استاد محترم نصرت جاوید

زندگی میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو رسمی معنوں میں استاد نہیں ہوتیں، لیکن ان کے ساتھ گزرا ہوا وقت انسان کی سوچ، رویے اور پیشہ ورانہ زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیتا ہے۔ استاد محترم نصرت جاوید میرے لیے ایسی ہی شخصیت ہیں۔

آج نیوز کے مقبول پروگرام ’’بولتا پاکستان‘‘ میں بطور پروڈیوسر مجھے ان کے ساتھ تقریباً پانچ چھ سال کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ میرے پیشہ ورانہ کیریئر کے انتہائی قیمتی سال تھے۔ میں عملی طور پر کبھی رپورٹر یا فیلڈ صحافی نہیں رہا۔ میری پوری پیشہ ورانہ زندگی کرنٹ افیئرز پروگراموں کی پروڈکشن اور اخباری کالم نگاری کے گرد گھومتی رہی ہے۔ لیکن صحافت کے بنیادی اصول جو میں نے سیکھے استاد محترم نصرت جاوید کی صحبت کا نتیجہ ہیں۔

سب سے اہم سبق یہ سیکھا کہ تحقیق، ریسرچ اور کراس چیکنگ کے بغیر کوئی خبر آگے نہیں بڑھانی چاہیے۔ وہ غیر مصدقہ معلومات کے سخت خلاف تھے۔ ان کا مؤقف واضح تھا کہ خبر کی ذمہ داری صرف اسے نشر کرنا نہیں بلکہ اس کی تصدیق کرنا بھی ضروری ہے۔ آج کے دور میں جب معلومات لمحوں میں پھیل جاتی ہیں، یہ اصول پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے۔

اور ان کا ایک جملہ جو آج بھی میرے ذہن میں نقش ہے "صحافی کو خبر دینی چاہیے، خود خبر نہیں بننا چاہیے۔” یہ جملہ بظاہر سادہ ہے لیکن پورے صحافتی فلسفے کا نچوڑ ہے۔

وہ یہ بھی کہتے تھے کہ صحافت، سیاست اور سیاست دانوں سے براہِ راست وابستہ ایک پیشہ ہے، لیکن صحافی کی اصل وقعت اس کی غیر جانبداری اور دیانت میں ہے۔ ان کا واضح مؤقف تھا کہ اگر کوئی صحافی سیاست دانوں سے ذاتی کام یا کسی قسم کا فائدہ حاصل کرے تو اس کی صحافتی ساکھ اور عزت کمزور ہو جاتی ہے۔

مجھے آج بھی یاد ہے جب لاہور میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا لائیو پروگرام ہونا تھا۔ گورنر ہاؤس کے لان میں سیٹ لگ چکا تھا۔ لائٹنگ ہو چکی تھی اور وقت کم تھا۔ لائٹنگ کے حساب سے مجھے استاد محترم نصرت جاوید کا کوٹ مناسب نہیں لگ رہا تھا۔ میں نے بطور پروڈیوسر ان سے عرض کیا کہ یہ کوٹ کیمرے پر مطلوبہ تاثر نہیں دے گا۔ انہوں نے فوراً بات سمجھ لی، گاڑی میں بیٹھے، بازار گئے اور نیا کوٹ خرید کر واپس آئے۔

اسی موقع پر استاد محترم نصرت جاوید نے ایک بات کہی جو ان کے پورے پروفیشنل فلسفے کو واضح کرتی ہے۔ وہ اس بات کو نہ صرف سمجھتے تھے بلکہ اس کا اظہار بھی کرتے تھے کہ اینکر دراصل پروڈیوسر کی پروڈکٹ ہوتا ہے۔ وہ جیسے چاہے اس کو پیش کرے۔ اس معاملے میں اینکر کو پروڈیوسر کی بات مان لینی چاہیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اسکرین پریزنٹیشن، لائٹنگ، کیمرہ اور مجموعی پروڈکشن میں پروڈیوسر کی رائے بنیادی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ وہ پورے شو کا وژن رکھتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ٹیم ورک اور پروڈکشن کی اجتماعی سوچ کو بہت اہمیت دیتے تھے۔

میرے خیال میں انہیں میرے بارے میں دو باتیں خاص طور پر پسند تھیں۔ ایک یہ کہ میں اپنے کام کو محض نوکری نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھتا تھا۔ دوسری یہ کہ ملکی و غیر ملکی اخبارات، تازہ سیاسی صورتحال اور عالمی امور پر میری نظر رہتی تھی۔ ہم اکثر انہی موضوعات پر گفتگو کرتے تھے اور وہ میری معلوماتی تیاری کو سراہتے تھے۔

استاد محترم نصرت جاوید کی ایک اور نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ خوشامد سے سخت چِڑ رکھتے تھے۔ ہمارے تعلق کی بنیاد بھی خوشامد نہیں بلکہ کام تھا۔ میں اپنے کمرے سے اٹھ کر ان کے کمرے میں صرف سلام کرنے کبھی نھیں گیا۔ جب بھی جاتا کسی خبر، پروگرام، مہمان یا پیشہ ورانہ معاملے پر بات کرنے جاتا تھا اور انہیں میری عادت پسند تھی۔

میراخیال ہے کہ مجھ سے پہلے یا بعد میں شاید ہی کوئی پروڈیوسر ان کے اتنا قریب یا اتنا بے تکلف رہا ہو۔ بعض اوقات میں اس بے تکلفی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے اختلاف بھی کر بیٹھتا تھا۔ کئی معاملات پر بحث ہو جاتی تھی، لیکن وہ ہمیشہ دلیل سننے کے قائل تھے۔ وہ کہتے تھے:

"اگر تمہاری دلیل درست ہوئی تو میں تمہاری بات مان لوں گا۔”

اور ایسا کئی بار ہوا کہ انہوں نے میری دلیل کو تسلیم کیا اور اپنی رائے تبدیل کی۔ یہ بات ان کی وسعتِ ظرف اور علمی دیانت کی علامت تھی۔

پاکستانی سیاست دانوں کی نفسیات، مزاج اور سیاسی رویوں کو جتنا استاد محترم نصرت جاوید سمجھتے ہیں، شاید ہی پاکستان میں کوئی اور صحافی اس درجے کی گہرائی رکھتا ہو۔ دہائیوں پر محیط سیاسی صحافت نے انہیں ایک ایسی بصیرت عطا کی ہے جو عام مطالعے سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ اسی لیے مختلف سیاسی حلقے ان سے اختلاف ضرور کرتے ہیں لیکن ان کی عزت سب کرتے ہیں۔

ایک واقعہ آج بھی یاد ہے جب وہ کسی معاملے پر ناراض ہو کر استعفیٰ دینے لگے۔ میں نے جذباتی طور پر کہا کہ اگر آپ جا رہے ہیں تو میں بھی استعفیٰ دے دوں گا۔ وہ مسکرائے اور کہنے لگے:

"بیوقوفی مت کرنا۔ میری اور بات ہے، تم نے گھر کا کچن چلانا ہے۔ تم نوکری چھوڑنا افورڈ نہیں کر سکتے۔”

ان کی شخصیت کا ایک سادہ پہلو بھی ہے۔ دال ماش، گرم روٹی اور ہری مرچ ان کی پسندیدہ خوراک ہے، اور اتفاق سے میری بھی۔ یہ چھوٹی چھوٹی مماثلتیں تعلق کو مزید ذاتی اور مضبوط بنا دیتی ہیں۔

آج بھی اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ، کسی پرانی خبر یا کسی اہم واقعے کی تصدیق درکار ہو تو تو میں انہی سے رابطہ کرتا ھوں فوراً واضح اور دو ٹوک رائے دیتے ہیں۔ اگر وہ کسی کام سے منع کریں تو میرا ذاتی تجربہ یہی ہے کہ عافیت اسی میں ہوتی ہے کہ ان کی بات مان لی جائے۔

میرے لیے استاد محترم نصرت جاوید صرف ایک اینکر یا تجزیہ کار نہیں بلکہ ایک ایسے استاد ہیں جنہوں نے مجھے صحافت کے بنیادی اصول، ذمہ داری، تحقیق کی اہمیت، دلیل کا احترام اور پیشہ ورانہ دیانت سکھائی۔

انسان اپنے اساتذہ کا قرض کبھی ادا نہیں کر سکتا، البتہ ان کے علم اور احسانات کا اعتراف ضرور کر سکتا ہے۔ یہ تحریر بھی اسی اعتراف کا ایک چھوٹا سا اظہار ہے۔

اور آج بھی جب صحافت کے اصول ذہن میں آتے ہیں تو ان کا ایک جملہ میرے لیے رہنمائی کا چراغ بن جاتا ہے:

"صحافی کو خبر دینی چاہیے، خود خبر نہیں بننا چاہیے۔”

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے