پاکستان کے ارضی خزانے

ارضِ پاک کی وسعتوں میں قدرت نے جو عجائبِ حکمت پنہاں کر رکھے ہیں، وہ محض خاک و سنگ کے ڈھیر یا آب و ہوا کے سادہ مظاہر نہیں، بلکہ خالقِ کائنات کی عطا کردہ معاشی بقا، صنعتی خودکفائی اور قومی وقار کے عظیم الشان ذرائع ہیں۔ قرآنِ حکیم نے انسان کو متوجہ کیا تھا کہ ’وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ‘ یعنی جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے، اس نے تدبیرِ الٰہی کے تحت انسانی مساعی کے تابع کر دیا ہے۔

چنانچہ جب ہم کسی مملکت کے قدرتی وسائل پر تدبر کی نظر ڈالتے ہیں تو ان کا دائرہ تین عظیم جہتوں پر محیط نظر آتا ہے: فضا کی امواجِ صوت و نور (ایئر ویوز)، زیرِ زمین اور رویِ زمین پر رواں دواں ندی نالے و دریا، اور تہِ خاک دبے ہوئے معدنی ذخائر۔فضا کی لطیف لہریں جدید دور میں مواصلات، سیاروی رابطوں اور معلومات کی ترسیل کی وسیع بینڈوڈتھ فراہم کرتی ہیں؛ دریا اور وافر مساجدِ آب ذخیرہ اندوزی اور تحرکِ توانائی کا وسیلہ بنتے ہیں؛ جبکہ ارضِ بطون میں پوشیدہ معدنیات بصیرت مند قوموں کی صنعتی و عمرانی پیش رفت کے لیے خام مال کا اٹوٹ شریان ثابت ہوتی ہیں۔

لیکن سنتِ الٰہیہ یہ ہے کہ تسخیرِ کائنات کا کوئی بھی باب تدبیر، علم اور جہدِ مسلسل کے بغیر وا نہیں ہوتا۔ انسان پر لازم کیا گیا ہے کہ وہ مشاہدے، تسخیر اور استخراج کی سعیِ پیہم سے کام لے۔ اگر قوموں کے پاس عصری سائنسی بصیرت، منظم ارضیاتی کاوشیں اور مستحکم سرمایہ میسر نہ ہو، تو یہ شاندار الٰہی عطیات دور کے سراب اور محض تصوراتی داستانیں بن کر رہ جاتے ہیں۔ قرآن کریم کا یہ ابدی اصولِ حیات ہے کہ ’وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ‘ جب تک انسانی سعی، سائنسی علم اور مالی استقامت کا تلازمہ قائم نہ ہو، زمین کے خزانے اپنے رازوں کو افشا نہیں کرتے۔ معدنی ذخائر کی ترقی و ترویج اور ان سے ثمر حاصل کرنے کے لیے بالترتیب تین عناصر کلیدی ترجیح کے حامل ہیں: جغرافیائی رسائی کی سہولت، ذخیرے کی درکار ضخامت، اور خام دھات کی کیمیائی و طبعی صلاحیت (گریڈ)۔ جب تک کوئی ارضیاتی ذخیرہ ایسی جغرافیائی شاہراہ پر واقع نہ ہو جہاں سے اس کے کثیر حجم کو ثمر بار بنانے کے لیے مارکیٹ اور صنعتی مراکز تک منتقل کیا جا سکے، اور جب تک اس کا حجم ایک مکمل صنعتی نظام کی کفالت کا ضامن نہ بنے، تب تک اس کا وجود بے سود اور غیر نفع بخش رہتا ہے۔

اگر ہم ارضیاتی سائنس کے تکوینی اور منطقی مراحل پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی معدنی سرمایہ یک لخت اور یک گام عملی شکل اختیار نہیں کرتا، بلکہ اسے تصدیق و توثیق کے تین معتبر سائنسی و ارضیاتی مراتب سے گزرنا پڑتا ہے:

اولاً، قیاس شدہ و نشان زدہ وسائل (Inferred/Indicated Resources): یہ وہ مرحلہ ہے جہاں سطحی نمونہ کاری، نظریاتی قیاس، ریموٹ سینسنگ اور ابتدائی سائنسی مطالعے سے زمین کے نیچے معدنیات کی موجودگی کے ابتدائی نقوش اور ان کا تسلسل قائم کیا جاتا ہے۔ یہ گویا امکانی علم کی وہ بنیاد ہے جہاں سے تسخیر کی پہلی کرن پھوٹتی ہے۔

ثانیاً، تخمینہ شدہ ذخائر (Estimated Reserves): اس مرتبے پر پہنچ کر ماہرینِ ارضیات عمیق ارضیاتی جائزوں اور تجارتی حساب کتاب کے ذریعے ممکنہ خزائن کی تکنیکی گہرائی اور مالیاتی فائدے کی صورتِ حال کا ایک واضح خاکہ مرتب کرتے ہیں، تاکہ پراجیکٹ کے نفع و زیاں کا اندازہ لگایا جا سکے۔

ثالثاً، ثابت شدہ ذخائر (Proven Reserves): یہ ارضیاتی تحقیق کا انتہائی حتمی، معتبر اور مستند ترین مقام ہے۔ یہاں ہائی انٹینسٹی گہری ڈرلنگ (Deep-core Drilling)، سوراخ کاری، اور کور سیمپل کے عمیق تجزیے سے زیرِ زمین موجود اثاثے کی تجارتی اور عملی حقیقت کو روزِ روشن کی طرح عیاں کر دیا جاتا ہے۔ یہی وہ سائنسی مرحلہ ہے جہاں پر غیر یقینی کے بادل چھٹتے ہیں، عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا ہے، اور خواہ کھلی کان کنی ہو یا زیرِ زمین استخراج، ایک مربوط، جامع اور نفع بخش کان کنی کا نقشہ نهایی شکل اختیار کرتا ہے۔

جب ایک بار ذخائر سائنسی و تجارتی اعتبار سے ثابت ہو جائیں، تو اس کے بعد صنعتی کارخانوں کی لاگت، کیپیٹل ایکسپنڈیچر، نقل و حمل، لاجسٹکس اور مٹی کے کٹاؤ و بوجھ اٹھانے کے عملی مالیاتی امور کا درست تعاقب کیا جاتا ہے۔ آج کا دور مقداری وسعت کا دور ہے؛ وہ دن ہوا ہوئے جب روایتی اور دستی طریقوں سے معدنیات نکالی جاتی تھیں۔ جدید دور میں دیو ہیکل ہائیڈرولک ایکسکیویٹرز جو ایک ہی بار میں سو میٹرک ٹن بوجھ اٹھانے کی طاقت رکھتے ہیں، اور الٹرا کلاس ہال ٹرک جو پانسو میٹرک ٹن کا وزن باآسانی منتقل کر سکتے ہیں، صنعتی تسخیر کے اہم ترین سائنسی مظاہر بن چکے ہیں۔

تاریخِ پاک و ہند اور پاکستان کے معاشی ارتقا کا مشاہدہ کریں تو بلوچستان کا سیندک کاپر-گولڈ پروجیکٹ اس علمی و عملی سفر کی ایک درخشان مثال بن کر سامنے آتا ہے۔ 1950ء کی دہائی کے وسط میں کولمبو پلان کے تحت کینیڈین گرانٹ سے کیے گئے ابتدائی فضائی نقشہ جات کی رہنمائی میں، جیولوجیکل سروے آف پاکستان (GSP) نے 1961ء میں سیندک کے مقام پر مس (تانبے) اور طلا (سونے) کی موجودگی کی باضابطہ نشاندہی کی
بعد ازاں 1970ء کی دہائی میں یونائیٹڈ سٹیٹس جیولوجیکل سروے (USGS) کے باہم سائنسی اشتراک سے کی جانے والی گہری ڈرلنگ نے خام دھات کی حقیقی وسعت اور قیمت پر مہرِ تصدیق ثبت کی، جس نے آگے چل کر اس منصوبے کو ملکی و معاشی ترقی کا عظیم سنگِ میل بنا دیا۔

تاہم، المیہ یہ ہے کہ آج بھی ملکِ خداداد میں پائے جانے والے نایاب ارضی عناصر (REE) کے اکثر و بیشتر ذخائر ابھی تک علمی، سائنسی اور تجارتی لحاظ سے قابلِ اعتبار یا ‘بینک ایبل’ مرتبے تک نہیں پہنچ سکے۔ وہ ارضی خزانوں کے محض امکانی اشارے ہیں جنہیں سائنسی اثبات میسر نہیں آ سکا۔ اس صورتِ حال کو بدلنے اور ملکی مقدر کو سنوارنے کے لیے ضروری ہے کہ ریاست اور حکومت وقت اپنے ترجیحی امور کا ازسرِ نو تعین کریں۔

جیولوجیکل سروے آف پاکستان (GSP) کو محض ایک روایتی ادارہ سمجھنے کے بجائے اسے جدید ترین سائنسی آلات، گہری ڈرلنگ کی صلاحیتوں، اور جدید ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا جائے۔ جب تک ریاست طویل مدتی سائنسی فنڈنگ کے ذریعے اپنے تمام ارضی وسائل کو عالمی و تجارتی معیار پر ‘ثابت شدہ’ نہیں بنا لیتی، تب تک بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے تحفظات دور ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ارضِ پاک کے پوشیدہ خزانے ملکی معیشت کی بحالی میں اپنا حقیقی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے