نئے صوبوں سے نیا پاکستان؟

ریاست محض نقشے پر کھینچی ہوئی سرحدوں، دارالحکومتوں اور انتظامی اکائیوں کا مجموعہ نہیں؛ ریاست دراصل شہری اور اقتدار کے درمیان قائم اس عہد کا نام ہے جس کی بنیاد عدل، امانت، مساوات، تحفظ اور احساسِ شراکت پر ہوتی ہے۔ جب یہ عہد کمزور پڑنے لگے، جب شہری کو اپنے ہی نظام میں اجنبیت اور […]

جنگ کے کھاتے اور تہذیب کے سوال

ابھی دنیا کی فضا میں بارود کی بو باقی ہے، اور زمین کے سینے پر زخموں کی گنتی جاری ہے۔ جنگ صرف میدانِ کارزار کا تماشا نہیں، وہ ایک کھلا محاسبہ ہے، جس میں انسان اپنی عقل، اپنی ہوس، اپنی طاقت اور اپنی حد سے ٹکرا کر یہ دیکھتا ہے کہ اس کے پاس کتنا […]

قیادت کی منڈی

ہمارے عہد کی ایک عجیب ستم ظریفی یہ ہے کہ اب صرف اشیا ہی بازار میں فروخت نہیں ہوتیں، خیالات بھی پیکنگ کے ساتھ فروخت ہوتے ہیں۔ ایک ہی پرانی بات کو کبھی نئے تصور کا نام دیا جاتا ہے، کبھی کسی نئے نظریے کا عنوان اور کبھی انتظامی حکمتِ عملی کی ایک شاندار اصطلاح […]

پاکستان کے ارضی خزانے

ارضِ پاک کی وسعتوں میں قدرت نے جو عجائبِ حکمت پنہاں کر رکھے ہیں، وہ محض خاک و سنگ کے ڈھیر یا آب و ہوا کے سادہ مظاہر نہیں، بلکہ خالقِ کائنات کی عطا کردہ معاشی بقا، صنعتی خودکفائی اور قومی وقار کے عظیم الشان ذرائع ہیں۔ قرآنِ حکیم نے انسان کو متوجہ کیا تھا […]

مکہ کا نیا عہد

مکہ کے مقدس افق پر ثبت ہونے والے تینوں اسلامی ریاستوں کے دستخط بظاہر ایک تحریری معاہدہ ہیں، مگر تزویراتی تاریخ کے نقاد جانتے ہیں کہ لفظوں کے کاغذ پر اترنے اور ان کا میدانِ عمل میں ڈھلنے کا سفر ہمیشہ پرخار ہوتا ہے۔ بدلتی ہوئی عالمی صف بندیوں اور منقسم ہوتی ہوئی طاقت کے […]

سانحۂ پمز: شفا کے ایوان میں ریاستی ذمہ داری کا امتحان

کبھی کبھی ایک حادثہ محض ایک حادثہ نہیں رہتا؛ وہ پورے نظامِ زندگی کے چہرے سے نقاب نوچ لیتا ہے۔ اسلام آباد کے پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ بلاک میں پیش آنے والی آتش زدگی بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔ تیسری منزل کے نرسری وارڈ سے اٹھنے والے دھوئیں نے صرف ایک کمرے […]

سیاستِ نبوی ﷺ سے عصرِ حاضر کے لیے پیغام

تاریخ کے ایوانوں میں کتنے ہی تخت آئے، کتنے ہی تاج چمکے اور کتنی ہی سلطنتیں اپنی قوت و شوکت کے نشے میں زمانے پر سایہ فگن ہوئیں؛ مگر وقت کی گرد نے سب کے نقوش مٹا دیے۔ اس کے برخلاف ایک ایسی ریاست بھی گزری جس کا اقتدار تلوار کی دھار سے زیادہ کردار […]

پاکستان کا معاشی سفر

رات کے آخری پہر دارالحکومت کی ایک بلند عمارت میں ایک بوڑھا معیشت دان اپنے سامنے پھیلے ہوئے بجٹ کے کاغذات کو دیکھ رہا تھا۔ میز پر اعداد کی قطاریں تھیں، سرخ اور سیاہ روشنائی سے بنے ہوئے خانے تھے، قرضوں کے ہندسے تھے، دفاعی اخراجات تھے، ترقیاتی منصوبے تھے اور محصولات کے تخمینے تھے۔ […]

انسانیت: آخری مورچہ

شام اتر رہی تھی۔ شہر کی روشنیاں ایک ایک کرکے جل رہی تھیں، مگر دور کہیں کسی بستی کے ملبے پر ابھی بھی دھوئیں کی ایک باریک لکیر آسمان کی طرف اٹھ رہی تھی۔ ایک مفکر خاموش بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے ایک نوجوان تھا جس کی آنکھوں میں سوال تھا۔ نوجوان نے کہا: ’’آج […]

امریکی سیاست اور پاکستان کا مستقبل

موسمِ گرما کی ایک شام تھی، جب میں اپنے ایک دانشور دوست کے ساتھ تاریخی شہر کی پرانی فصیل پر ٹہل رہا تھا۔ غروبِ آفتاب کی سرخ شعاعیں افق کو سنہری کر رہی تھیں، اور ہمارے سامنے عالمی سیاست کا ایک نیا منظر تھا۔ میرے دوست نے کہا، کیا آپ نے دیکھا کہ امریکہ کی […]