افغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ

افغان طالبان

افغان طالبان اپنی قیادت کے حوالے سے عجیب کشمکش کا شکار ہیں اور کئی دھڑوں کے وجود میں آنے کی وجہ سے طالبان میں بے چینی اور اضطراب بڑھ گیا ہے ۔

ملا عمر کے بھائی ملا عبدالمنان نے کہا ہے کہ طالبان قیادت کے انتخاب کا حق 5 افراد کو نہیں بلکہ 18 رکنی مرکزی شوریٰ کو حاصل ہے۔ شوریٰ کے 18 میں سے 13 ارکان ملا عمر کے جانشین کے طور پر اختر محمد منصور کے انتخاب سے آگاہ ہیں نہ انہیں کسی نے اعتماد میں لیا ہے۔ ملا عمر کا جانشین وہی ہوگا جسے 18 رکنی شوریٰ کے ساتھ افغان علما کے جرگہ کی حمایت بھی حاصل ہوگی۔

ملا عمر کی جانشینی پر پیدا ہونے والے تنازعے نے افغانستان میں ایک اور خانہ جنگی کے خطرات بڑھا دئیے ہیں۔

ملا عمر کے خاندان نے ملا اختر محمد منصور کی امارت کے معاملے پر پاکستان کے کردار پر تشویش ظاہر کی ہے ۔ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل کی جانب سے ملا اختر منصور کی سر براہی قبول کرنے کے پیغام پر ملا عبدالمنان نے رابطہ کار سے کہا کہ ہمارے اندرونی معاملات میں پرجوش مداخلت سے نقصان بھی ہو سکتا ہے۔

افغان عوام کہتے ہیں روس کے جانے کے بعد افغان قوم خانہ جنگی کا شکار ہو گئی تھی اور اب امریکا کے جانے کے بعد نئی خانہ جنگی کا خطرہ منڈلا رہا ہے ۔پشاور یونی ورسٹی میں زیر تعلیم افغان طالب علم نجیب زادہ کہتے ہیں کہ افغان عوام کئی عشروں  سے حالت جنگ میں ہے ۔ اب لوگ افغانستان میں سکون چاہتے ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے