جناب افتخار عارف اور ڈاکٹر راشد حمید میری نظر میں

نہ جانے بعض لوگوں کو کیوں خواہ مخواہ افتخار عارف اور ڈاکٹر راشد حمید کا فوبیا ہو گیا ہے۔ یہ دونوں علمی و ادبی شخصیات تو نہایت نفیس، شفیق، ملنسار اور غریب پرور انسان ہیں۔ ہم نے کبھی بھی ان دونوں شخصیات کو کسی کی پیٹھ پیچھے باتیں کرتے ہوئے نہ دیکھا، نہ سنا ہے۔ آخر آج کل یہ لوگ کیوں ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں؟

ہم نے جب بھی افتخار عارف سے بات کی ہے، انہوں نے اپنے بُرے دنوں کو یاد کیا ہے۔ افتخار عارف کی شخصیت کی عظمت یہی ہے کہ وہ اپنے بُرے دنوں کو کبھی نہیں بھولے اور آج بھی ان کا برملا ذکر کرتے ہیں۔ ان کے ہر انٹرویو اور ان پر لکھی گئی کتابوں میں ان کے خاندانی پس منظر اور ان کے مشکل دنوں کا ذکر موجود ہے۔

جناب افتخار عارف عمدہ، صاحبِ طرز و اسلوب شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت دردِ دل رکھنے والے انسان ہیں۔ انہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت اس سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ سماج میں اپنے لیے عزت و وقار کا مقام بنایا ہے۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے عملی زندگی کا آغاز کرتے ہوئے وہ اکادمی ادبیات پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل اور بعد ازاں چیئرمین کے منصب تک پہنچے۔

ان کے دور میں اس ادارے میں ’’علاقائی زبانوں‘‘ جیسی اصطلاح کے بجائے ’’پاکستانی زبانوں‘‘ کی اصطلاح استعمال ہونے لگی۔ میرے نزدیک یہ ایک اہم تبدیلی تھی، کیونکہ پاکستان کی مختلف زبانیں محض علاقائی زبانیں نہیں بلکہ اس ملک کے ادبی اور ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔

آج اکادمی ادبیات پاکستان میں ادبی تنظیموں کے اجلاسوں اور پروگراموں کا جو سلسلہ نظر آتا ہے، اس کی ابتدا بھی افتخار عارف کے دور میں ہوئی تھی۔ ان کی چیئرمین شپ کے دوران اکادمی ادبی تنظیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کرتی تھی۔ اسی دور میں ’’معمارِ ادب‘‘ جیسے اہم سلسلے کا آغاز بھی ہوا۔

میں بحیثیتِ پشتو شاعر و ادیب خود اس کا گواہ ہوں کہ افتخار عارف کے دور میں اکادمی کے تعاون سے پشاور میں غنی خان کے اعزاز میں تقریب منعقد ہوئی۔ پشتو اور ہندکو مشاعرے منعقد ہوئے، جبکہ اسلام آباد میں پشتو ادبی سوسائٹی اسلام آباد کے تعاون سے قلندر مومند، تقویم الحق کاکاخیل، سمندر خان سمندر، امیر حمزہ خان شنواری اور دیگر ادبی شخصیات کی یاد میں بھی بڑے بڑے پروگرام منعقد کیے گئے۔ ان پروگراموں کے انعقاد میں افتخار عارف کا تعاون ہمارے لیے ہمیشہ قابلِ قدر رہا ہے۔

رہی بات ڈاکٹر راشد حمید کی، تو میں ان کی صلاحیتوں اور قابلیت سے انکار نہیں کرتا۔ وہ اپنی صلاحیت اور تجربے کی بنیاد پر ڈپٹی ڈائریکٹر، ڈائریکٹر جنرل اور قائم مقام چیئرمین جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ یہ ان کی اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا نتیجہ ہے۔

جناب افتخار عارف کے دور میں صرف ڈاکٹر راشد حمید کی تعیناتی نہیں ہوئی، بلکہ ڈاکٹر علی یاسر، جناب اختر رضا سلیمی، جناب خرم خرام (آڈیٹر، انگریزی پاکستانی لٹریچر)، یوسف خان اور دیگر بہت سے افراد کو خالی آسامیوں پر تعینات کیا گیا تھا۔ کیا یہ کوئی ناجائز کام تھا؟ ان تمام شخصیات کی اہلیت کے تو آج سب معترف ہیں۔

افتخار عارف نہ صدرِ پاکستان تھے، نہ وزیراعظم اور نہ وفاقی وزیر کہ وہ اپنی مرضی سے لوگوں کو اتنے بڑے بڑے عہدوں پر تعینات کرتے۔ اس لیے ڈاکٹر راشد حمید کی پیشہ ورانہ ترقی کو افتخار عارف کی ذاتی عنایت قرار دینا میرے نزدیک درست نہیں۔

پچھلی مرتبہ ڈاکٹر راشد حمید ٹیسٹ اور انٹرویو کے لیے شارٹ لسٹ ہونے والے امیدواروں میں پہلے نمبر پر تھے، لیکن شارٹ لسٹ میں شامل کسی شخصیت کو چیئرمین مقرر کرنا وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہے۔ اس معاملے کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

میری خواہش اور دعا ہے کہ اللہ کریم اس دفعہ ڈاکٹر راشد حمید کو اکادمی ادبیات پاکستان کا چیئرمین بننے کا موقع عطا فرمائے۔ اگر وہ اس منصب کے لیے موزوں ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے آسانی پیدا فرمائے اور انہیں پاکستانی زبانوں اور ادب کی خدمت کی توفیق دے۔ آمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے