اسلامی سال کا پہلا دن، یکم محرم الحرام۔ نئے سال کی مبارکیں، نئے عزم، نئی دعائیں۔ لیکن تاریخ کا یہی دن ہمیں ایک ایسے عظیم سانحے کی یاد بھی دلاتا ہے جب "فاروقِ اعظم” حضرت عمر بن خطابؓ کی شہادت سے دنیا سے عدل کی وہ آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی
26 ذوالحجہ 23 ہجری، فجر کا وقت۔ مسجد نبویؐ ایمان والوں سے بھری ہوئی تھی۔ حضرت عمرؓ امامت کے لیے آگے بڑھے اور "اللہ اکبر” کہا۔ ابھی دوسری تکبیر بھی مکمل نہ ہوئی تھی کہ مجوسی غلام ابو لؤلؤ فیروز نے زہر بجھا خنجر سے یکے بعد دیگرے 6 وار کیے۔ زخم کاری تھے، مگر حضرت عمرؓ نے نماز مکمل کروائی، عبدالرحمن بن عوفؓ کو امام بنایا، پھر بے ہوش ہو گئے۔
تین دن تک موت و حیات کی کشمکش رہی۔ اس دوران بھی آپؓ کی فکر صرف امت تھی۔ خلیفہ کے انتخاب کے لیے 6 رکنی شوریٰ بنائی، بیت المال کا حساب کیا
یکم محرم 24 ہجری کو آپؓ نے جامِ شہادت پیا اور نبیؐ کے پہلو میں دفن ہوئے
حضرت عمرؓ کی 10 سالہ خلافت اسلام کی سنہری تاریخ ہے۔ آپؓ نے وہ کام کیے جو آج بھی دنیا کے لیے مثال ہیں
ہجرتِ نبویؐ سے تاریخ کا آغاز کروایا تاکہ امت کا اپنا نظامِ وقت ہو۔
صوبے بنائے، گورنر مقرر کیے، ڈاک کا نظام چلایا، فوج کے لیے رجسٹر بنائے۔ پولیس کا محکمہ قائم کیا
خود رات کو بھیس بدل کر مدینہ کی گلیوں میں نکلتے۔ ایک بار ایک عورت دردِ زہ سے تڑپ رہی تھی، آپؓ نے خود اپنی بیوی کی مدد سے مدد کی۔ صبح فرمایا: "عمر ہلاک ہو جائے اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مر جائے اور عمر سے سوال نہ ہو”۔
آپؓ کے دور میں بیت المقدس، شام، مصر، عراق، ایران فتح ہوئے۔ مگر فاتح ہونے کے باوجود بیت المقدس میں داخل ہوتے وقت آپؓ کا جبہ پرسترہ پیوند لگا ہوئے تھے
یکم محرم ہمیں دو سبق دیتا ہے۔ ایک تو یہ کہ نیا سال اللہ سے توبہ اور تجدیدِ عہد کا دن ہے۔ دوسرا یہ کہ قومیں عدل سے کھڑی ہوتی ہیں اور ظلم سے مٹ جاتی ہیں۔ حضرت عمرؓ نے ثابت کیا کہ حکمران اور رعایا کے درمیان دیوار نہیں، دل کا رشتہ ہونا چاہیے۔
آج جب ہم مہنگائی، ناانصافی اور بے حسی کا رونا روتے ہیں، تو حضرت عمرؓ کی سیرت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ وہ خلیفہ تھے، مگر رات کو یتیموں کے لیے آٹا گوندھتے تھے۔ وہ فاتح تھے، مگر خود کو "عمر” کہلوانے پر فخر کرتے تھے، "امیر المومنین” کے لقب پر نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت عمرؓ کی سیرت اپنانے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔ یا رب العالمین