جنگ کے کھاتے اور تہذیب کے سوال

ابھی دنیا کی فضا میں بارود کی بو باقی ہے، اور زمین کے سینے پر زخموں کی گنتی جاری ہے۔ جنگ صرف میدانِ کارزار کا تماشا نہیں، وہ ایک کھلا محاسبہ ہے، جس میں انسان اپنی عقل، اپنی ہوس، اپنی طاقت اور اپنی حد سے ٹکرا کر یہ دیکھتا ہے کہ اس کے پاس کتنا ہے اور کتنا نہیں۔ تاریخ کی آنکھ نے بارہا دیکھا کہ تلواروں کی چمک اور توپوں کی گرج میں جو قوم اپنی قوت کا بھرم رکھتی ہے، ایک دن وہی قوم اپنے ذخائر کے خالی ہونے کا ماتم کرتی ہے۔ یہ کوئی نئی کہانی نہیں؛ یہ انسانی تہذیب کے اُس قدیم سبق کا تسلسل ہے جسے قرآن نے ان الفاظ میں سمو دیا: ”وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ“۔ مگر قوت کی تیاری ایک ایسی راہ ہے جہاں ہر قدم پر حساب چاہیے، ورنہ قوت ہی وبالِ جان بن جاتی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی ایک رپورٹ، جو کانگریس کے روبرو پیش کی گئی، اِسی حساب کی ایک جھلک دکھاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جاری جنگ نے گولہ بارود کی کمی کو اُس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں اسٹریٹجک ذخائر لرز اٹھے ہیں اور صنعتی نظام کی فراہمی کی زنجیریں رکاوٹوں سے دوچار ہو گئی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ 28 فروری سے 30 جون کے دوران آپریشن ”ایپک فیوری“ پر مجموعی طور پر 92 کھرب 55 ارب روپے، یعنی 33.4 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ اس میں سے 61 کھرب 79 ارب روپے، یعنی 22.3 ارب ڈالر، صرف گولہ بارود پر صرف ہوئے۔ یہ اعداد و شمار محض خشک گنتی نہیں؛ یہ اُس آگ کا حساب ہے جو نہ صرف دشمن کے ٹھکانوں کو جلاتی ہے، بلکہ اپنے ہی گھر کے دروازوں پر بھی دھواں چھوڑتی ہے۔

رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ اس بڑے پیمانے پر استعمال نے اسٹریٹجک ذخائر میں کمی پیدا کی اور گولہ بارود کی دوبارہ فراہمی کے لیے صنعتی نظام میں رکاوٹیں سامنے آئیں۔ گویا جنگی مشین ایک بھوکے درندے کی طرح ہے: وہ جتنا کھاتی ہے، اتنا ہی بھوکی ہوتی ہے۔ اس کے منہ میں ڈالا گیا ہر گولہ ایک سوال بن کر واپس آتا ہے کہ اگر یہی رفتار رہی تو کل کیا ہوگا؟ اسی دوران امریکی فوج کو بھاری نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ چار ایف-15 طیارے تباہ، ایک ایف-35 طیارے اور سات کے سی-135 ٹینکر طیاروں کو نقصان، جبکہ تیس تک ایم کیو-9 ریپر ڈرونز تباہ ہوئے۔ یہ نام اور عدد ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جدید جنگ میں لوہا اور الیکٹرانکس، دونوں ایک ہی منڈی کے تاجر ہیں۔ انسان چاہے آسمان میں اڑنے والی مشین بنائے، مگر مٹی سے اس کا رشتہ ٹوٹتا نہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر نے اس خدشے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس درمیانے اور اعلیٰ درجے کے گولہ بارود کی تقریباً لامحدود مقدار موجود ہے اور ملک کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان اُس قدیم انسانی عادت کا نمونہ ہے جسے قرآن نے ”كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا“ کی تلقین کے مقابل رکھا ہے۔ انسان جب اپنے ذخیرے کو لامحدود کہتا ہے تو اکثر وہ اپنی محدودیت کو چھپا رہا ہوتا ہے۔ تاہم ایک ماہرِ اسٹریٹجک امور نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کے لیے تو اسلحہ کافی ہو سکتا ہے، لیکن اگر چین کے ساتھ جنگ ہوئی تو امریکا صرف ایک ماہ تک ہی مناسب سپلائی برقرار رکھ سکے گا۔ یہ جملہ ایک زلزلے کی طرح ہے: بظاہر دیوار مضبوط نظر آتی ہے، مگر بنیاد میں شگاف ہو تو ایک جھٹکا کافی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دفاعی حکام پہلے اس کمی کی تردید کرتے رہے، تاہم وزیر دفاع نے اسلحہ ساز صنعت پر پیداوار بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالا ہے، جبکہ ایک بڑی دفاعی کمپنی کے عہدیدار نے اس صورتحال کو ”کنٹرولڈ افراتفری“ قرار دیا۔ یہ ترکیب بذات خود ایک فلسفیانہ طنز ہے۔ کنٹرول اور افراتفری ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟ یہ اُس شخص کی مانند ہے جو سمندر کے طوفان میں کھڑے ہو کر کہے: میں نے سب کچھ سنبھال رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب جنگی مشین اپنی حد سے بڑھ جائے تو کنٹرول صرف ایک لفظ رہ جاتا ہے، اور افراتفری ایک نظام بن جاتی ہے۔

یہاں ایک بڑا سوال ابھرتا ہے: قومی طاقت کا پیمانہ کیا ہے؟ کیا یہ صرف ٹینک، جہاز، ڈرون اور گولہ بارود کی تعداد ہے؟ یا یہ اُس حکمت میں ہے جو اپنی قوت کو پہچانے، اپنی حدود کا اعتراف کرے اور جنگ کو آخری علاج سمجھے، نہ کہ پہلا نسخہ؟ تاریخ گواہ ہے کہ جو تہذیبیں اپنی طاقت کے نشے میں چور ہوئیں، اُن کے کھنڈرات نے بعد میں آنے والوں کو یہ سبق دیا کہ تلوار کی دھار تیز ہو سکتی ہے، مگر میان بھی ایک حقیقت ہے۔ قرآن نے فرمایا: ”وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ“۔ مگر یہ وعدہ اُس انفاق کے ساتھ ہے جو حکمت اور اعتدال سے ہو، نہ کہ اُس اسراف کے ساتھ جو زمین و آسمان کو آگ لگا دے۔

اس رپورٹ کی اہمیت صرف امریکا تک محدود نہیں۔ یہ ہر اُس قوم کے لیے آئینہ ہے جو اپنی دفاعی قوت کو محض خریداری، ڈھول اور دعووں کا کھیل سمجھتی ہے۔ جدید جنگ صرف فوجوں کی جنگ نہیں؛ یہ فیکٹریوں، بندرگاہوں، سپلائی چینوں، ٹیکنالوجی اور عوامی صبر کی جنگ ہے۔ گولہ بارود کی کمی دراصل اُس اعتماد کی کمی ہے جو صنعتی بنیاد، قدرتی وسائل اور طویل المدتی منصوبہ بندی سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر پہاڑ سونے کا ہو مگر کدال نہ ہو، تو سونا بھی پتھر ہے۔

آخر میں، جنگ کے کھاتے صرف ڈالر اور روپے میں نہیں لکھے جاتے۔ وہ انسانی زندگیوں، خوابوں، یتیموں، بیواؤں، اجڑے گھروں اور ٹوٹے ہوئے دلوں میں بھی لکھے جاتے ہیں۔ جو قوم صرف گولہ بارود کی گنتی کرتی ہے اور انسان کی گنتی نہیں کرتی، وہ ایک دن اپنے ہی کھاتے میں خسارہ دیکھے گی۔ حکمت یہ ہے کہ قوت کو وسیلہ سمجھا جائے، مقصد نہ بنایا جائے۔ ورنہ ”کنٹرولڈ افراتفری“ کے نعرے بلند ہوں گے، اور تاریخ اپنا فیصلہ سناتی رہے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے