ترکی میں‌گزرے چندایام کی حسیں یادیں(قسط دوم)

‎18 جون کے دن ہم نے مضافاتی تاریخی مقامات جو ہماری رہائش کے قربُ وجوار میں، تاقسم سکوائر، گلاٹا ٹاور اور استقلال سٹریٹ کی سیر کی- تاقسم سکوائر کو تقسم سکوائر یا ہماری دیسی زبان کا “چوک” یا گھنٹہ گھر ہے، جہاں سے استنبول شہر کے چاروں طرف راستے جاتے ہیں – گلاٹا ٹاور بازنتینوں کے زمانے کا تعمیر شدہ دفاعی ٹاور ہے، جو ان کے بعد آنے والوں اور ترکوں نے نہ صرف بحال رکھا بلکہ اس کو اور بہتر بنایا جو نو منزلوں پر مشتمل ہے- سات منزلوں تک لفٹ بھی ہے- اس کی چوتھی منزل سے اوپر سارا استنبول شہر قدم بوسی کرتا ہے – یہ ٹاور قسطنطنیہ ، جو اب استنبول کہلاتا ہے ، کا بازنطینی عیسائیوں کا مرکزی دفاعی قلعہ تھا ، جس کو عثمانی ترکوں کے اکیس سالہ سلطان محمد ثانی نے 29 مئی 1453 میں فتح کرکے عیسائی دور کو ختم کرکے مسلمانوں کے زیر تسلط لایا جو اب تک چل رہا ہے اور امید ہے کہ ترکی کی موجودہ قیادت اس کے نشاۃ ثانیہ کا باعث بنے-

تاقسم اسکوائر

‎استقلال سٹریٹ یہاں کا پر رونق اور پوش بازار ہے جو ہمارے اسلام آباد کے بلیو ایریا ، لاھور کے لبرٹی ، گلبرگ اور ایم ایم عالم روڈ کی طرح کا ہے-

استقلال اسٹریٹ

‎انیس جون کو ہم نے “ ٹوپ کاپی Topcopy Museum میوزیم “ جو عثمانی بادشاہوں ، خلفاء کا محل ہوتا تھا اور اب میوزیم میں تبدیل کیا گیا ہے، بلیو ماسک یا سلطان احمد ماسک جس کا مخفف سلطانی ماسک ہے ، کے علاوہ شام کو بحیرہ مرمرہ جسے آبنائے باس فورس بھی کہتے ہیں کی سیر کی – میوزیم کسی زمانے میں محل ہواکرتا تھا جس کا ایک حصہ حرم پہ مشتمل تھا جہاں بادشاہوں اور شہزادوں کی بیگمات ، کنیزیں، بچے اور ان کے خدمت گذار خواجہ سراؤں کے علاوہ کسی کا عمل دخل نہیں ہوتا تھا – چھتوں سے قدرتی روشنی اور دھوپ کا خوبصورت اور قدرتی نظام دیدہ زیب ہے – کھلے، ہوادار ، دلچسپ رنگ و روغن اور نقش و نگار سے مزّین کمرے ، بارہ دریاں اور کشادہ گلیوں سے منسلک سینکڑوں کمرے آج بھی سلطانی جھلک سے بارعب نظر آتے ہیں . بیگمات کی پر تعیش آرام گاہیں اور کہیں کہیں ان کے زیر استعمال رہنے والی کچھ چیزیں بھی محفوظ ہیں-

میوزیم میں داخلہ کی فیس کے علاوہ اس کو دیکھنے کے لئے الگ فیس بھی لی جاتی ہے- اس محل کا دوسرا حصہ سرکاری امور کی انجام دہی اور وی آئی پی مہمانوں کے لئے مہمان خانوں پر مشتمل تھا ، اب اس زمانے کے بادشاہوں کی تصاویر ، فتوحات، اہلبیت، صحابہ کرام اور مشاہیر اسلام کے تبرکات اور نوادرات محفوظ رکھے گئے ہیں ، جنہیں ترک سلطنت عثمانیہ کی حکومت کے دوران حجاز سے استنبول منتقل کیا گیا ہے – ہر ایک کے نیچے اس کی تفصیل درج ہے جسے زوم کرکے پڑھا اور دیدار کیا جا سکتا ہے، جو میری ٹائم لائن پر دیکھے جا سکتے ہیں-

ٹوپ کاپی میوزیم

‎اسی روز شام کو ہم لوگوں نے بحیرہ مرمرہ کے اندرکروز میں سیر کی جو نو بجے کے قریب شروع ہوئی اور رات بارہ بجے ختم ہوئی- یہ بہت دلچسپ نظارہ تھا – بحیرے کے دونوں طرف آباد شہر کی بجلی کے قمقموں ، کروز میں جگمگاتی روشنیوں ، بحر میں رواں دیگر کروز نے رات کو دن میں بدل دیا تھا – ہماری کروز میں سولہ ملکوں کے لوگ تھے جن میں سب سے زیادہ مختلف ملکوں میں آباد پاکستانی تھے – ہر ملک کے لوگوں کے لئے کروز کے اندر ڈنر کے لئے ٹیبل مختص تھے ،جن پر ان ملکوں کے فلیگ رکھے گئے تھے- ہر ملک کے مقبول قومی نغموں کی ریکارڈنگ اور اس پر ڈانسنگ حب الوطنی کے جذبے کو انگیخت کرتی تھی-“ جیوے جیوے پاکستان “ اور “ میں پاکستان ہوں ، میں زندہ باد ہوں—-“ نے ماحول میں ارتعاش پیدا کردیا –

ترکی کا کھانا تھا جو گوشت اور مچھلی کے علاوہ بے شمار سلاد اور چٹنیوں پر مشتمل تھا، اس کے علاوہ سادہ پانی، جوس، اپنی اپنی پسند کے پر خمار اور بے خمار مشروب بھی تھے- تین گھنٹے کے سفر میں کروز کے اندر ، چھت اور ٹیرسسز پر لوگ بھرپور انجوائے کررہے تھے، کچھ اپنے بچوں ، فیملی اور دوستوں کے ساتھ اور کچھ “مستعارالخدمتی دوستوں “ کے ساتھ ، جام و مینا ، بوس و کنار اور کچھ جوس و پانی پی کر اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے- لیکن ہر کوئی اپنی اپنی فکر کے مطابق کیف و مسرت سے بھر پور تھا- اس کا کرایہ فی کس ساٹھ ڈالر بشمول جملہ اخراجات تھا ، لیکن ہمیں ایک عزیز کی وساطت سے تیس ڈالر فی کس دینا پڑا جس میں رہائش سے کروز تک لانا لے جانا بھی شامل تھا-

بحیرہ مرمرہ

بیس جون کو” مینیا ترک “ یعنی” چھوٹا ترک “(Miniaturk) اور “ قوس قزح کی سیڑھیاں “ دیکھنے کا پروگرام تھا- (Rainbow stairs) یہ آبنائے مرمرہ کے کنارے سیڑھیوں پر قوس قزح کے رنگ بکھیرے گئے ہیں جو بارش اور پانی میں منعکس ہوکر روح پرور نظارہ پیش کرتے ہیں – لیکن بارش ہو جانے کی وجہ سے ہم وہاں نہ جا سکے اور بارش ختم ہونے کے بعد ہمارے دوسرے پروگرام کا وقت ہوگیا اور اس دلچسپ نظارے سے محروم ہو گئے – اچھے مزاج کے لوگ معمولی معمولی چیزوں میں دلچسپی پیدا کرکےروح ، طبعیت اور مزاج کو شگفتگی بخشتے ہیں ، خوشیوں میں اضافہ کرتے ہیں ، یہی کچھ یہاں بلکہ سارے یورپ اور امریکہ میں ہوتا ہے لیکن ایک ہم ہیں کہ اچھی بھلی چیزوں کا حلیہ بگاڑ کر طبعیت کے لئے بوجھ بنا دیتے ہیں –

مینیا ترک

مینیا ترک (Miniaturk) یعنی چھوٹا ترک ، چار پانچ ایکڑ زمین پر پورے ترکی کی تاریخی یاد گاروں ، تاریخی مقامات، تعمیر و ترقی کی تاریخ کے ماڈلز بنائے گئے ہیں- میرے خیال میں ترکی کی تاریخ کو سمجھنے اور اہم مقامات کو دیکھنے میں دلچسپی لینے والے لوگ اس ماڈل کو دیکھنے کے بعد انتخاب کریں کہ کون سے مقامات کہاں اورکب دیکھنے ضروری ہیں – عمومی طور سفر بس ، ٹرین یا ٹرام میں کرنا چاہیے جو نسبتآ سستا پڑتا ہے- یہاں عمومی طور ان سواریوں کے لیے کارڈ استعمال کیے جاتے ہیں ، نقد لین دین کم ہی ہوتا ہے – مالی معاملات میں ایک ڈسپلن لگتا ہے – ان ملکوں میں اگر ڈرائیونگ کا تجربہ اور لائسنس رکھنے والے لوگ گاڑی کرایہ پر لے کر سفر کریں تو زیادہ سستا اور مناسب رہتا ہے – ٹیکسی عمومی طور مٹیر پر چلتی ہے اور ٹیکسی والے عمومآ ہیر پھیر کرکے میٹر کی رقم بڑھاتے ہیں – ہمارے ساتھ ایک ایسا واقعہ ہوا ، تین کلو میٹر کا سفر سترہ تک پہنچا دیا لیکن میں نے بھی پھر ویسا ہی سلوک کیا، کیونکہ اللہ کا حکم ہے کہ اس سے زیادہ بدلہ نہ لو جتنی زیادتی ہوئی ہے –

(جاری ہے…..)

پہلی قسط یہاں پڑھیں

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے