دوحا: افغان طالبان نے سفری پابندیوں کے باعث پاکستان کا دورہ ملتوی کردیا۔
افغان طالبان کے وفد کو افغان مفاہمتی عمل کے سلسلے میں پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق آج اسلام آباد پہنچنا تھا تاہم اقوام متحدہ اور امریکا کی جانب سے عائد کردہ سفری پابندیوں کے باعث طالبان پاکستان نہیں آرہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق افغان طالبان کے قطر میں موجود سیاسی دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مذاکراتی ٹیم کو افغان امن مذاکرات کے سلسلے میں پاکستان کا دورہ کرنا تھا جو سفری پابندیوں کی وجہ سے ملتوی کردی گیا ہے تاہم مذاکرات کے لیے نئی تاریخ طے کی جائے گی۔
افغان طالبان کے وفد کی وزیراعظم عمران خان اور امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد و دیگر حکام سے ملاقاتیں کرنا تھیں تاہم دورہ ملتوی کرنے سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
یاد رہے کہ افغانستان میں امریکا کی جانب سے چھیڑی جانے والی طویل جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں، اور اسی سلسلے میں مذاکرات کا ایک دور آج سے اسلام آباد میں شیڈول تھا۔
طالبان وفد کے 9 اراکین اقوام متحدہ اور امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
افغان طالبان کی جانب سے دورہ پاکستان اس وقت ملتوی کیا گیا کہ جب افغانستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں افغان طالبان کے دورے پر احتجاج کیا گیا۔
اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں افغان مندوب کی جانب سے جمع کرائے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ طالبان اور پاکستان کے مذاکرات افغانستان کی خودمختاری کے خلاف ہیں۔
طالبان اور افغانستان کی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان ماسکو میں 5 اور 6 فروری کو مذاکرات ہوئے جس میں کئی اہم معاملات پر اتفاق کیا گیا تاہم اس کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
افغان صدر اشرف غنی پہلے بھی کئی مرتبہ طالبان کو مذاکرات کی پیشکش کرچکے ہیں تاہم طالبان افغان قیادت کو امریکا کی کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے حکومت سے مذاکرات سے انکاری رہے ہیں اور وہ براہ راست امریکا سے مذاکرات کر رہے ہیں۔
طالبان وفد کے 9 اراکین اقوام متحدہ اور امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
افغان طالبان کی جانب سے دورہ پاکستان اس وقت ملتوی کیا گیا کہ جب افغانستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں افغان طالبان کے دورے پر احتجاج کیا گیا۔
اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں افغان مندوب کی جانب سے جمع کرائے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ طالبان اور پاکستان کے مذاکرات افغانستان کی خودمختاری کے خلاف ہیں۔
طالبان اور افغانستان کی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان ماسکو میں 5 اور 6 فروری کو مذاکرات ہوئے جس میں کئی اہم معاملات پر اتفاق کیا گیا تاہم اس کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
افغان صدر اشرف غنی پہلے بھی کئی مرتبہ طالبان کو مذاکرات کی پیشکش کرچکے ہیں تاہم طالبان افغان قیادت کو امریکا کی کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے حکومت سے مذاکرات سے انکاری رہے ہیں اور وہ براہ راست امریکا سے مذاکرات کر رہے ہیں۔