مقبول بٹ کا خواب اور نیا شعور

محمد مقبول بٹ شہید اس وقت کشمیریوں کی قومی آزادی کی جد وجہد کا ایسا استعارہ بن چکے ہیں ، جس پر کم وبیش پوری دنیا میں پھیلے ہوئے کشمیریوں کا اتفاق ہے ۔ انہوں نے تعلیم کے مدارج پشاور میں طے کیے اور پھر اپنے وطن کی آزادی کی تحریک کے سرخیل بن گئے ۔ انہیں اپنے اخلاص کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑی ۔

خونی لکیر کے اُس پار تو انہیں پاکستانی ایجنٹ کہا ہی جاتا تھا لیکن دردناک بات یہ ہے کہ یہاں کے سلامتی کے ادارے اور ان کی قائم کردہ سیاسی جماعتیں بھی انہیں بھارتی ایجنٹ قرار دیتی رہی ہیں ۔ لیکن آج سب انہیں کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کی سب سے بڑی علامت کے طور پر جانتے ہیں ۔

مقبول بٹ کو آج سے 34 برس قبل 11 فروری 1984 کو بھارتی عدالت کے فیصلے کے بعد بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی ۔ مقبول بٹ کا عدالت میں جج کے ساتھ کیا گیا مکالمہ تاریخی حیثیت کا حامل ہے ۔ مقبول بٹ زندہ تھے تو غاصبوں کے لیے دہشت کی علامت تھے اور جب قتل کر دیے گئے تو اور بھی زیادہ خوف کی علامت بن گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا جسد خاکی وہیں تہاڑ جیل کے کسی گمنام گوشے میں دفن کر دیا گیا اور آج تک ان کے اہل خانہ اور پوری قوم اس کی منتظر ہے۔

مقبول بٹ کا دن اس وقت پوری دنیا میں پھیلے ہوئے کشمیری منا رہے ہیں ۔ مقبول بٹ نے بھارتی غاصب افواج کے خلاف گوریلا جنگ کا تجربہ کیا ، بوجوہ وہ تجربہ وقتی نتائج سے آگے نہیں بڑھ سکا ۔ گوریلا جنگ کا المیہ یہ ہے کہ اس پر دہشت گردی اور دراندازی کا لیبل بہت آسانی سے لگایا جا سکتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ ایسی جنگ میں کئی پراکسی گروپ بھی شامل ہو جاتے ہیں جو تحریک کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ کشمیریوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا چلا آ رہا ہے ۔

اس وقت کشمیریوں کے جد وجہد کو صرف اور صرف غیر مسلح سیاسی جد وجہد ہی بار ور بنا سکتی ہے ۔ اگر کشمیری پوری یکسوئی سے اس انداز میں اپنی بات کریں گے تو ممکن ہے کہ جلد یا بدیر ان کی شنوائی ہوجائے۔ کشمیریوں کی جنگ کو ماضی میں مذہبی رنگ دے کر انہیں تقسیم کرنے کی کوششیں کی گئیں ، کشمیر جیسے بین المذاہب ہم آہنگی کی مثالی تاریخ رکھنے والے خطے میں فرقہ واریت پھیلائی گئی ، لیکن اب چند برسوں سے کافی بہتری آ چکی ہے ۔ کشمیریوں کی نئی نسل ایک نئے شعور کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے ۔

کشمیریوں کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنے کسی بھی پڑوسی ملک کے دشمن نہیں ہیں ۔ انہیں اپنی آزادی سب سے عزیز ہے ۔ اور یہ سمجھنا چاہییے کہ کشمیریوں کی آزادی کی صورت میں بھارت اور پاکستان کے کروڑوں عوام کی بہتری ہے ۔ اس مسئلے کے کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کی دیرینہ مخاصمت ختم ہو جائے گی اور جو بھاری اخراجات یہ دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف جنگوں کے لیے اٹھاتے ہیں وہ دونوں جانب کے عوام کی فلاح پر صرف ہو سکیں گے ۔

درسی کتابوں اور مذہبی عسکری جتھوں کے کمان داروں کے پڑھائے ہوئے نفرت اور دشمنی کے درس اب از کار رفتہ ہوچکے ہیں ۔ ان نفرت کے بیوپاریوں نے دو نسلیں تباہ کی ہیں اور آج یہ سب خود کو ”غازی” قرار دیتے ہوئے ذرہ برابر نہیں شرماتے ۔ البتہ کشمیریوں کی نئی نسل نے ان سب نفرت پسندوں کو مسترد کر دیا ہے ، اب کشمیریوں کو پراکسی جنگوں میں جھونکنا پہلے کی طرح آسان نہیں رہا ۔ اچھی بات یہ ہوئی کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے برسوں سے خونی لکیر کے آر پار منقسم کشمیری خاندانوں کو دوبارہ رابطے کا موقع دیا ہے ۔ اب وہ کسی حد تک اپنے دکھ سکھ شیئر کر سکتے ہیں۔ ربط باہم یونہی بڑھتا رہا تو ایک دن کشمیری اپنا خواب پا لیں گے اور پاکستان اور بھارت کے عوام بھی سداکی اس بے ثمر جنگ اور دشمنی کے کریہہ ماحول سے نکل آئیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے