانب حافظ سعید تھے ۔ دونوں کے دلائل سننے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے فیصلہ دیا کہ حافظ سعید پاکستان کے ایک شہری ہیں اور آزاد شہری کو جو سہولتیں میسر ہوتی ہیں ان کو بھی حاصل ہیں ۔ اس کیس کے دوران عدالت نے حکومت سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ایسا ثبوت ہے کہ حافظ سعید نے کبھی قانون شکنی کی ہو یاان کی تقریر کے بعد لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہوئی ہو ۔ اس کا جواب نفی میں تھا کیونکہ حافظ سعید نے پاکستان کے قانون کی ہمیشہ پاسداری کی اور ریاستی قوانین کا احترام کیا ۔ان کی تقریر کے بعد کبھی لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بھی پیدا نہیں ہوئی ۔ حتٰی کہ ان کی گرفتاری اور نظر بندی کے وقت ان کی جماعت کی طرف سے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی نہیں کیا گیا ۔لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ کے فیصلے کے خلاف وزیر داخلہ رحمن ملک نے کیس سپریم کورٹ میں دائر کر دیا ۔ سپریم کورٹ نے اس پر ایک لارجر بنچ تشکیل دیا اورفریقین کا موقف سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

یہاں پر ایک اور بات واضح ہو جاتی ہے کہ حافظ سعید نے اپنی نظر بندی کے خاتمہ کے لیے لاکھوں کارکنان کے ذریعے حکومت پر کسی قسم کا عوامی دباؤ ڈالنے کی بجائے عدالتوں سے رجوع کیا۔حکومت کی جانب سے عدالت کو اقوام متحدہ کی پابندیوں سے آگاہ کیا گیا لیکن عدالت نے تمام ڈاکومنٹس کے مطالعہ کے بعد یہ کہا کہ اقوام متحدہ نے جو ان پر تین پابندیاں لگائی ہیں حکومت انہیں برقرار رکھ سکتی ہے لیکن اس کے علاوہ ان پر کسی قسم کی پابندی بحیثیت آزاد شہری نہیں لگائی جا سکتی ۔ عدالت کے فیصلے میں یہ بات بھی واضح ہے کہ حافظ سعید اور ان کی جماعت کو ملک بھر میں جلسے کرنے کی قانون کے مطابق آزادی حاصل ہے۔ ایک عوامی جماعت اور فلاحی تنطیم ہونے کی حیثیت سے ان کی جماعت یہ حق رکھتی ہے کہ ٹی وی پر انہیں دکھایا جائے ۔اسد منیر خود فرماتے ہیں کہ ان پر کوئی الزام ثابت نہیں ہے تو جناب اگر آپ خود تسلیم فرماتے ہیں تو پھر اس قدر غیر جمہوری ، غیر انسانی اور غیر آئینی اقدامات پر اصرار کیوں ؟

ایک اور مغالطہ جو حافظ سعید اور ان کی جماعت پر لگایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ان کی جماعت کو کالعدم قرار دیا گیا اور وہ نام بدل کر کام کررہے ہیں ۔ حالانکہ اس میں حقیقت نہیں ہے ۔

صدر مشرف کے دور میں لشکر طیبہ پر پابندی لگائی گئی تھی ۔ لشکر طیبہ اور جماعۃ الدعوۃ دو الگ تنظیمیں ہیں ۔ لشکری طیبہ پر پابندی لگنے سے پہلے ( یہ بات ضرور ذہن میں رہنی چاہیے)ہی جماعۃ الدعوۃ اور لشکرطیبہ کے راستے الگ ہو چکے تھے ۔ لشکر طیبہ پر پابندی لگنے سے پہلے جماعۃ الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید نے دنیا بھر کے میڈیا کی موجودگی میں اعلان کیا تھا کہ لشکر طیبہ کے تمام دفاتر اور کارکنان جموں و کشمیر منتقل ہو چکے ہیں ۔جماعۃ الدعوۃ ایک علیحدہ اور خومختار تنظیم ہے جوپاکستان میں اسلامی و فلاحی سرگرمیاں جاری رکھے گی ۔لشکر طیبہ کی جموں و کشمیر منتقلی کے بعد اس کا اپنا ڈھانچہ برقرار ہے اس تنظیم کا باقاعدہ سربراہ ہے جو اس تنظیم کے تمام معاملات کو چلاتا ہے اور یہ تنظیم کشمیریوں پر مشتمل ہے وہی اس کے تمام معاملات کے ذمہ دار ہیں۔ اس تنظیم کا باقاعدہ میڈیا سیل موجود ہے ایک ترجمان موجود ہے جس کی خبریں آئے روز کشمیر اور بھارتی اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔

اس کے باوجود اگر کالعدم تنظیموں کے نام بدلنے پر اعتراض ہے تو سب سے پہلے اس کی زد میں عوامی نیشنل پارٹی آئے گی جو پہلے نیشنل عوامی پارٹی(نیپ) کے نام سے جانی جاتی تھی اوراس کو کالعدم قرار دیا گیا تو انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی رکھ لیا اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ پیپلز پارٹی بھی اس کی زد میں آئے گی کہ الذواالفقار اور پیپلز پارٹی کا تعلق کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

ایک بہت بڑا اعتراض نان اسٹیٹ ایکٹر کے حوالے سے کیا جاتا ہے ۔نان سٹیٹ ایکٹرکی کوئی مقررہ تعریف کے بغیر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نان سٹیٹ ایکٹر ان افراد یا تنظیموں کو کہا جا سکتا ہے جو کسی ریاست قوانین کو مانتے نہ ہوں ۔ ریاست کا ان پر کوئی اختیار نہ ہو اور وہ نامعلوم مقامات پر پہاڑوں غاروں میں رہتے ہیں اور دہشت گردی، مسلح تحریک یا تشدد کے ذریعے اپنے نظریات مسلط کریں ۔ جماعۃ الدعوۃ کسی طور پر اس تعریف پر مکمل نہیں اترتی۔ حافظ سعید اور جماعۃ الدعوۃ ریاستی قوانین کو مکمل طور پر مانتی ہے ۔ ان کے دفاتر پاکستان کے ہر شہر میں موجود ہے ۔ یہی نہیں حافظ محمد سعید کا ریکارڈ دیکھا جائے تو انہوں نے کئی موقع پر عدالتوں سے رجوع کیا ہے ۔ ملک میں وی آئی پی کلچر کے خلاف انہوں نے عدالت میں درخواست دی ۔ ممبئی کیس کے حوالہ سے بھی ان کا کیس عدالت میں موجود ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ریاست جس طرح ڈی جی آئی ایس آئی کے لیے امریکہ میں مقدمہ لڑ رہی ہے اسی طرح پاکستان کے شہری کی حیثیت سے ان کے کیس کی بھی پیروی کی جائے۔ کشمیر پر حکومت کی کیا پالیسی ہے ایک آزاد شہری کی حیثیت سے جاننے کے لیے انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ۔پیمرا نے ایک آزاد شہری ہونے کے باوجود الیکٹرانک میڈیا اور ایف ایم ریڈیو اسٹیشن پر ان کی گفتگو کرنے پر پابندی لگا رکھی ہے اس کے خلاف بھی حافظ محمد سعید نے رٹ دائر کر رکھی ہے۔بھارت نے ان پر ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے ہیں ۔ حافظ سعید بارہا کہہ چکے ہیں کہ انہیں دنیا کی کسی بھی عدالت میں لے جائیں وہ اس کی صفائی دینے کے لیے تیار ہیں کہ ان کا کائی ہاتھ نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے ان پر پابندیوں کے حوالے سے بھی انہوں نے اپنے وکیل کے ذریعے لکھا ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات جھوٹ ہیں اور اس کے لیے انہیں اجازت دی جائے کہ وہ اقوام متحدہ کے سامنے پیش ہو کر اپنا موقف دے سکیں لیکن اقوام متحدہ نے ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔اس کے باوجود اگر کوئی انہیں یا ان کی جماعت کو نان سٹیٹ ایکٹر کہتا ہے تو یہ ناانصافی اور ذیادتی ہو گی۔

جہاں تک کشمیر کے حوالہ سے ان کی خدمات ہیں ان کا کوئی فرد انکار نہیں کر سکتا ۔نائن الیون کے بعد جب ہر کوئی تحریک آزادی کشمیر سے منہ پھیر رہا تھا اس کڑے وقت میں حافظ محمد سعید کی آواز کشمیریوں کے لیے گونج رہی ہوتی تھی ۔ اس بات کا کشمیریوں کو بھی احساس ہے یہی وجہ ہے کہ آج جب تحریک آزادی عروج پر ہے تو کشمیری سڑکوں پر بھی حافظ سعید کی تصاویر کے ساتھ مظاہرے کرتے نظر آتے ہیں ۔ ہزاروں کے مجمع میں یہ نعرے گونجتے دکھائی دیتے ہیں کہ حافظ سعید کا کیا پیغام کشمیر بنے گا پاکستان۔کشمیری سری نگر سے لے کر اڑی تک نعرہ لگاتے نظر آتے ہیں حافظ سعید سے رشتہ کیا لاالہ الا اللہ ۔جو لوگ اس وقت تحریک آزادی کی کمان کر رہے ہیں وہ تو حافظ سعید کے بغیر اپنی تحریک کو ادھورا سمجھتے ہیں تو پھر پاکستان میں کوئی بیٹھ کر کس طرح حافظ سعید کو الگ کر سکتا ہے ۔ ایک تھیوری یہ پیش کی جاتی ہے کہ حافظ سعید کی وجہ سے کشمیر کے مسئلہ کو عالمی سطح پر پذیرائی نہیں مل رہی ۔ حیرت ہے کہ کوئی سمجھدار بھی یہ بات کر سکتا ہے ۔ مسئلہ کشمیر کا آغاز تو قیام پاکستان کے ساتھ ہی ہو چکا تھا ۔ حافظ سعید نے نوے کی دہائی میں کشمیریوں کے لیے آواز اٹھائی ۔ حافظ سعید کو کشمیر کی آزادی میں رکاوٹ سمجھنے والے بتائیں 47سے لے کر 95تک وہ کیا کرتے رہے ۔ اس کے لیے ان کی قربانیاں کیا ہیں ؟ اگر ان لوگوں نے کچھ کام کیا ہوتا تو کیا کشمیریوں کو ہتھیار اٹھانا پڑتے ؟ در حقیقت یہ بہانہ صرف وہ لوگ بنا رہے ہیں جن کا تحریک آزادی سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں یا پھر کم از کم انہیں کشمیریوں سے کبھی دلچسپی نہیں رہی ۔ علاوہ ازیں حافظ سعید کا اس حوالے سے موقف بہت واضح ہے کہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے اور یہ قرار دادیں 1948, 49 میں منظور کی گئی تھیں۔ایک ٹی وی انٹرویو میں بھی وہ کہہ چکے ہیں کہ مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے لیے اگر بھارت مذاکرات کے لیے راضی ہو توضرور کرنے چاہیے لیکن بھارت ان مذاکرات کی آڑ میں صرف وقت ضائع کر رہا ہے ۔

جہاں تک سفارتی سطح پر تنہائی کا مسئلہ ہے تو یہ مفروضہ بالکل بے بنیاد ہے ۔ حکومت کی اپنی نااہلی حافظ سعید کے گلے میں نہیں ڈالنی چاہیے ۔جن نمائندوں کو حکومت نے مسئلہ کشمیر کے لیے منتخب کیا ہے وہ خود اس قابل نہیں کے بیرون ملک وہ اس مسئلہ کو اجاگر کر سکیں ۔

حافظ سعید نے قوم کو اتحاد و یکجہتی کا درس دیا ۔ تمام مکاتب فکر کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا ۔دہشت گردی کے خلاف ان کی خدمات کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید کے ساتھ ملک کر تمام مکاتب فکر کے علماء کو اکٹھا کیا اور پھر خود کش حملوں کے خلاف ایک متفقہ فتوٰی جاری کروایا ۔ آپریشن ضرب عضب کی سب سے پہلے حمایت کرنے والے وہ واحد مذیبہ رہنما تھے ۔ یہ وہی رہنما ہیں جنہوں نے پہلی دفعہ دنیا ٹی وی پر آکر کہا کہ ملک میں خود کش حملے کرنے والے ’’جہنمی کتے‘‘ ہیں ۔ ان کی جماعت نے فکری محاذ پر تکفیری اور خارجی سوچ کا رد کیا ۔

خدمت خلق کے میدان میں ایسی کوئی تنظیم پاکستان میں موجود نہیں ہے جس کے کارکنان اتنی تیزی کے ساتھ لوگوں کی زندگی کو بچانے کے لیے پہنچ سکیں ۔ جماعۃ الدعوۃ واحد فلاحی تنظیم ہے جس نے ملک کے ہر بڑے شہر میں ریسکیو سنٹر قائم کیے اور وہاں تربیت ہافتہ نوجوانوں کومقرر کیا ۔ تھر اور بلوچستان میں جو کام حکومتیں بڑے بجٹ کے ساتھ نہ کر سکیں ۔ حافظ سعید اور ان کی جماعت نے اس سے کہیں ذیادہ مختصر بجٹ میں کر دکھایا ۔ آج ان کی جماعت کا نام لینے پر اور ان کو کوریج دینے پر پیمرا کی جانب سے پابندی ہے لیکن اس کے باوجود کوئی روڈ ایکسیڈنٹ ہو ، کسی بلڈنگ میں آتشزدگی کا واقعہ ہو یا کوئی آسمانی آفت زلزلہ و سیلاب وغیرہ ۔ جماعۃ الدعوۃ کے کارکنان فوراً وہاں پہنچ کر امدادی سرگرمیوں کا آ غاز کر دیتے ہیں ۔ ان کے کاموں کا اعتراف عالمی ادارے جن میں اقوام متحدہ بھی شامل ہے کر چکے ہیں ۔

ان سب کے باوجود صرف بیرونی پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر حافظ سعید سے ان کے حقوق پر پابندی لگانے کا کیا مطلب ہے ؟ حکومت حافظ سعید پر پابندی کیوں لگائے ؟

آپ پاکستان میں رواداری کی بات کرتے ہیں ،آپ پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے آواز بلندکرتے ہیں ،حتیٰ کہ ایک ایسا پاکستان دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں جہاں دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی آزادی ہو لیکن افسوس کہ ایک دینی و فلاحی جماعت کو اس لیے ناپسند کرتے ہیں کہ اس کے خلاف بھارت و امریکہ کی جانب سے پراپیگنڈہ کیا جا تا ہے ؟ کیا یہی انصاف ہے جس کا دعوٰی آپ کرتے ہیں ، کیا یہی عدل ہے یا یہی آزادی ہے جس کے لیے آپ جدوجہد کر رہے ہیں ؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے