کشمیر میں اردو شعر و ادب کی زمین ہم وار کرنے میں چار بڑی ادبی زبانوں نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ زبانیں کشمیری، فارسی، عربی اور اردو ہیں۔ ان کے علاوہ مقامی زبانوں کا سرمایۂ ادب بھی آزاد کشمیر میں شاعری کے فروغ کے لیے معاون ثابت ہوا۔ ان مقامی زبانوں میں گوجری اور ڈوگری دو ایسی زبانیں ہیں جو کہ ادبی حوالے سے خاصی اثرانگیز مانی جاتی ہیں۔
کوہستان جموں کا ایک مقبول عوامی شاعر داس علی تھا ( جس کا پوتا ڈاکٹر عمادالدین سوزؔ آزاد کشمیر کی اردو غزل کی روایت کا ایک اہم شاعر ہے)۔ داس علی کی زبان خالص پنجابی یا ڈوگری نہ تھی بلکہ دونوں زبانوں کا امتزاج تھا۔ ان شعرا نے کشمیر میں اردو غزل کی راہیں ہم وار کرنے میں بہت مدد فراہم کی۔ جیسا کہ ڈاکٹر افتخارؔ مغل لکھتے ہیں:
’’لازم ہے کہ ڈوگری /پنجابی زبان کے ان عوامی شعرا نے بھی کشمیر میں اردو شاعری کے راستے ہم وار کرنے میں اپنے حصے کا کردار ادا کیا ہوگا۔‘‘(۱)
کشمیر میں ڈوگرہ آمریت کے آغاز سے بہت بعد تک بھی ریاست میں دفتری زبان فارسی ہی رہی ہے۔ لیکن یہ بات بھی مسلّم ہے کہ جموں و کشمیر میں اردو زبان کے آغاز و نفوذ کا دور بھی یہی ڈوگری دورِ آمریت تھا۔
اس ضمن میں مشہور کشمیری مؤرخ خواجہ غلام احمد پنڈت رقم طراز ہیں:
’’حتیٰ کہ ڈوگرہ عہد میں جب اس (اردو) کا یہاں آغاز ہوا اس نے ہر سطح پر اپنا سکہ منوا لیا اور دفتری زبان کی حیثیت سے فارسی کی جگہ لے لی۔ حتیٰ کہ عدالتی اور درسی زبان کا درجہ بھی پایا۔‘‘(۲)
۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی چوں کہ برصغیر میں اردو زبان و ادب کے حوالے سے خاص اہمیت کی حامل رہی ۔ چناں چہ کشمیر میں بھی جنگِ آزادی اردو کی ترویج کا ایک مؤثر سبب بن گئی۔ کیوں کہ انگریزوں نے جنگِ آزادی کو کچلنے کے لیے جموں و کشمیر کے آمر حکمرانوں سے فوجی امداد طلب کی۔ گلاب سنگھ اگرچہ ۱۸۵۷ء میں حکومتی کاموں سے اپنے بیٹے رنبیر سنگھ کے حق میں دست بردار ہو چکا تھا، تاہم اس نے انگریزوں کا حقِ نمک ادا کرنے کے لیے ڈوگرہ فوجوں کو بھیجا۔ جنگِ آزادی کے اختتام کے بعد ڈوگرہ فوجی دہلی میں کچھ مدت مقیم رہے۔ یہ فوجی دستے جب واپس ریاست آئے تو اپنے ساتھ اردو کے بے شمار الفاظ بھی لائے۔ جن سے بھی اردو زبان کو ریاست میں فروغ حاصل ہوا۔
فوجی درباروں نے ریاست میں اردو زبان کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ جب ملازمتوں کے سلسلے میں ریاست میں آئے تو یہاں ادبی و شعری مجالس بھی منعقد کرواتے جن سے بھی اردو زبان کو بڑھنے اور پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔
ریاست جموں و کشمیر میں اردو زبان و ادب کی ترویج و پذیرائی کی ایک وجہ برصغیرکے معروف اردو شعرا کی مختلف مقاصد کے تحت ریاست میں آمدورفت بھی ہے۔ چناں چہ فانیؔ بدایونی، علامہ اقبالؔ ، فیض احمد فیضؔ ، ڈاکٹر مولوی عبدالحق، پنڈت برج نرائن چکبست، پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی دہلوی، مولانا ظفرؔ علی خان، ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، پروفیسر علم الدین سالک اور متعدد ادبا اور شعرا کشمیر میں آتے جاتے رہتے۔ چکبستؔ ، اقبالؔ اور کیفیؔ کو کشمیر سے اس لیے بھی زیادہ محبت تھی کہ یہ سرزمین ان کے اجداد کا وطن تھی۔ فانیؔ ، ظفرؔ علی خان، خلیفہ عبدالحکیم وغیرہ سیروسیاحت کے ضمن میں کشمیر آتے رہتے تھے۔ فیضؔ مشہور کشمیری رہنما شیخ عبداللہ کے احباب میں تھے۔ فیض ؔ کا نکاح بھی کشمیر ہی میں ہوا اور شیخ عبداللہ نے خود پڑھوایا۔ الغرض کشمیر کے بے پناہ حسن اور سیاحتی اہمیت کے پیش نظر ادبا اور شعرا کشاں کشاں وادی میں آتے رہے اور یہاں ایک ادبی فَضا قائم رہی۔
ان سب معاملات نے مل کر جہاں اردو زبان و ادب کو ترقی دی، بہ قول خواجا غلام احمد پنڈت:
’’کشمیر میں کشمیری، فارسی اور سنسکرت زبانیں خاص طو رپر بڑی مقبول رہی ہیں اور ان کی طویل تاریخ ہے۔ لیکن یہ حیرت انگیز بات ہے کہ جتنی ترقی اردو نے باقی علاقوں میں کی اس سے کہیں زیادہ ریاست جموں و کشمیر میں کی۔‘‘(۳)
اس ادبی شعری فضا نے باقاعدہ محافلِ شعروسخن کا روپ دھار لیا اور ۱۹۲۴ء میں سالانہ مشاعروں کی طرح ڈالی گئی۔ پہلا مشاعرہ رچھپال سنگھ شیداؔ کی زیرِصدارت پڑھا گیا۔ کیفی ؔ دہلوی نے اس مشاعرے کی نظامت سنبھالی۔ دیگر شعرا میں عندلیب ؔ شادانی، سیمابؔ اکبر آبادی، ساغرؔ نظامی اور جمال ؔ صابری وغیرہ شامل تھے۔ کشمیر میں شعروادب کی داغ بیل تو پڑ ہی چکی تھی۔ اب اس کو مزید فروغ روز بہ روز ملتا چلا گیا اور تقسیم کے بعد آزاد کشمیر الگ ہوا۔ لیکن یہاں ادبی سرگرمیاں کم نہ ہوئیں اور تاحال آزاد کشمیر میں اردو شعروادب زندہ ہے جس نے کئی اہم شعرا پیدا کیے جن میں آزؔ ر عسکری(۱۹۱۱۔۱۹۸۳ء)، الطافؔ قریشی (۱۹۳۷۔۱۹۸۳ء)، انجمؔ خیالی (پ۱۹۳۷)، صابر آفاقی (۱۹۳۳۔۲۰۱۱ء)، مرزا طالب ؔ گورگانی (۱۸۹۳۔۱۹۴۴ء)، شیخ عبدالعزیز علاقی (۱۹۰۱۔۱۹۸۱ء)، عبدالغنی غنیؔ (۱۹۲۷۔۱۹۹۴ء)، مخلص وجدانیؔ ؔ (پ۱۹۴۸ء)، منورؔ قریشی (۱۹۴۶۔۱۹۸۵ء)، محمد خان نشتر (۱۹۲۳۔۱۹۸۵ء)، افتخارؔ مغل (۱۹۶۱۔۲۰۱۱ء) وغیرہ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ آزاد کشمیر کے معروف شعرا میں سیدہ آمنہؔ بہار (پ ۱۹۶۲ء)، پروفیسر اعجازنعمانی (پ۱۹۶۹ء)، فرزانہ فرح ؔ (پ۱۹۷۴)، ایم یامین (پ۱۹۶۱)، احمد عطاءؔ اللہ (پ ۱۹۶۵ء)، سید شہبازؔ گردیزی (پ ۱۹۷۶)، لطیف آفاقی (پ ۱۹۷۹)، ایازؔ عباسی ، کاشفؔ رفیق (پ ۱۹۷۹ء)، ماجد محمود ماجد (پ ۱۹۸۰ء) اور واحدؔ اعجاز ہمدانی شامل ہیں۔ یہ تمام شعرا آزاد کشمیر میں ادبی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں اور فروغ شعروادب کے لیے کوشاں ہیں۔
ان شعرا نے ادبی تنظیموں اور محافل کے ذریعے آزاد کشمیر میں شعروادب کو فروغ دیا۔
آزاد کشمیر کے قیام کے بعد دو بڑے ادبی مراکز قائم ہوئے جن میں ایک میرپور اور دوسرا مظفرآباد ٹھہرا۔ چناں چہ قیامِ آزاد کشمیر کے بعد دو سال کے عرصے میں مظفرآباد کے اندر پہلی ادبی تنظیم ’’بزمِ ادب‘‘ کے نام سے قائم ہوئی۔ محمد یوسف ؔ علیگ اس تنظیم کے صدر منتخب ہوئے۔ اس بزم کے تحت اردو مشاعروں کا انعقاد کیا جاتا جب کہ تنقیدی مقالات پڑھنا بھی اس تنظیم کے زیراہتمام تھا۔ مظفرآباد کے مقامی شعرا باقاعدگی سے ان سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے۔ یہ بزم ۱۹۵۴ء تک اپنا کام کرتی رہی۔
۱۹۵۳ء میں ’’حلقہ ارباب ذوق‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۔ عبدالغنی غنیؔ ، ڈاکٹر صابرؔ آفاقی اور خواجا محمد عثمانؔ ’’حلقہ ارباب ذوق‘‘ کی ادبی سرگرمیوں میں پیش پیش تھے۔ حلقہ کی نشستوں میں مشاعروں کے علاوہ افسانے اور تنقیدی مقالات بھی پڑھے جاتے تھے۔ حلقے کے زیراہتمام مظفرآباد میں کئی بڑے اور یادگار مشاعرے بھی منعقد ہوئے جن میں ملک کے نام وّر شعرا بھی مدعو تھے۔
آزاد کشمیر (خصوصاً مظفرآباد) میں شعروادب کے فروغ میں آزاد کشمیر کے سرکاری افسران کا بھی بڑا عمل دخل شامل رہا ہے۔ ان افسروں میں کالج کےَ اساتذہ کے علاوہ سیکرٹریٹ کے افسروں مثلاً حبیب کیفوؔی، احمد شمیمؔ ، عبدالرشید ملک، خواجا غلام احمد پنڈت، علامہ یعقوب ہاشمی، بیگم تنویر لطیف، جواد جعفری، ڈاکٹر افتخارؔ مغل، اکرم سہیل اور احمد عطاءؔ اللہ وغیرہ کے نام زیادہ اہم ہیں۔ یہ لوگ ادب سے گہری دل چسپی رکھنے والے لوگ ہیں۔ ان کی اسی دل چسپی کی وجہ سے مظفرآباد میں ادبی سرگرمیاں وقتاً فوقتاً ہوتی رہتی ہیں اور ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں۔ ان سرگرمیوں میں پندرہ روزہ اجلاس رکھنے کے علاوہ کتب کی رونمائی کی تقاریب اور تنقید ی نشستیں وغیرہ شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں سے خاطر خواہ فوائد آزاد کشمیر کے ادب کو حاصل ہوتے ہیں۔ جب کہ نئے لکھنے والوں کو بھی ایک پلیٹ فارم میسر آتا ہے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کا کھل کر مکمل طور پر اظہار کر سکتے ہیں۔
آزادکشمیر میں قائم مختلف ادبی تنظیمیں یہاں فروغ شعروادب میں نہایت مفید خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ صرف مظفرآباد میں کئی ایسی تنظیمیں فعال ہیں جن کا مقصدصرف شاعری کا فروغ ہے۔ ان تنظیموں میں ’’کشمیر لٹریری سوسائٹی‘‘ کا نام ایک معتبر نام ہے جس کے صدر احمد عطاءؔ اللہ جب کہ سیکرٹری جنرل پروفیسر اعجازؔ نعمانی ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر فرزانہ ؔ فرحؔ کی ڈائریکٹرشپ میں ایک اور فعال تنظیم ’’ادب زار‘‘ کے نام سے مظفرآباد میں فروغ ادب کے لیے کوشاں ہے جس کے سرپرست اعلیٰ مخلص وجدانیؔ ؔ ہیں۔
اس کے علاوہ ’’بزم آزر‘‘، ’’طرح نو‘‘، ’’گوجری ادبی بورڈ‘‘، ’’بزم شعرا‘‘، ’’ادب جزیرہ‘‘، ’’ادب اجالا‘‘، ’’بزم سوزِ کشمیر ‘‘ اور ’’ہمہ یاراں‘‘ وغیرہ ایسی تنظیمیں ہیں جنھوں نے علاقے میں ادبی اور شعری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔
آزاد کشمیر کی شعری روایت کے فروغ کے لیے مختلف رسائل اور جرائد نے بھی اپنے حصے کا کردار نبھایا اور یہاں شاعری کے لیے راہیں ہم وار کیں۔ ان رسائل میں پندرہ روزہ ’’آزاد کشمیر‘‘ مظفرآباد، ماہ نامہ ’’عزیمت‘‘ مظفرآباد، ہفت روزہ ’’مشیر‘‘مظفرآباد (ایڈیٹر:آزرعسکری/ابراہیم گل)، ہفت روزہ ’’شعور‘‘ مظفرآباد، سلسلہ نمبر ’’ادبیات کاشر‘‘ میرپور (ایڈیٹر:مظہرجاویدحسن)، سلسلہ نمبر ’’وجدان‘‘ مظفرآباد (ایڈیٹر:سرفرازخواجا)، سہ ماہی ’’تخلیق‘‘میرپور (ایڈیٹر:محمد عارف خان/افتخار مغل)، ماہ نامہ
’’عروج‘‘مظفرآباد(ایڈیٹر:افتخارمغل)، ہفت روزہ ’’مون کریشنز‘‘ مظفرآباد (ایڈیٹر:سید صلاح الدین شاہ) سہ ماہی’’مطلع‘‘ باغ (مدیر: دل شاد اریب) اہم نام ہیں۔
آزاد کشمیر کے شعرا میں کئی نام ایسے بھی ہیں جن کا حوالہ ملک سے باہر بھی ہے۔ جب کہ اکثر نام صاحب کتاب شعراکے ہیں۔ ان شعرا کے ہاں ایک خاص قسم کی شعری چاشنی ہے۔ موضوعات اور فن کے اعتبار سے بھی کہیں کوئی کمی نہیں ملتی۔ موضوعات میں روایتی موضوعات کے ساتھ ساتھ کئی ایسے موضوع بھی ہیں جو کہ خاص اس خطے کے حوالے سے ہیں جیسے چنار، کشمیر، جذبۂ آزادی وغیرہ۔
ان شعرا میں ڈاکٹر صابر آفاقی ایسے شاعر ہیں جو کئی زبانوں میں اشعار کہتے تھے جن میں گوجری، اردو، فارسی وغیرہ اہم ہیں۔ آپ کے کئی مجموعے منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔ آپ اردو ادب میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ مظفر آباد میں ادبی فضا قائم کرنے میں صابر آفاقی کی محنت سے انکار ممکن نہیں۔ آپ نے اپنے نئے شعری تجربات سے نہ صرف مظفرآباد بلکہ پورے ملک کی ادبی فضا پر ایک خاص تاثر قائم کیا۔
ڈاکٹر افتخارؔ مغل کے مطابق:
’’صابر آفاقی نے جہاں زبان و بیان کے نئے شعری موضوعات کے کئی دیگر تجربات کیے ہیں۔ اُسلوب کا ایک نیا تجربہ بھی کیا ہے جس میں غزل اور گیت ہر دو اصناف کی جمالیاتی اور ہیئتی قدروں کو ہم آہنگ کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ اس کاوش میں صابرؔ آفاقی نے ہیئت اور اوزان غزل کے برتے ہیں لیکن ماحول فضا، لفظیات اور غنائیت گیت کی ہے۔‘‘(۴)
صابر آفاقی کے ان تجربات کی کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں:
موجۂ نبض چلے ہے تھم تھم
گِن گِن کر ہم کاٹیں دم دم
اپنی گزارش واضح واضح
ان کے اشارے مبہم مبہم
عشق ہے رسوا نگری نگری
حسن کے چرچے عالم عالم
کیا کہیے یہ روگ ہے کیسا!
اشکِ رواں ہے چھم چھم چھم چھم
تیشہ جیبھ ہے فن کاروں کی ، تیشہ اکثر بولے
صورت صورت بات کرے اور پیکر پیکر بولے
دل کی گرمی لفظوں کو دوں ، جذبوں کو گویائی
شاید سِل میں دِل ہو پیدا ، شاید پتھر بولے
صابرؔ آفاقی کے ہاں یہ گیت نما غزلیں بھی آپ کا ایک اچھوتا تجربہ ہے۔ اس میں شاعر کی تخلیقی صلاحیتیں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ صابرؔ آفاقی کے فن کے اعتراف میں ڈاکٹر وزیر آغا رقم طراز ہیں:
’’صابرؔ آفاقی ان محدودے چند شعرامیں ہیں جو نئے زمانے کی آواز سے اپنی آواز کو ملا لیتے ہیں مگر ان کی روح اس نغمے کے زیر و بم کو فراموش نہیں کرتی جو ازلی و ابدی ہے اور جس کے بغیر فن کے سارے سوتے خشک ہو جاتے ہیں۔‘‘(۵)
ڈاکٹر افتخارؔ مغل بھی اردو شاعری میں ایک اہم نام ہے۔ آپ کا مجموعہ ’’لہو لہو کشمیر‘‘ آپ کی حب الوطنی کا واضح ثبوت ہے۔ جب کہ آپ کا دوسرا شعری مجموعہ ’’انکشاف‘‘ بھی ادبی حلقوں میں داد تحسین حاصل کر چکا ہے۔ افتخارؔ مغل کے ہاں بھی توانا لب و لہجہ نظر آتا ہے۔ آپ نے نظم اور غزل دونوں اصناف میں طبع آزمائی کی۔ افتخارؔ مغل محبتوں کا شاعر تھا۔ محبت کے مضامین اس کے شعروں میں جابہ جا نظر آتے ہیں۔
خدا ! صلہ دے دعا کا محبتوں کے خدا
خدا ! کسی نے کسی کے لیے دعا کی تھی
میں محبت ہوں ، محبت کا اثر ہوں اے دوست
یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ میں زائل ہو جاؤں
اس طرح ایک جگہ محبت کو یوں بیان کرتے ہیں:
چلو ہم ڈھے گئے ، لیکن ، محبت!
ترا پرچم تو اونچا رہ گیا ہے
شوکت اقبال مصور ،افتخارؔ مغل کو دوستوں کا افتخارؔ کہہ کر یاد کرتے ہیں۔ افتخارؔ مغل بلا کے خوددار شاعر تھے۔ آپ کے ہاں اس حوالے سے ایک شعر آپ کے جذبات و احساسات کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔
یہ دیکھ کر مِری حیرت کی انتہا نہ رہی
کہ میں نے ہاتھ بھی پھیلا دیا ، مرا بھی نہیں
اپنے خاص اسلوب میں بات کہنے کا جو ملکہ افتخارؔ مغل کو حاصل تھا وہ منفرد ہے۔ افتخارؔ مغل کے ہاں میر تقی میر ؔ سے عقیدت اور محبت کا وفور دیدنی ہے۔ میرؔ کا مرکزی موضوع محبت ہے اور افتخارؔ مغل کی غزل بھی اسی موضوع سے عبارت ہے۔ افتخارؔ مغل نے میرؔ کے ساتھ ساتھ غالبؔ ، فیضؔ ، اقبال ؔ اور فرازؔ کے رنگ کو بھی اپنایا لیکن اس سب کے باوجود اپنی تخلیقی انفرادیت کو زائل نہ ہونے دیا اور اپنا منفرد اسلوب برقرار رکھا۔
افتخارؔ مغل چوں کہ کشمیری خاندان سے تعلق رکھتے تھے اس لیے آپ کی کشمیر سے محبت فطری ہے۔ آپ کشمیر پر نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے جاری بھارتی جارحیت اور ظلم و ستم کو دیکھ کر خون کے آنسو بہاتے ہیں۔ آپ کے اشعار میں جو عزم اور کرب کی ایک فضا نظر آتی ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ افتخارؔ مغل ایک جیتا جاگتا شاعر ہے۔ افتخارؔ مغل کے ہاں تغزل بھی پوری شان سے موجود ہے۔
الغرض افتخارؔ مغل کسی نہ کسی پیرائے میں زندگی کے صاف نظر آنے والے مناظر اور حقائق کے برعکس زندگی کے ان مخفی پہلوؤں کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بناتے ہیں جو عام نظر سے پوشیدہ ہوتے ہیں۔
الطافؔ قریشی بھی آزاد کشمیر کے ادبی منظرنامے کے ایک معروف شاعر ہیں۔ آپ کا تعلق بھی مظفرآباد سے ہے۔ الطافؔ ؔ قریشی فکری اعتبار سے ایک صوفی، تنہائی پسند اور خوفِ مرگ کی تشویش کا شکار انسان اور مجذوبانہ نقطۂ نظر کے حامل شاعر تھے۔ الطافؔ قریشی کے مجموعے ’’داتا زہر پِلا‘‘ اور ’’ثنا‘‘ میں آپ کا فکری رجحان واضح طورپر دیکھا جا سکتا ہے۔ آپ غزل کے میدان میں مرحوم منیرؔ نیازی کے لہجے کے زیادہ قریب نظر آتے ہیں۔ شائداس کی وجہ یہ بھی ہے کہ منیرنیازی اور الطافؔ قریشی آپس میں قریبی دوست تھے۔
منیرؔ نیازی، الطافؔ قریشی کے حوالے سے ایک جگہ یوں رقم طراز ہیں:
’’جب الطافؔ قریشی کے رویے کے بارے میں سوچتا ہوں تو جیسے ایک کھلے میدان میں کہیں دور دراز ایک خوب صورت جوت جگتی ہوئی رفاقت کا احساس دیتی معلوم ہوتی ہے۔‘‘(۶)
الطافؔ قریشی کی شاعری میں بھی روایتی رنگ نظر آتا ہے۔ آپ کے کلام کے کچھ نمونے ملاحظہ ہوں:
تجھ کو بھی پوجنا پتھر کے خداؤں کی طرح
خود خداوند کو بھی دل میں بسائے رکھنا
زندگی موت کے دریچے سے
جھانکتی ہے ، مجھے بلاتی ہے
مر گیا وہ جو مر گیا بھائی
موت سے کس نے زندگی پائی
اپنی فطرت سے آشنا ہوں میں
اپنے ہی ڈر سے کانپتا ہوں میں
مخلصؔ وجدانی، ڈاکٹر صابر آفاقی ؔ کے چھوٹے بھائی ہیں۔ آپ مکمل طور پر غزل کے شاعر ہیں۔ تاہم آپ کے ہاں چند پابند نظمیں بھی ملتی ہیں۔ گھر کے ادبی ماحول کے علاوہ بھی مخلص وجدانیؔ ؔ نے مکمل طور پر ادبی زندگی گزاری۔ مخلص وجدانیؔ ؔ نہایت کم گو شاعر ہیں۔ آپ کا مجموعہ ’’صلیبوں کا شہر‘‘ کے نام سے منظرِعام پر آ چکا ہے۔
مخلص وجدانیؔ ؔ غزل کی خارجی ہیئت پر محنت کرنے والے شاعر ہیں۔ آپ کا شعری اثاثہ ثابت کرتا ہے کہ آپ نے اپنی ادبی زندگی میں ہر سال تقریباً ایک غزل کہی ہے۔ آپ کی اس قدر محنت کے باوجود آپ کا کوئی خاص اسلوب سامنے نہیں آیا البتہ آپ کے لہجے میں انفرادیت ضرور ہے جو مقامی استعارات اور علامات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
منصور بھی کیسا انساں تھا ، سولی پر چڑھ کے کہتا تھا
سر دینا اس کو آساں ہے جو اپنی بات نہیں دیتا
ہمیں چلنا پڑا ہے عمر بھر اپنے ہی سائے میں
کہیں سایہ نہ تھا کوئی زمینِ بے درختی پر
تیری برسات کے بادل گزر جاتے ہیں بن برسے
تمنا کی زمینوں کو اگر ہو تر بنانا ہوں
آؤ سب مل کر فصیلِ شہر کو اونچا کریں
ہے سلامت شہر تو محفوظ اپنا گھر بھی ہے
سیدہ آمنہؔ بہارآزاد کشمیر کی اہم شاعرہ مانی جاتی ہیں۔ آپ کا مجموعہ ’’چناروں کی آگ‘‘ کے نام سے زیور طباعت سے آراستہ ہو چکا ہے۔ آپ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ آزاد کشمیر کی پہلی صاحب کتاب شاعرہ ہیں۔ آپ کی شاعری میں سیاسی، سماجی اور نفسیاتی مسائل اہم موضوعات نظر آتے ہیں۔ آپ کے ہاں کشمیر اور محبت کے موضوعات ملتے ہیں۔
آمنہ بہارؔ کے اُ سلوب کے حوالے سے ڈاکٹر افتخارؔ مغل لکھتے ہیں:
’’محبت کے مضامین کی حد تک روناؔ نے اپنا ایک اُسلوب بنا لیا ہے اور اس اسلوب کی بنا پر وہ آزاد کشمیر کی نوجوان نسل بالخصوص نوعمر خواتین اور لڑکیوں کی نہایت پسندیدہ شاعرہ ہیں۔‘‘(۷)
سیدہ آمنہؔ بہار روناؔ تخلیقی جوہر کے حوالے سے ایک ثروت مند شاعرہ ہیں۔ احساس و جمال کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو انھیں ایک خوش خیال اور جمال دوست شاعرہ کہا جا سکتا ہے۔ آپ کی فکر میں جو حسن ہے وہ ہمیشہ خوب صورت اور خوب صورتی سے متعلق مضامین ہی متوجہ کرتا رہتا ہے۔ اپنی اسی خوبی کی بدولت آمنہؔ بہار روناؔ تلخ سے تلخ بات کو بھی حسن کی ڈور میں نفاست سے پرو لیتی ہیں کہ اس پر تلخی کا گماں نہیں ہوتا۔
آپ کے کلام سے چند مثالیں درج ذیل ہیں:
گلمرگ و پہلگام کے وہ دل کش سے نظارے
ڈل اور ولر کے وہ چمکتے ہوئے دھارے
ہم غبارِ کارواں کو آنکھ کا کاجل کریں
اور جگر کے خون سے رنگ شفق تازہ کریں
ہوا کی آنکھ میں اک شبنمیں تبسم ہے
مدھر سروں میں چلی ہے بڑے سبھاؤ کے ساتھ
میں زخم خوردہ ہوں دنیا کی بے ثباتی کی
حیات پاک کو تیریؐ ہی معتبر دیکھوں
آزاد کشمیر کے ادبی منظرنامے میں ایک نام ڈاکٹر کاشفؔ رفیق کا بھی ہے۔ کاشف رفیق ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں لیکن آپ کے ادبی ذوق نے آپ کو باقاعدہ شاعر بنا دیا۔ کاشف رفیق کا پہلا مجموعہ ’’اداس رات کا چاند‘‘ جب کہ دوسرا ’’کبھی آباد تھا یہاں اک شہر‘‘ منظرِعام پر آ چکا ہے۔ آپ کو ادبی ذوق اپنے نانا عبدالحفیظ سالبؔ کی طرف سے وراثت میں ملا۔ کاشف رفیق کی شاعری عشق، محبت،ہجرووصال جیسے روایتی مضامین سے عبارت ہے۔ آپ کے ہاں ایک خاص اسلوب نظر آتا ہے۔ کاشف رفیق جدت کے شاعر ہیں۔ آپ کے بھائی سلمان رفیق بھی صاحب کتاب شعرا کی صف میں شامل ہیں۔ غزل کے علاوہ کاشف رفیق نے نظم میں بھی طبع آزمائی کی لیکن آپ کی وجہ شہرت غزل ہی ٹھہری۔
کاشف رفیق کی شاعری میں جہاں زندگی کے بارے میں آپ کی وسعت نظری کا ثبوت ملتا ہے وہاں جذبہ محبت میں بھی آپ کی تخلیقی ہنرکاری نظر آتی ہے۔ احساس کی سطح پر شعری جمالیات آپ کےُ اسلوب کا خاصا ہے۔ آپ کے کلام سے چند مثالیں پیش خدمت ہیں:
طلب گار تیرے بہت ہوں گے لیکن
کسی کو مِرے جیسی چاہت نہیں ہے
اگر خود کو کبھی پہچاننا چاہو
مِرے لفظوں میں خود کو دیکھ سکتے ہو
روز ملتے ہیں راستے میں ہم
بس ہیں اتنے سے رابطے میں ہم
اپنی تنہائی کا ملال نہ کر
اس نے تجھ کو بچایا فتنوں سے
سید شہبازؔ ؔ گردیزی کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع باغ سے ہے۔ آپ شاعری میں پروفیسر شفیق ؔ راجا اور ڈاکٹر افتخارؔ مغل کے شاگرد ہیں۔ آپ آزاد کشمیر کے معروف نوجوان شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔آپ کے ہاں وارداتِ قلبی کی فضا نظر آتی ہے۔ شہبازؔ ؔ گردیزی بھی دیگر شعراکی طرح محبت کے جذبوں سے لبریز ہیں جب کہ حب الوطنی بھی آپ کا خاص موضوع ہے۔ آپ کے دو مجموعے ’’حقیقتوں کے عذاب‘‘ اور ’’خواب کون دیکھے گا‘‘ کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ اب ڈوبنا طے ہے شہبازؔ
اس کے مہتاب سے عارض میں بھنور پڑتا ہے
میرے اندر کا صحرا جاگتا ہے
میں جب کوئی سمندر دیکھتا ہوں
اس ایک بات پہ اٹکی ہوئی ہے سانس مری
میں مر گیا تو مرے خواب کون دیکھے گا
تیری آنکھوں میں یہ جو خواب سا ہے
اسے میں نے کہیں دیکھا ہوا ہے
ٹھیک ہے میں اس کوشش میں ناکام رہا
لیکن میں نے خوش رہنے کی کوشش کی ہے
اندر سے ہر چہرہ اجلا ہوتا ہے
باہر سے بس گرد ہٹانی پڑتی ہے
مجھ پہ تعمیر جو فسانہ ہے
اس کی بنیاد اک حقیقت ہے
مظفرآباد آزاد کشمیر کے ادبی منظرنامے کے ایک اہم نوجوان شاعر واحدؔ اعجاز ہمدانی بھی ہیں۔ آپ کا مجموعہ ’’راستہ مت بدل‘‘ منظرعام پر آ چکا ہے۔ واحدؔ اعجاز ہمدانی لوک داستان کے کسی کردار کی طرح محبت میں گندھا ہوا شخص ہے۔ واحدؔ مستعار تجربات سے عاری نظر آتے ہیں۔ آپ کا اوڑھنا بچھونا محبت ہی ہے۔ اور آپ اپنے اوپر گزری ہوئی کیفیات کو الفاظ کا روپ دے کر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ واحدؔ اعجاز ہمدانی کے اشعار کی ندرت اور تازگی نے آپ کو کم عمری میں ہی ثروت مند بنا دیا ہے۔ آپ بھی کشمیر کے باسی ہونے کے ناتے کشمیر کے رہنے والوں کے دکھ درد سے بہ خوبی آگاہ ہیں۔ واحدؔ ایک درد مند دل رکھنے والی شخصیت کے حامل انسان ہیں۔ آپ کے ہاں انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب ہے۔
واحدؔ اعجاز ہمدانی کی پرورش چوں کہ مظاہر فطرت کی شاہکار زمین مظفرآباد میں ہی ہوئی۔ اس لیے آپ کے کلام میں دریاؤں کی روانی، جھیلوں کا سکوت اور آبشاروں اور جھرنوں کی نغمگی نظر آتی ہے۔ آپ روایت کے پاسدار ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی انا اور خودداری پر بھی قائم دکھائی دیتے ہیں۔ آپ کے اشعار میں آپ کے جذبات کھل کر عیاں ہوئے ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
سر گرے میرا تو لے جائے قبیلہ تجھ کو
اتنی آسانی سے میں تجھ کو نہیں ہاروں گا
یہ جو ہم لوگ ہیں احساس میں جلتے ہوئے لوگ
ہم زمیں زاد نہ ہوتے تو ستارے ہوتے
گھمنڈ ٹوٹنے لگتا ہے رات کا واحدؔ
جو کوئی جگنو ذرا سا چمکنے لگتا ہے
زکریا شازؔ آزاد کشمیر کے اہم غزل گو کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ شازؔ اپنی غزل کے داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر یکساں توجہ دیتے ہیں اور شعر کے جسم اور روح کو یکساں طور پر اجالنے اور چمکانے پر یقین رکھتے ہیں۔ شاز کی غزل کلاسیکی روایت کے گہرے مطالعے کا پتا دیتی ہے۔ آپ کی غزل میں تصوریت کا عنصر زیادہ نظر آتا ہے۔ اور زبان و بیان کے معاملے میں انتہائی محتاط اور محنت عیاں ہوتی ہے۔ زکریا شازؔ کی بندشیں بہت چست ہیں جب کہ زبان میں مہارت اور صناعی کا احساس ہوتا ہے۔ آپ کے مضامین زیادہ تر داخل سے برآمد ہو کر خارج میں وارد ہوتے نظر آتے ہیں اور آپ کی داخلی کیفیات میں بھی محبت کا مضمون نمایاں ہے۔ محبت کے مضمون کو شازؔ نے بڑی کامیابی اور سماجی شعور کے ساتھ نبھایا ہے۔ آپ کی محبت معاشرے کی سماجی جبریت کے سارے پہلوؤں کو لیے ہوئے اور اپنی مٹی کی خوش بو سے پھوٹتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ان کے ہاں مضامین اور کیفیات کی یکسانیت فنی معیار اور ابلاغ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتی لیکن موضوعاتی پھیلاؤ کو قدرے محدود کر دیتی ہے جس کی بنا پر فکری یکسانیت کے سلسلے میں حبس کا احساس ہوتا ہے۔ تاہم محبت کے موضوعات کو قرینے سے نبھانے میں زکریا شازؔ نہایت کامیاب رہے ہیں۔
اے زیست! ادھر دیکھ ! کہ ہم نے تری خاطر
وہ دن بھی گزارے کہ گزرنے کے نہیں تھے
یہ دن ہے کوئی بھوت تعاقب میں ہمارے
اور آگے وہی رات کا ڈر رکھا ہوا ہے
اس کا خیال دل میں گھڑی دو گھڑی رہے
پھر اس کے بعد میز پر چائے پڑی رہے
ایازؔ عباسی آزاد کشمیر کے شعری ادب میں ایک اور صاحب کتاب شاعر ہیں۔ آپ کا مجموعہ ’’ظہور‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ ایازؔ عباسی بھی کم گو شاعر ہیں۔ آپ کی شاعری میں حبِ رسولؐ بھی ملتی ہے اور حبِ وطن بھی۔ آپ اپنے جذبات کو غزل اور نظم میں بہت نفاست سے بیان کرتے ہیں۔ ایازؔ عباسی کے ہاں تلخئ ایام بھی ہے اور کربِ محبت بھی آپ کا اہم موضوع ہے۔ آپ کبھی چلچلاتی دھوپ میں سفر کرتے ہیں تو کہیں گھنی چھاؤں میں بیٹھ کر اپنی یادوں کے نگر میں چلے جاتے ہیں۔ ایازؔ عباسی کے قلم اور زبان سے ارزاں لفظ نکلتے دکھائی نہیں دیتے۔ آپ کے لیے مصطفی ؐکی محبت ہی وہ شے ہے جو کہ زمانے کے ظلم و ستم اور اذیتوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:
اس زمانے نے تو بس مار ہی ڈالا ہوتا
مصطفےٰؐ نے نہ اگر ہم کو سنبھالا ہوتا
ایک اُمّی ہے دانائے رازِ حیات
سرنگوں اس کے آگے خرد مند ہیں
کٹی ہیں بیسیوں راتیں وہ اپنی آنکھوں میں
جو ایک ایک گھڑی کا کہیں حساب کیا
ماجد محمود ماجدؔ بھی آزاد کشمیر کے ادبی منظرنامے کے ایک اہم نوجوان شاعرہیں۔ آپ کا پہلا شعری مجموعہ اشاعت کے آخری مراحل میں ہے۔ ماجد محمود ماجدؔ ، پروفیسر عبدالعلیم صدیقی کے شاگردوں میں سے ہیں۔ نظم و غزل دونوں اصناف میں طبع آزمائی کی لیکن اصل میدان غزل ہے۔ غزل میں زیادہ تر روایتی موضوعات پر ہی روایت کی پاسداری کی۔ ماجدؔ کے ہاں داخلی اور خارجی کیفیات کا یکساں بیان ہے جب کہ محبوب موضوعات میں پیار و محبت اور ہجرووصال کے علاوہ دنیاوی ناانصافیاں و ناہم واریاں ہیں۔ ماجد محمود ماجدؔ کے کلام کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
غمِ انساں کا مداوا نہ ہوا
لاکھ ذروں کے جگر چاک ہوئے
تشنۂ دید ہی نگاہ رہی
عمر بھر حسرتِ گناہ رہی
مِرے دل کے بت کدے میں کئی ایسے بھی صنم تھے
جنھیں توڑتے ہوئے خود میں ہزار بار ٹوٹا
[pullquote]حوالہ جات[/pullquote]
۱۔ افتخارؔ حسین مغل، ’’آزاد کشمیر میں اردو شاعری‘‘، مقالہ برائے ایم فل اردو، علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی، اسلام آباد، ۱۹۹۷ء، ص۴
۲۔ پنڈت، غلام احمد، خواجا، ’’کشمیر آزادی کی دہلیز پر‘‘، جنگ پبلشرز، لاہور، ۱۹۹۱ء، ص۷۹
۳۔ ایضاً، ص۷۹
۴۔ افتخارؔ حسین مغل، ، ’آزاد کشمیر میں اردو شاعری‘‘، ص۳۱۵
۵۔ مخلص وجدانیؔ ؔ (مرتب)، ڈاکٹر صابر آفاقی، ادبیات، مظفرآباد، ۱۹۹۳ء، ص۴
۶۔ منیرؔ نیازی، فلیپ ’’ثنا‘‘ از الطافؔ قریشی، المعیار پبلشرز، مظفرآباد، ۱۹۸۳ء
۷۔ افتخارؔ حسین مغل، ، ’آزاد کشمیر میں اردو شاعری‘‘، ص۲۷۵