ڈاکٹر شیر علی کا تعلق نوشہرہ کے گاؤں اکبرپورہ سے ہے۔ وہ اردو زبان کے پروفیسر ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے اسلام آباد کی علمی و ادبی فضا میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ کچھ عرصہ وہ ڈیپوٹیشن پر اکادمی ادبیات پاکستان میں بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ اسی دوران ان کی پروفیسر کے عہدے پر ترقی ہوئی، تاہم ترقی کے ساتھ یہ شرط عائد تھی کہ انہیں اپنے کالج میں حاضری دینا ضروری ہوگا۔
ڈاکٹر شیر علی نے تدریس کے شعبے میں واپس جانے کو ترجیح دی۔ بعد ازاں وہ الحمد یونیورسٹی سے وابستہ ہوگئے، جہاں انہوں نے مختصر عرصے میں بہت زیادہ علمی و ادبی کام کیا۔ تدریس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مختلف قومی اور بین الاقوامی موضوعات پر کانفرنسوں اور سیمیناروں کا انعقاد کیا، جس سے الحمد یونیورسٹی کے وقار میں اضافہ ہوا اور نئی نسل کے لیے مکالمے کی ایک مثبت فضا بھی قائم ہوئی۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اسلام آباد روشنیوں کا شہر، بیوروکریسی کا شہر اور صاحبانِ اقتدار کا شہر ہے، لیکن پاکستان کے مختلف شہروں اور دیہات سے آنے والے مختلف زبانوں کے شعرا، ادیبوں اور اہلِ علم نے اپنی علمی و ادبی سرگرمیوں کے ذریعے یہاں ایک بھرپور ادبی فضا قائم کر رکھی ہے۔ اس سلسلے میں علم و ادب اور ثقافت کے نام سے قائم سرکاری ادارے اور مختلف جامعات بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
غیر سرکاری ادبی تنظیموں میں آج کل ڈاکٹر شیر علی کی تنظیم ’’بزمِ ادب‘‘ اور نامور شاعر و شگفتہ مزاج شخصیت جناب محبوب ظفر کی تنظیم ’’زاویہ‘‘ خاصی سرگرم ہیں۔ کبھی کبھی ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں دونوں تنظیموں کی ادبی تقریبات منعقد ہوتی ہیں، لیکن ان دونوں حضرات کی محبت اور خلوص ہمیں اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ دونوں ادبی تقریبات سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کریں۔
گزشتہ دنوں شدید گرم موسم بھی ان حضرات کے حوصلے پست نہ کرسکا، تاہم ہماری اپنی مصروفیات اور مجبوریوں نے ہمیں دو تین تقریبات میں شرکت سے محروم رکھا۔
7 اگست 2026ء، بروز جمعہ، ڈاکٹر شیر علی کی ادبی تنظیم ’’بزمِ ادب‘‘ کے زیرِ اہتمام پشاور، خیبر پختونخوا کی ممتاز علمی و ادبی شخصیت پروفیسر ڈاکٹر روبینہ شاہین کے اعزاز میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔ اسی روز اکادمی ادبیات پاکستان میں 2025ء کے کمالِ فن ایوارڈ اور مختلف کتابی ایوارڈز کے اعلان کی تقریب بھی تھی۔ تاہم میں پہلے ہی ڈاکٹر روبینہ شاہین کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں شرکت کا فیصلہ کرچکا تھا، اس لیے ساڑھے بارہ بجے تقریب میں پہنچ گیا۔
جمعہ کا دن تھا، اس لیے روحانی سکون کے لیے بروقت مسجد کا رخ کیا۔ جب اکادمی ادبیات پاکستان پہنچا تو ڈاکٹر اباسین یوسفزئی تیزی سے واپس جا رہے تھے۔ وہ کمالِ فن ایوارڈ کی جیوری کے رکن تھے۔ انہی سے معلوم ہوا کہ اس سال کمالِ فن ایوارڈ بلوچستان کے معروف شاعر و ادیب عبدالرحمان براہوی کو دیا گیا ہے۔
پشتو شاعری کی کتابوں کے لیے جمشید احمد جمشید اور ڈاکٹر کلیم شنواری کو ایوارڈ دیے گئے، جبکہ نثر کے شعبے میں جناب گل محمد بیتاب کی خاکوں کی کتاب ’’د اباسین په غاړه‘‘ کو ایوارڈ دیا گیا۔ میں نے جناب بیتاب کو مبارک باد کے لیے فون کیا۔ وہ اس وقت اوپن یونیورسٹی میں تھے۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا، میں ڈاکٹر روبینہ شاہین کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں شرکت کا پہلے ہی فیصلہ کرچکا تھا، اس لیے باقی وقت اکادمی میں ادبی دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں گزرا۔
تقریب کی صدارت نامور شاعر جناب افتخار عارف نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی اکادمی ادبیات پاکستان کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف تھیں۔ اعزازی مہمانوں میں فیصل آباد سے ڈاکٹر طارق ہاشمی، پشاور سے ڈاکٹر محمد سہیل، جناب حمید شاہد، ہزارہ یونیورسٹی سے ڈاکٹر محمد الطاف یوسفزئی، نمل یونیورسٹی اسلام آباد سے ڈاکٹر سعدیہ طاہر، ڈاکٹر صدف نقوی، ڈاکٹر انتل ضیا اور ڈاکٹر حمیرا اشفاق شامل تھیں۔
تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر شیر علی نے انجام دیے۔ مقررین نے ڈاکٹر روبینہ شاہین کی اعلیٰ اوصاف کے ساتھ ساتھ ان کی تدریسی، تخلیقی، تحقیقی، تنقیدی، براڈکاسٹنگ اور انتظامی صلاحیتوں اور خدمات کو تفصیل سے بیان کیا۔
مقررین نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ڈاکٹر روبینہ شاہین کو پشاور یونیورسٹی کی پرو وائس چانسلر مقرر کیا ہے۔ ایک طرف یہ اعزاز ڈاکٹر روبینہ شاہین کو پشاور یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی خاتون پرو وائس چانسلر ہونے کا مقام عطا کرتا ہے، تو دوسری طرف موجودہ دور میں جب بیشتر جامعات کے وائس چانسلرز کا تعلق سائنس اور انجینئرنگ کے شعبوں سے ہے اور سماجی علوم سے تعلق رکھنے والی شخصیات اس منصب پر کم ہی نظر آتی ہیں، ڈاکٹر روبینہ شاہین کی نامزدگی ایک خوش آئند اور امید افزا پیش رفت ہے۔ خدا کرے کہ صاحبانِ اقتدار اس جانب مزید توجہ دیں۔
پروفیسر ڈاکٹر روبینہ شاہین پشاور یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کی ممتاز استاد، محقق اور ادبی نقاد ہیں۔ انہوں نے 2005ء میں پشاور یونیورسٹی سے اردو تنقید میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی علمی دلچسپیوں میں اردو تنقید، معاصر ادب، تصوف، نسائی شعور اور معاصر عالمی ادب شامل ہیں۔
وہ شعبۂ اردو کی سربراہ اور فیکلٹی آف اسلامک اینڈ اورینٹل اسٹڈیز کی ڈین کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ مختلف علمی و تنقیدی مقالات کے علاوہ انہوں نے ڈاکٹر سید عبداللہ کی علمی و ادبی خدمات کے حوالے سے ایک کتاب بھی تحریر کی ہے۔ جولائی 2026ء میں انہیں پشاور یونیورسٹی کی پرو وائس چانسلر مقرر کیا گیا، جہاں اب وہ اپنی علمی و تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ یونیورسٹی کے انتظامی امور بھی انجام دے رہی ہیں۔
تقریب کے صدر، نامور شاعر جناب افتخار عارف نے کہا کہ ڈاکٹر روبینہ شاہین ایک وسیع القلب اور بڑے ظرف کی خاتون ہیں۔ انہوں نے تحقیق اور تنقید کی مشکل راہ پر سفر کیا اور کامیاب ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تخلیقی جوہر بھی کمال درجے کا عطا کیا ہے۔ ایک استاد کی حیثیت سے انہوں نے اپنے ہر شاگرد کو اپنے بچے کی طرح سمجھا۔
جناب افتخار عارف نے کہا کہ ڈاکٹر روبینہ شاہین ہمیشہ دوسروں کی بھلائی اور خوشی کے لیے نوافل پڑھتی اور روزے رکھتی رہی ہیں اور انہوں نے روحانی ماں کا کردار نہایت دیانت اور خلوص کے ساتھ ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر روبینہ شاہین کی تخلیقات، تحقیقات، تنقیدی و علمی مقالات اور کتابیں قابلِ قدر سوغات ہیں، جن سے ہماری آنے والی نسلیں بھی استفادہ کریں گی۔
جناب افتخار عارف نے معروف مزاح نگار مشتاق یوسفی کی اپنی اور ڈاکٹر روبینہ شاہین کی بابت اپنے آخری کتاب میں کی گئی تحریر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مشتاق یوسفی نے کچھ اس مفہوم میں لکھا تھا کہ میرے کمرے میں کتابیں اتنی زیادہ ہوگئی ہیں کہ بیٹھنے کی جگہ نہیں رہی۔ میں سوچتا تھا کہ نثری نظم اور علامتی افسانے کی کتابیں ایک طرف جمع کرلوں اور جب افتخار عارف اور ڈاکٹر روبینہ شاہین کو فون کروں تو انہی کتابوں پر انہیں بٹھاؤں۔
جناب افتخار عارف نے ’’بزمِ ادب‘‘ کی اس کاوش کو سراہا کہ اس نے ڈاکٹر روبینہ شاہین کے اعزاز میں یہ خوبصورت تقریب منعقد کی۔ جناب افتخار عارف نے ڈاکٹر شیر علی کی علمی، ادبی اور انتظامی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
تقریب کے آغاز میں مختلف علمی و ادبی شخصیات نے ڈاکٹر روبینہ شاہین کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے اور ان کی علمی و ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔