استفسارِ تسخیر و ثباتِ ارض
"اے عزیز! جب ہم کسی مملکت کے مادی جاہ و جلال، اس کے تحرک اور وسائل کی بات کرتے ہیں، تو ہم دراصل کن مظاہرِ قدرت کو زیرِ بحث لاتے ہیں؟” "ہم بظاہر فضاؤں کے وسعت پذیر افق، زمین کے سینے پر بہتی طغیانیوں اور خاک کے بطون میں چھپی معدنیات ہی کا تذکرہ کرتے […]
جواب کا بادشاہ
شہرِ آئینہ میں ایک ایسی سلطنت آباد تھی جہاں تلواروں سے زیادہ سوالات کی حکمرانی تھی۔ ہر شخص کے ہاتھ میں ایک روشن شیشہ تھا وہ اس سے دنیا کے کسی بھی گوشے، کسی بھی واقعے اور کسی بھی راز کے بارے میں پوچھتا، اور چند لمحوں بعد ایک باوقار، مربوط اور بظاہر قطعی جواب […]
ماضی سے انقطاع، مستقبل سے محرومی
اقوام کے زوال و انحطاط کی داستان ہمیشہ میدان ہائے کارزار میں ہزیمت، معیشت کی شکست و ریخت یا نظامِ حکمرانی کے انہدام ہی سے عبارت نہیں ہوتی؛ بسا اوقات انحطاط کی ایک ایسی خاموش، غیر محسوس اور تہہ نشیں صورت بھی رونما ہوتی ہے جس میں بظاہر تعمیر و ترقی کے مظاہر پوری آب […]
داخلی امن کی پائیدار بنیاد
دہشت گردی کے معاصر منظرنامے کو اگر صرف بندوق، بارود اور خودکش حملوں تک محدود کرکے دیکھا جائے تو اس بحران کی حقیقی ساخت ہماری نگاہوں سے اوجھل رہ جائے گی۔ اکیسویں صدی کی سلامتی کی جنگ اب محض سرحدوں پر فوجی صف بندی کا نام نہیں؛ یہ اطلاعات، نظریات، معیشت، سائبر دنیا، خفیہ معلومات، […]
قومی بصیرت
دہشت گردی کی اصل تباہ کاری صرف اس لمحے میں پوشیدہ نہیں ہوتی جب بارود پھٹتا، گولی چلتی یا کوئی معصوم زندگی چراغِ سحر کی طرح بجھ جاتی ہے؛ اس کا زیادہ خطرناک پہلو وہ خاموش ماحول ہے جس میں تشدد کے اسباب، وسائل، بیانیے اور سہولت کار مسلسل تشکیل پاتے رہتے ہیں۔ اگر دہشت […]
صلحِ حدیبیہ: سیاستِ نبویؐ کا شاہکار، عصرِ حاضر کی بصیرت
تاریخ کے بعض واقعات اپنی ظاہری صورت میں چھوٹے، مگر اپنے نتائج میں عہد ساز ہوتے ہیں۔ وہ بظاہر شکست کا منظر دکھاتے ہیں، لیکن زمانہ جب ان کے گرد سے گردِ ایام ہٹاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ شکست کے پردے میں فتح کا بیج رکھا جا چکا تھا۔ صلحِ حدیبیہ بھی ایسا […]
سلامتی کا سفر
دہشت گردی کسی ریاست کے دروازے پر اچانک نمودار ہونے والا ایک وقتی حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسا مسلسل اور متغیر بحران ہے جو سیاسی کشمکش، علاقائی عدم استحکام، نظریاتی انتہاپسندی، کمزور حکمرانی، معاشی محرومی، غیر قانونی مالیاتی ذرائع اور جدید ابلاغی ٹیکنالوجی کے باہمی امتزاج سے اپنی نئی صورتیں پیدا کرتا رہتا ہے۔ پاکستان […]
نئے صوبوں سے نیا پاکستان؟
ریاست محض نقشے پر کھینچی ہوئی سرحدوں، دارالحکومتوں اور انتظامی اکائیوں کا مجموعہ نہیں؛ ریاست دراصل شہری اور اقتدار کے درمیان قائم اس عہد کا نام ہے جس کی بنیاد عدل، امانت، مساوات، تحفظ اور احساسِ شراکت پر ہوتی ہے۔ جب یہ عہد کمزور پڑنے لگے، جب شہری کو اپنے ہی نظام میں اجنبیت اور […]
جنگ کے کھاتے اور تہذیب کے سوال
ابھی دنیا کی فضا میں بارود کی بو باقی ہے، اور زمین کے سینے پر زخموں کی گنتی جاری ہے۔ جنگ صرف میدانِ کارزار کا تماشا نہیں، وہ ایک کھلا محاسبہ ہے، جس میں انسان اپنی عقل، اپنی ہوس، اپنی طاقت اور اپنی حد سے ٹکرا کر یہ دیکھتا ہے کہ اس کے پاس کتنا […]
قیادت کی منڈی
ہمارے عہد کی ایک عجیب ستم ظریفی یہ ہے کہ اب صرف اشیا ہی بازار میں فروخت نہیں ہوتیں، خیالات بھی پیکنگ کے ساتھ فروخت ہوتے ہیں۔ ایک ہی پرانی بات کو کبھی نئے تصور کا نام دیا جاتا ہے، کبھی کسی نئے نظریے کا عنوان اور کبھی انتظامی حکمتِ عملی کی ایک شاندار اصطلاح […]