ڈاکٹر الطاف یوسفزئی کی ہزارہ یونیورسٹی میں خدمات

نہیں معلوم کہ آپ ’’خدمت‘‘ کسے کہتے ہیں؟ ہمارے معاشرے میں جب کبھی ایوارڈز تقسیم ہوتے ہیں تو مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین بھی خدمت کا دعویٰ کرتے ہیں، حالانکہ ہمارے ان بھائیوں کو اپنے اس کام کا مکمل معاوضہ اور بے شمار مراعات دی جاتی ہیں۔ چنانچہ اس معاوضے اور مراعات کے عوض وہ جو کام انجام دیتے ہیں، وہ خدمت نہیں بلکہ ان کا فرض ہے، جسے ہمارے انگریز مامے لوگ ’’ڈیوٹی‘‘ کہتے ہیں۔ ہمیں مکتب میں یہی سکھایا گیا تھا کہ Duty is Duty فرض، فرض ہوتا ہے۔

ہماری پشتنی روایات اور اسلامی اقدار بھی فرائض کی ادائیگی کا درس دیتی ہیں، خواہ وہ نماز ہو یا دوسرے معاشرتی فرائض۔ جو شخص ان فرائض کی ادائیگی کی قیمت طلب کرے، وہ رشوت کے زمرے میں آتا ہے۔ البتہ بعض سرکاری اہلکاروں کو اچھی کارکردگی پر تعریفی اسناد، نقد انعامات اور ترقیاں دی جاتی ہیں تاکہ دوسرے لوگ بھی اس سے عبرت حاصل کریں اور اپنے فرائض ایمانداری اور صداقت کے ساتھ ادا کریں۔ اسے پیشہ ورانہ دیانت داری کہا جا سکتا ہے۔یہاں ہم اپنے معاشرے کے بہت سے لوگوں کی مثالیں دے سکتے ہیں، لیکن اس کام کو کسی اور موقع کے لیے چھوڑتے ہیں اور اپنے معاشرے کے بعض صاحبان کو ایک اور موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنے فرائض دیانت داری اور صداقت کے ساتھ ادا کریں اور حق دار کا حق احسن طریقے سے ادا کریں۔ اس حوالے سے سلطان محمد صابر کہتے ہیں:

حق حقدار ته په غوښتلو نه رسيږي
څو یې وانه خلې په مټو د طاقت
ترجمہ:
حق، حقدار کو محض مانگنے سے نہیں ملتا،
جب تک وہ اسے اپنی طاقت کے بازوؤں سے حاصل نہ کر لے۔

ان دنوں ہزارہ یونیورسٹی میں خیبر پختونخوا کے ڈی آئی خان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے صاحبِ اسلوب شاعر غلام محمد قاصر کی یاد میں ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر ایک کثیرالسانی مشاعرے کا بھی اہتمام کیا گیا۔ یاد رہے، اس سے پہلے ہزارہ یونیورسٹی نے احمد فراز سیمینار کا بھی اہتمام کیا تھا۔اگرچہ مجھے اس مشاعرے میں مدعو نہیں کیا گیا تھا، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اگر میں مدعو نہیں ہوا تو میں ہر چیز کو ایک جنبش میں درہم برہم یا تلخ کر دوں۔ جس کام کا اہتمام پشاور یونیورسٹی کو کرنا چاہیے تھا، وہ ہزارہ یونیورسٹی نے کیا۔ احمد فراز اور غلام محمد قاصر کے نام سے سیمینار منعقد کیے، ان میں کثیرالسانی مشاعرے کا اہتمام کیا اور پھر ان مشاعروں میں خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے شعرا کو مدعو کیا۔ یہ ایک نہایت خوب صورت، قابلِ قدر اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہزارہ یونیورسٹی کی طرح صوبے کی دوسری یونیورسٹیاں بھی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیں۔ یونیورسٹیوں کو مردہ راکھ کا ڈھیر نہیں ہونا چاہیے۔

جہاں تک سیمینار اور کثیرالسانی مشاعرے میں صوبے کے مختلف علاقوں سے شعرا، ادیبوں اور محققین کو مدعو کرنے کا تعلق ہے تو یہ اس لیے بھی قابلِ ستائش ہے کہ یہ یونیورسٹیاں صوبے کا علمی سرمایہ ہیں اور صوبے کے عوام کے مشترکہ فنڈ سے قائم ہوئی ہیں۔ یقیناً ان اداروں پر سب سے پہلا حق ان علاقوں کے لوگوں کا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان یونیورسٹیوں میں صوبے کے دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مدعو نہیں کیا جا سکتا۔ میرا تو کہنا ہے کہ صوبے کی بات چھوڑیں، اسلام آباد اور کراچی سے بھی اہلِ علم و ادب کو مدعو کیا جانا چاہیے۔ میں ایک شاعر اورلکھاری کی حیثیت سے ہزارہ یونیورسٹی کی اس کوشش کو سراہتا ہوں۔لیکن ان دنوں میں یہ سوچ رہا تھا کہ آخر اتنا اچھا کام کس نے کیا ہوگا؟ کیونکہ اس یونیورسٹی نے اس سے پہلے پشتو کا عالمی مشاعرہ بھی منعقد کیا تھا۔ اس مشاعرے میں بھی مجھے دعوت نہیں دی گئی تھی، لیکن بہرحال وہ کام بھی قابلِ تحسین ثابت ہوا۔ اس مشاعرے کی دستار ہمارے ایک شاعر دوست نے اپنے سر پر خود ہی رکھ لی تھی۔

حقیقت یہ تھی کہ اس مشاعرے کے سرپرست بھی ہزارہ یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر ڈاکٹر احسان علی تھے۔ بعد ازاں جب ڈاکٹر احسان علی خان عبدالولی خان یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر بنے تو وہاں بھی انہوں نے ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ ان سرگرمیوں کا اعتراف بھی ہمیں کرنا چاہیے۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ وہ چلے گئے تو پھر سب کچھ سست پڑ گیا۔یہاں ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اگر ڈاکٹر احسان علی یا کسی دوسرے ادارے کے سربراہ کی جانب سے ان ادبی شخصیات اور صاحبانِ علم کو تعاون اور سرپرستی حاصل نہ ہو تو اس نوع کی ادبی و ثقافتی تقریبات کا انعقاد تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس لیے ان صاحبان اور محترم شخصیات کی خدمات کا اعتراف اور احترام ضروری ہے۔

چنانچہ ہزارہ یونیورسٹی کے پشتو عالمی مشاعرے اور خان عبدالولی خان یونیورسٹی کی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کی دستار، بلا کسی ترتیب کے، ڈاکٹر اسماعیل گوہر اور پروفیسر ڈاکٹر محمد ہمایوں ہما کے سر باندھنی چاہیے۔اسی طرح ہزارہ یونیورسٹی کی موجودہ ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کی دستار اس یونیورسٹی کے ڈین آف ہیومینٹیز، سوشل سائنسز اینڈ اورینٹل اسٹڈیز، پروفیسر ڈاکٹر شاکراللہ خان، اور وائس چانسلر ہزارہ یونیورسٹی، پروفیسر ڈاکٹر اکرام اللہ خان، کے سر بھی باندھنی چاہیے، کیونکہ یہ دونوں مجاز افسران ہیں اور یونیورسٹی میں جو کچھ اچھا یا برا ہوتا ہے، اس میں بہرحال ان کی رضامندی شامل ہوتی ہے۔ لیکن ان ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کا اصل محور پروفیسر ڈاکٹر محمد الطاف یوسفزئی ہیں۔

ڈاکٹر الطاف یوسفزئی ہزارہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے چیئرمین ہیں، لیکن یونیورسٹی کی طرف سے خیبر پختونخوا میں بولی جانے والی زبانوں، بالخصوص ہزارہ کے علاقے میں رائج زبانوں کی ترقی و ترویج کے لیے بھی سرگرمِ عمل ہیں۔ وہ اسی یونیورسٹی کے پشتو اور ہندکو کے تحقیقی مجلے ’’ادراک‘‘ کے مدیر بھی ہیں، جو ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ’’Y‘‘ کیٹیگری میں شامل ہے۔ڈاکٹر الطاف یوسفزئی یوسفزئی قبیلے کے معروف علاقے الہ ڈھنڈ ڈھیری سے تعلق رکھتے ہیں۔ یوسفزئی، ادینزئی اور علی خیل سے ان کا خاندانی تعلق ہے۔ مجھے اس بات کا پورا علم نہیں کہ وہ علی خیل کی کس شاخ سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم اتنا ضرور جانتا ہوں کہ بٹ خیلہ کے عمر خیل ان کے ننھیالی بزرگ ہیں اور ابراہیم خیل ان کے سسرالی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

مختصراً یہ کہ ڈاکٹر الطاف یوسفزئی حجرے اور جومات کے پشتون ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے علاقے سے حاصل کرنے کے بعد اسلامیہ کالجیٹ اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ اردو میں ماسٹرز پشاور یونیورسٹی سے کیا اور کچھ عرصہ کالج میں لیکچرر بھی رہے۔ پشاور یونیورسٹی سے ڈاکٹر روبینہ شاہین کی نگرانی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تحقیق مکمل کی اور کامیاب دفاع کے بعد ڈگریاں حاصل کیں۔ڈاکٹر الطاف یوسفزئی کے پی ایچ ڈی مقالے کا موضوع ’’مشتاق یوسفی اور مختار مسعود کے اسلوبِ تحریر کا تقابلی جائزہ‘‘ ہے۔ اس کے بعد وہ ہزارہ یونیورسٹی آئے اور آج کل اسی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے سربراہ اور ہزارہ چیئر کے ڈائریکٹر ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر الطاف یوسفزئی ازبکستان کی تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں اردو اور پشتو کے استاد اور ممتحن بھی رہ چکے ہیں۔

ڈاکٹر الطاف یوسفزئی کی اب تک کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان میں تھائی لینڈ کا سفرنامہ، سمرقند، بخارا کا سفرنامہ، مشتاق یوسفی کی دو کتابیں ’’ضربِ زشت‘‘ اور ’’آبِ گم‘‘ شامل ہیں۔ دو پشتون شخصیات، خان سیف الملوک خان اور حاجی اورنگزیب خان، کے تذکرے کو پروفیسر ڈاکٹر جہان عالم کی معاونت سے پشتو میں منتقل کیا ہے۔مختار مسعود کی کتاب ’’آوازِ دوست‘‘، جس میں پاکستان کے حوالے سے نہایت اہم معلومات موجود ہیں، جناب خلیل باور کی معاونت سے اردو سے پشتو میں ترجمہ کی۔ یہ دونوں کتابیں پشتو اکیڈمی کوئٹہ کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی ہیں۔ ’’مختار مسعود کا اسلوب‘‘ اور دوسری کتاب ’’شعری اصناف‘‘ دو جلدوں میں شائع ہوئی ہیں، جن میں بی بی عائشہ ان کے ساتھ شریک مصنفہ ہیں۔

جب میں نے ڈاکٹر الطاف سے اس حوالے سے پوچھا کہ ایک کتاب پر دو مصنفین کے نام کیوں ہیں تو انہوں نے بتایا کہ کتاب کے عالمی سائنسی اصول یہ ہیں کہ جس شخص نے کتاب کے متن کی تدوین اور درستی میں محنت کی ہو، اس کا حق بنتا ہے کہ کتاب پر اس کا نام بھی درج ہو۔ ڈاکٹر جہان عالم، جناب خلیل باور اور بی بی عائشہ نے ان کتابوں میں ان کے ساتھ تعاون کیا ہے۔

ڈاکٹر الطاف یوسفزئی ایک بلند پایہ شخصیت ہیں۔ جسمانی طور پر بھی پرکشش، دراز قد اور گندمی رنگت کے حامل ہیں۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا، وہ حجرے اور جومات کی شخصیت ہیں، پشتون روایات اور دینی اقدار کے امین ہیں۔ اگرچہ ان کا تخصص اردو زبان و ادب ہے، لیکن وہ پاکستان کی تمام زبانوں کی ترقی و ترویج کے لیے سرگرمِ عمل رہتے ہیں۔ اب حال ہی میں ہزارہ یونیورسٹی میں ’’غنی پوهنه‘‘ کے نام سے بی ایس سطح کا ایک نیا کورس شروع کیا گیا ہے۔ میرے خیال میں یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور قابلِ ذکر قدم ہے۔اگرچہ صوبے کی مختلف یونیورسٹیوں میں غنی خان کے فن، فکر اور اسلوب وغیرہ پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تحقیق ہوتی رہی ہے۔ ڈاکٹر فیصل فاران نے بھی پشتو اکیڈمی پشاور سے غنی خان کی جمالیات پر پی ایچ ڈی کی تحقیق کی ہے، لیکن ’’غنی پوهنه‘‘ ایک وسیع اور ہمہ گیر موضوع ہے، جس میں غنی خان کی شخصیت، تخلیقی جوہر، فکر، فلسفہ، اسلوب، موضوعات، محبت و انسان دوستی کے پیغام اور ان کے فن کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

اس حوالے سے ہزارہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اکرام اللہ خان، ڈین آف ہیومینٹیز، فیکلٹی آف سوشل سائنسز اینڈ اورینٹل اسٹڈیز، پروفیسر ڈاکٹر شاکراللہ خان، ڈائریکٹر ہزارہ چیئر اور شعبۂ اردو کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد الطاف یوسفزئی داد و تحسین کے مستحق ہیں۔ ان صاحبانِ علم و دانش کو پشتو ٹپہ پیش کرتا ہوں:

ما له دې دومره دیدن بس دی
چې په کوڅه کې پښه نیولې شوې میینه

ترجمہ:
مجھے تو بس اتنا دیدار کافی ہے،
کہ گلی میں قدم روکے کھڑی ہو، اے محبوبہ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے