ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے سابق سربراہ عادل گیلانی کو سائبیریا میں پاکستانی سفیر مقرر کیے جانے کی اطلاعات

حکومت نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے سابق سربراہ عادل گیلانی کو سائبیریا میں پاکستانی سفیر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ‘ذرائع کے مطابق وزارت خارجہ کے سینئرافسران نےسربیا میں سفیر کی تعیناتی کیلئے مختلف امیدواروں کی لسٹ تیار کی تھی جس میں گیلانی کا نام سر فہرست دیا گیا ہے تاہم کسی بھی نام کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے ۔

ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حکومت پاکستان مسلم لیگ کے حق میں سروے رپورٹوں جاری کرنے والے گیلانی کو سفارت کار کے طور پر سائیبریا بھیج

رہی ہے تاہم اس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ صرف نواز شریف حکومت کے حق میں سروے کرتے ہیں ۔

واضح رہے کہ عادل گیلانی اس سے قبل وزیراعظم کے معائنہ کمیشن (PMIC) کیلئے بھی مشیر مقرر کئے گئے تھے جہاں پر وہ پرائم منسٹر انسپکشن کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے کارپوریٹ کرائم کی سراغ رسانی ‘زمینوں کے میگا اسکینڈلز ‘غیر قانونی ٹرانزیکشنز کے شواہد اور زیر تفتیش اور پراسیکیوشن کے تحت عدالتوں میں زیر سماعت مالی بدعنوانیوں کے کیسز کی نگرانی اور اعدادو شمار جمع کرتے رہے ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے ای ڈیٹابیس کی تیاری کے بعد کرپشن انڈیکس بنا کر پاکستان کے پرائیویٹ بزنس کی حد بندی کرتے ہوئے کسی بھی دھوکہ دہی کو براہ راست مانیٹر کرنے کا کام بھی شروع کیا تھا ۔

اس عہدے پر عادل گیلانی کو اعزازی طور پر 2بر س کے لئے تعینات کیا گیا تھاجس میں معاہدے کے تحت سرکاری سہولیات فراہم کی گئی تھی جن میں ڈرائیور ‘سرکاری گاڑی اسلام آباد و کراچی کے ہوائی سفری ٹکٹ سمیت دیگر الائونسز شامل ہیں جبکہ وہ وزیراعظم سیکرٹریٹ کے افسر تصور کئے جاتے تھے ۔واضح رہے کہ 2013میں پنجاب حکومت کے میٹرو بس منصوبے کی شفافیت کے لئے سرٹیفکیٹ جاری کیا تھا اور بعدازاں 2015 میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو بھی شفافیت کا سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا تھا۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کرپشن رپورٹس کے ای انڈیکس میں بہترین رینکنگ میں شامل رہی ہے ۔مذکورہ اہم ترین منصب اور کرپشن کو بے نقاب کرنے کی وجہ سے موجودہ وفاقی حکومت کی جانب ایک بار پھر عادل گیلانی کو سائبیریا میں پاکستان کا سفیر مقرر کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سائبیریا میں رہنے والے پاکستانیوں اور وہاں کی کمپنیوں کو پاکستان میں تجارتی تعلقات کو بہتر سے بہتر بنانے میں پیش رفت ہو سکے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (قائد اعظم) کے رہنما چوہدری مونس الہی کی جانب سے اب تک اس پر تحفظات کو اظہار کیا گیا ہے اس کے علاوہ کسی کی جانب سے بھی کوئی اشکال سامنے نہیں آیا ہے ۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ نواز شریف کی جانب سے سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں کرپشن کے اسکینڈلز کی نشاندہی کرنے کی وجہ سے عادل گیلانی کا انتخاب کیا جاسکتا ہے ۔تاہم اس حوالے سے ایوان وزیر اعظم کے ذرائع کے تصدیق کی ہے کہ سمری موصول ہوئی ہے جس پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے جبکہ عادل گیلانی کے نام پر تجاویز سامنے آر ہی ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے