مدرسہ ڈسکورس، درس نظامی اور میں

مدرسہ ڈسکورسز ایک مرتبہ پھر زیر بحث ہے، ہونا بھی چاہیے کیونکہ مدارس کے کئی فضلاء ان دنوں مدرسہ ڈسکورسز کی ایکٹوٹیز فیس بک پر شیئر کر رہے ہیں۔ میں کچھ مصروفیات کی بنا پر فیس بک استعمال نہیں کر پا رہا مگر سمیع اللہ سعدی صاحب کا مضمون سبوخ بھائی نے ایک واٹس ایپ گروپ میں شیئر کیا تھا تو پڑھنے کا موقع ملا۔ یہاں آیا تو دیکھا کہ ایک دوست نے ایم ڈی کے پہلے بیچ کو بھی موضوع بحث بنایا ہے۔ کچھ دیگر احباب کی تحاریر بھی شدہ شدہ دیکھنے کا موقع ملا۔۔ سو چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔۔

1۔ ایم ڈی کے پہلے بیچ میں مجھ سمیت چند دوست وہ ہیں جنہوں نے ایم ڈی کی مباحث کو جیسے تیسے اور جتنا سمجھا ان کے متعلق اپنا مطالعہ یا سوالات فیس بک پر لکھنے کا وطیرہ اپنایا تھا۔ دیگر دوستوں کا تو پتہ نہیں مگر میں نے اس تناظر میں لکھنا ترک کر دیا ہے۔ کیونکہ ہمارے سماج میں ہر وہ شخص اپنے پس منظر کے ساتھ اچھوت بنا دیا جاتا ہے جو سوچنے کی زحمت کرتا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ ایم ڈی کا پس منظر رکھنے کی وجہ سے ایم ڈی میرے جیسے عام نوجوان کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنے۔ اس لیے اگر کسی دوست کو مجھ یا مجھ ایسے دیگر کچھ لوگوں سے مسئلہ ہے تو انہیں چاہیے کہ اپنی تنقید کا رخ براہ راست ہماری طرف ہی رکھیں نہ کہ ایم ڈی کی طرف۔۔

2۔ میرے تجربے کے مطابق ایم ڈی ایسا کوئی سبق نہیں پڑھاتا جس کی ترویج شرکائے ایم ڈی پر لازم ہو۔ میری دانست میں ایم ڈی کا مقصود وہی جملہ ہے جو استاد مہان مرزا نے اپنے پہلے لیکچر میں کہا تھا کہ "علمائے کرام اگر مغربی فکر و فلسفہ کا رد کریں تو اس میں ہرگز کوئی برائی نہیں ہے، اس معاملے میں شناعت کا عنصر تب پیدا ہوتا ہے جب علمائے کرام مغربی فکر و فلسفے کو سمجھے اور جانے بغیر اس کا رد کریں اور یہ شناعت بھی فکری نہیں بلکہ عملی ہے کہ تعلیم یافتہ طبقے کے ہاں خود علمائے کرام کے بارے میں یہ تاثر بننے لگتا ہے کہ جاہل ہیں”۔ میں نے اس تناظر میں کئی علمائے کرام سے بالمشافہ ملاقات کی، کئی کو سنا اور پڑھا، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اکا دکا استثناءات کے علاوہ سب کے ہاں یہی خرابی پائی جاتی ہے۔ آپ ہی بتا دیجیے کہ کیا اہل علم کو اپنی یہ کمی دور نہیں کرنی چاہیے۔؟

3۔ ایم ڈی کے حوالے اسے ایک پشتو ٹی وی پروگرام میں مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ ابراہیم موسی مدارس کے نظام کو کیوں تبدیل کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ استاد ابراہیم موسی مدارس کا نظام تبدیل نہیں کرنا چاہتے بلکہ اس نظام کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ کوشش بھی خود مذہبی روایت ہی کے ذریعے کر رہے ہیں۔ کیا آج کا کوئی بھی مفکر امام غزالی کی کاوش "مقاصد الفلاسفۃ” کو غلط کہہ سکتا ہے؟ اگر کوئی بھی شخص ایم ڈی کی مغربی فکر و فلسفہ کو سمجھنے کی دعوت کو غلط سمجھتا ہے تو اسے لازما امام غزالی کو بھی غلط کہنا چاہیے۔ بلکہ ساری Greco – Arabic Translation Movement کو بھی سرے سے ناجائز مانے۔ مسلم مفکرین نے بلاشبہ یونانی فکر و فلسفہ کے ساتھ رد و قدح کا معاملہ کیا ہے مگر کیا کوئی ایک بھی ایسی روایت موجود ہے جس کے مطابق ترجمے کے اس پورے عمل ہی کو کسی نے غلط کہا ہو۔؟ نہیں۔ پھر ایم ڈی جو کہ بعینہ وہی کام کر رہا ہے موضوع تنقید کیوں ہے؟

4۔ میری دانست میں ہمارا سماج ایک ایسی صورتحال سے دوچار ہے جس میں ریڈ لائنز عوام نے نہیں بلکہ دانشور حضرات نے کھینچ رکھی ہیں اور یہ حادثہ شاید انسانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا کہ جن لوگوں کا کام ہی فکر و تدبر ہو وہی غور و فکر پر قدغن لگا رہے ہوں۔ ایسی صورتحال میں ایم ڈی ہی کیا، ہر وہ کاوش بیک جنبش قلم ممنوع قرار پاتی ہے جو دانشوران ملت کی منظور نظر نہ ہو۔ دور نہ جائیے طاہر القادری صاحب کو لے لیجیے، مسلکا بریلوی ہیں مگر خود بریلوی مکتب فکر کے کئی بزرگ انہیں شیطان کہے دیتے ہیں۔ جاوید احمد غامدی، ابراہیم موسی اور عمار خان ناصر تو پھر وہ لوگ ہیں جن کے پیچھے مسلکی طاقت بھی نہیں کھڑی۔ سو فقیہان حرم کی نظر میں ایسے لوگوں کی کاوشیں مردود نہ ہوں گی، تو اور کیا ہو گا؟؟

5۔ آخری بات یہ ہے کہ چھوڑیے سب۔۔ مذکورہ بالا عمومی مسائل کو ایک جانب رہنے دیجیے۔۔ بس یہ بتائیے کہ جس دور میں ہم زندہ ہیں اس دور میں بحیثیت مسلمان (سکالر یا طالب علم) ہمارا کام کیا ہے؟ ائمہ تفسیر و حدیث و فقہ و کلام کی روش پر چلنا؟ جنہوں نے خدا کی منشاء اور اپنے دور کے حالات کی تفہیم میں عمریں کھپا دی تھیں یا ان لوگوں کی روش پر جنہوں نے ہر علمی کام کو تب تک کبھی درخور اعتناء نہیں سمجھا جب تک وقت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ شاہ ولی اللہ کو بطور مثال لے لیجیے۔ آج شاید ہی کوئی مذہبی روایت ایسی ہو جو انہیں امام کے درجہ پر فائز نہ کرتی ہو لیکن شاہ صاحب کے بعد سو ڈیڑھ سو سال تک سوائے ان کی آل و اولاد کے کسی نے انہیں "اون” کرنے کی ہمت نہیں کی، الٹا ان کے خلاف فتوے ہی جاری ہوتے رہے۔۔

میرا معاملہ تو یہ ہے کہ درس نظامی سے فراغت کے بعد جب پڑھنا اور پڑھانا شروع کیا تو سوال یہ پیدا ہو گیا تھا کہ آج کے حالات کو سمجھ کر مذہبی روایت کی ان کے ساتھ Relevance کیسے قائم کرنی ہے؟ ایم ڈی نے مجھے اس سوال کا جواب نہیں دیا بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ برصغیر کے متنوع مسالک، شاہ ولی اللہ، عبید اللہ سندھی، سید مودودی، جاوید احمد غامدی، ایم ڈی اور اب ماڈرن ویسٹرن فلاسفی اس ایک سوال کا جواب تلاش کرنے میں بطور معاون کردار ہیں اور بس۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے