پشتو اکیڈمی پشاور کا بقا ضروری ہے

19 اگست 2026ء کو روزنامہ وحدت میں خان عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے شعبۂ پشتو کے اسسٹنٹ پروفیسر اور چیئرمین، ڈاکٹر ظفراللہ بخشالی کا ایک مضمون ’’پشتو اکیڈمی پشاور یونیورسٹی‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ یہ مضمون پشتو اکیڈمی پشاور یونیورسٹی کے بانی ڈائریکٹر، مولانا عبدالقادر، کے نام ایک خط کی صورت میں ہے۔

مولانا عبدالقادر کی پشتو اکیڈمی سے محبت لازوال تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی پشتو زبان و ادب، ثقافت، تحقیق اور تنقید کے لیے وقف کر دی تھی۔ کسی ملک یا ادارے کا بانی اس وقت حقیقی خدمت انجام دیتا ہے جب وہ اپنے بعد کام کرنے والے اہل لوگوں کی ایسی جماعت تیار کر جائے جو آسمان کے ستاروں کی مانند اس ادارے کو اپنے وجود اور علمی و عملی خدمات سے روشن رکھے۔
مولانا عبدالقادر کے بعد محمد انور طائر تک جن اہلِ علم نے اس ادارے کو منور رکھا، انہوں نے پشتو زبان و ادب، ثقافت، تخلیق اور تحقیق کے حوالے سے قابلِ قدر اور قابلِ تحسین خدمات انجام دیں۔ دوسرے دور میں ڈاکٹر راج ولی شاہ خٹک، ڈاکٹر سلمیٰ شاہین اور ڈائریکٹر نصراللہ جان وزیر نے بھی گراں قدر کام کیا۔

ہم نے مولانا عبدالقادر کی پشتونولی اور اپنی قائم کردہ و پروان چڑھائی ہوئی درسگاہ سے بے پناہ محبت کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ انہوں نے وصیت کی تھی کہ میرے انتقال کے بعد میری میت کو اسی اکیڈمی کے قریب دفن کیا جائے۔ آج مولانا عبدالقادر کی قبر پشتو اکیڈمی کے ساتھ موجود ہے۔ ان کی قبر کی وہاں موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ پشتو اکیڈمی برقرار رہنی چاہیے۔ البتہ اگر تدریسی شعبہ، یعنی پشاور یونیورسٹی کا شعبۂ پشتو، میں ضم کیا جاتا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں، کیونکہ تدریس اور تحقیق دو الگ نوعیت کے کام ہیں۔

ڈاکٹر ظفراللہ، چونکہ ایک ذمہ دار پروفیسر اور اپنی یونیورسٹی کے شعبے کے سربراہ ہیں، اس لیے ان کا خط اکیڈمی کے بانی، ڈاکٹر مولانا عبدالقادر، کے نام ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’محترم بزرگ مولانا عبدالقادر صاحب! سلام عرض ہے۔آپ نے تو اکہتر سال پہلے ہمارے سروں پر سایہ کرنے کے لیے ایک درخت لگایا تھا۔ اس درخت کو لگے اکسٹھ سال ہو گئے ہیں۔ ہم نے اس کا بہت سا پھل کھایا، بہت سے لوگ اس کے سائے تلے بیٹھے اور آج بھی ہم اسی کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ کیا آپ کے وہ مقاصد پورے ہو گئے، جن کے لیے آپ نے یہ درخت لگایا تھا؟

اگر آپ کو یاد ہو تو آپ نے کہا تھا کہ جب 1949ء میں پشاور یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی تو یونیورسٹی کے اربابِ اختیار نے یہ محسوس کیا کہ پشتو زبان و ادب کی ترقی کے لیے ایک الگ علمی و تحقیقی ادارہ ہونا چاہیے۔ اسی مقصد کے تحت 1955ء میں پشتو اکیڈمی کی بنیاد رکھی گئی اور اس علمی ادارے کی سربراہی میرے ذمے سونپی گئی۔‘‘

نہیں معلوم کہ ڈاکٹر ظفراللہ بخشالی کے دل کی اس کسک کو کتنے لوگوں نے محسوس کیا ہوگا؛ مگر آٹھ، نو کروڑ پشتونوں کے سینکڑوں شاعروں، ادیبوں، محققوں، ناقدوں، صحافیوں، سیاسی رہنماؤں، سیاسی کارکنوں، وکیلوں، اساتذہ، لیکچراروں اور پروفیسروں میں صرف گل محمد بیتاب نے اس خاموشی کو محسوس کیا۔ بعد ازاں آفتاب گلبن میدان میں اترے اور ساکت دریا میں حرکت پیدا کی۔ ہر کوئی پشتو اکیڈمی پشاور یونیورسٹی کی بقا کے لیے کھڑا ہو گیا۔

زندہ قومیں ادارے بناتی ہیں، انہیں برباد نہیں کرتیں۔ لیکن ہم بدقسمت قوم ہیں کہ اپنے پاکیزہ اور مخلص رہنماؤں کے قدموں کے نشانات تک مٹا دیتے ہیں۔

پشتو اکیڈمی پر اس سے پہلے بھی ایک مرتبہ شب خون مارنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس وقت بھی شعبۂ پشتو اور پشتو اکیڈمی کو باہم ضم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ڈاکٹر سلمیٰ شاہین نے پروفیسر ڈاکٹر محمد ہمایوں ہما، فیروز خان آفریدی، قمر راہی، پیر گوہر اور دیگر احباب کے تعاون سے عدالت سے رجوع کیا۔عدالت نے دونوں اداروں کے انضمام کو غیر قانونی قرار دیا، کیونکہ دونوں کا قانونی و انتظامی ڈھانچہ اور سرپرستی الگ الگ تھی۔

پشتو اکیڈمی پشاور پوری دنیا میں پشتو زبان و ثقافت کا واحد تحقیقی ادارہ ہے۔ افغانستان کی علوم اکیڈمی افغانستان کی تمام زبانوں کی اکیڈمی ہے، جبکہ کوئٹہ کی پشتو اکیڈمی ایک غیر سرکاری تنظیم ہے، تحقیقی ادارہ نہیں۔

مولانا عبدالقادر پشتو اکیڈمی کے حوالے سے اپنے ایک کتابچے میں لکھتے ہیں:

’’پاکستان کے قیام کے ایک سال بعد، یعنی 1948ء میں، پشتون ادیبوں، عالموں اور مفکروں نے اسلامیہ کلب پشاور کے وسیع ہال میں حاجی صاحب ترنگزئی کے بڑے صاحبزادے، باچا گل صاحب، کی صدارت میں ایک جلسہ منعقد کیا، جس میں پشتو زبان اور پشتون تمدن کی ترقی اور پیش رفت کے سلسلے میں بڑی اچھی اور مفید تجاویز پر غور کیا گیا۔ منجملہ ان کے پشتو اکیڈمی کے قیام کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔۔۔ آخر وہ تخم آٹھ سال بعد بارآور ہوا۔‘‘

لہٰذا یہ بات واضح ہے کہ پشتو اکیڈمی پشاور ایک تحقیقی ادارہ ہے، جبکہ شعبۂ پشتو ایک تدریسی ادارہ ہے۔

مجھے نہیں معلوم کہ پشتو اکیڈمی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی کلاسیں شروع کرنے کا حکم کس نے دیا تھا۔ جو بھی وہ شخص تھا، وہ پشتو کا خیرخواہ نہیں تھا۔ اس کا مقصد شاید یہی تھا کہ کچھ عرصے تک یہ کلاسیں چلائی جائیں، پھر انہیں شعبۂ پشتو میں ضم کر دیا جائے اور یوں دنیا میں پشتو زبان کے اس منفرد تحقیقی ادارے کا وجود ہی ختم کر دیا جائے۔یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر سلمیٰ شاہین کی ریٹائرمنٹ کے بعد پشتو کا یہ ادارہ ایک مرتبہ پھر تباہی کے کنارے پہنچ گیا تھا۔ اس وقت ڈاکٹر نصراللہ جان وزیر اس ادارے کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ انہی دنوں خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے ہندکو گندھارا اکیڈمی کے لیے سالانہ بجٹ میں سات کروڑ روپے مختص کیے تھے۔

چغرزی، بونیر میں ایک ادبی تقریب منعقد ہوئی، جس میں صوبے بھر کے نمائندہ شعرا اور ادیب شریک تھے۔ ڈاکٹر نصراللہ جان وزیر بھی اس تقریب میں آئے تھے۔ اس تمام صورتِ حال پر غور و خوض کے بعد ایک قرارداد کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں راقم الحروف اقبال حسین افکار، ڈاکٹر خالق زیار اور پروفیسر آسیر منگل کو اراکین مقرر کیا گیا۔ احباب نے مجھے قرارداد لکھنے کی ذمہ داری سونپی۔

بعد میں کمیٹی نے اس میں معمولی ردوبدل کرکے تقریب میں شریک شعرا و ادبا کو پڑھ کر سنایا۔تقریب کی صدارت جناب رحمت شاہ سائل فرما رہے تھے، جبکہ ڈاکٹر نصراللہ جان وزیر مہمانِ خصوصی تھے۔ قرارداد اجلاس میں منظور ہوئی اور تمام شرکا نے اس پر دستخط کیے۔ یہی قرارداد مختلف ذرائع سے عام الناس اور خواص تک پہنچائی گئی۔

ڈاکٹر نصراللہ جان وزیر نے یہ قرارداد جناب سکندر شیرپاؤ کے ذریعے وزیراعلیٰ جناب پرویز خٹک تک پہنچائی۔ دونوں پشتون سیاسی رہنماؤں نے فوری طور پر اکیڈمی کے لیے خطیر فنڈ بھی فراہم کیا اور کہا کہ اس اکیڈمی کو دنیا کی بہترین اکیڈمیوں کے مقابلے کی ایک مضبوط علمی و تحقیقی اکیڈمی بنایا جائے گا۔اس سلسلے میں بہت سی عملی اور کاغذی کارروائی شروع ہوئی، لیکن آخری مرحلے پر پشاور یونیورسٹی کے ایک وائس چانسلر نے ڈاکٹر نصراللہ جان وزیر کو اس کام سے روک دیا۔

اسی دور میں کسٹمز کے ایک اعلیٰ افسر نے انتہائی رعایتی، بلکہ تقریباً مفت قیمت پر، ایک نئی ہائی ایس گاڑی ڈاکٹر نصراللہ جان وزیر کی کوششوں سے پشتو اکیڈمی کو فراہم کی۔ ممکن ہے آپ میں سے کسی نے اس گاڑی میں سفر بھی کیا ہو۔ اس ہائی ایس کو بھی وائس چانسلر نے یونیورسٹی کے پول میں لے لیا۔

پیر روشان ریسرچ سنٹر کی نئی عمارت بھی یونیورسٹی کے فنڈ سے تعمیر نہیں ہوئی، بلکہ ایک نیک دل پشتون فوجی جنرل کی معاونت اور سرپرستی سے تعمیر ہوئی، جن کا تعلق خوشحال خان خٹک کے قبیلے سے تھا۔

اگر میں ڈاکٹر نصراللہ جان وزیر کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں تو اس لیے کہ انہوں نے اپنی تمام صلاحیتیں قومی مفاد کے لیے استعمال کیں۔ آئیے، ہم سب بھی اپنی تمام صلاحیتیں پشتو اکیڈمی کی بقا کے لیے استعمال کریں۔

ہم سنڈیکیٹ کے فیصلے کو سر آنکھوں پر رکھتے ہیں۔ بلاشبہ پشتو اکیڈمی کی تدریسی حیثیت ختم کر دی جائے اور اساتذہ کو بھی شعبۂ پشتو میں منتقل کر دیا جائے، لیکن پشتو اکیڈمی کو بہرحال بحال اور برقرار رکھا جائے۔

اس ادارے کی ایک تاریخی حیثیت ہے۔ اس میں بہت سے پرانے مسودے پڑے ہوئے ہیں۔ آج جب پختونوں کی تاریخ کی کڑیاں ملانے میں دشواری محسوس ہو رہی ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہر دور میں اہم دستاویزات اور آرکائیوز کو لوٹا گیا ہے۔ ہم پشتو اکیڈمی کی حیثیت اور شناخت کو کبھی ختم نہیں ہونے دیں گے۔

اس سلسلے میں صوبائی حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اگر یونیورسٹی یہ ادارہ نہیں چلا سکتی تو صوبائی حکومت کو اسے اپنے زیرِ انتظام لے لینا چاہیے۔ بصورتِ دیگر، یونیورسٹی انتظامیہ کو اس مقصد کے حصول کے لیے رضاکارانہ بنیادوں پر ایک بورڈ تشکیل دینا چاہیے، جس میں ڈاکٹر سلمیٰ شاہین، ڈاکٹر نصراللہ جان وزیر، ڈاکٹر آباسین یوسفزئی، ڈاکٹر فخرالاسلام، ڈاکٹر فضل رحیم مروت، ڈاکٹر ہمایوں ہما، ڈاکٹر احسان علی، جناب رحمت شاہ سائل، ڈاکٹر عثمان ولس یار، ڈاکٹر قمر صحرائی، ڈاکٹر یار محمد مغموم، ڈاکٹر زبیر حسرت اور چند دیگر اہلِ علم کو شامل کیا جائے۔

کچھ کیجیے، کوئی عملی قدم اٹھائیے اور تاریخ میں اپنا نام محفوظ کیجیے، تاکہ آنے والی نسلیں یہ کہہ سکیں کہ مولانا عبدالقادر کی طرح آپ پر بھی پشتون فخر کرتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے