پشاور میں لوٹتی ہوئی ادب کی روشنی

سال تھا پچیس اور مہینہ تھا مئی جب تین اور چار مئی کو نشتر ہال میں پشاور ادبی میلہ کا انعقاد ہوا۔۔۔۔

بچپن میں نہ جانے کونسا لمحہ تھا جب کتابیں پڑھنے کا ایسے شوق ہوا کہ میں جس کے گھر جاتی،کتابیں دیکھتی تو وہاں سے لے آتی، کتابیں جکڑ لیتی تھی ۔۔ابو کو ہر ماہ کے شروع میں کہہ دیتی کہ میرے لیے یہ کتابیں لا دے۔۔ ان کتابوں میں قسط وار کہانیاں ہوتی اور ان میں ایسے سسپنس ہوتا کہ پورا مہینہ انتظار کرتی اور پھر خاص نمبر وہ والی کتاب ہوتی جو سال میں ایک خاص مہینے میں آتی اور اس کے ساتھ پیارا سا قلم اور اس شمارے میں عام مہینوں کی نسبت زیادہ کہانیاں ہوتی ۔۔۔کیا دن تھے ابو جیسے ہی کتابیں لاتے میں جلدی جلدی ہوم ورک کر کے انہیں پڑھنے بیٹھ جاتی ۔۔۔۔

یوں سالوں گزر گئے اب بھی وہی کتابیں ایک خزانے کے طور پہ میرے پاس ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ترجیحات بدل جاتی ہے اب میں انہی کتابوں کو ایسے انہماک سے نہیں پڑھ سکتی لیکن ہاں کتابوں سے عشق تو اب بھی ویسا ہی ہے ۔۔۔ جہاں کتابیں دیکھتی ہوں کچھ لمحوں کے لیے موجود جگہ سے بیگانہ ہو جاتی ہوں۔
میرے کسی اپنے کی بات کہ مردان میں تو صرف پلازے اور شاپنگ مالز ہے اور میری بھی یہی بات کہ پشاور میں تو خاص کچھ بھی نہیں ہے لیکن میرا یہ موقف غلط ثابت ہوا جب دو ہزار تئیس کو پھولوں کے شہر میں ادبی میلہ کا انعقاد ہوا میں کسی وجہ سے شرکت نہ کرسکی لیکن جب میں نے اس کے کلپس دیکھے تو مجھے اپنے نہ جانے پہ بہت افسوس ہوا وہ بلکل ایسے میلہ تھا جیسے میں نے سوچا تھا

شاعر،ادیب ،مصنف سب ایک ہی فارم پہ تھے۔
پھر جب پچھلے سال مئی کو دوبارہ اعلان ہوا کہ پشاور میں ادب کی محفل سجے گی اور وہ بھی نشتر ہال میں۔۔۔۔
تو ایسی خوشی تھی کہ نہ پوچھے وہ ایک اچھی نشست تھی ایک ہی چھت کے نیچے ادیب،شاعر مصنف ،سیاستدان اور اس کے ساتھ ساتھ پطرس بخاری کی تحریر سویرے جو کل آنکھ میری کھلی پہ پرفارم کرنا، اور یوسف بشیر کی یہ نظم اک سوچ عقل سے پھسل گئی،مجھے یاد تھی کہ بدل گئی۔۔۔کو سننا کسی خواب سے کم نہیں تھا کیونکہ
ہم وہ بچے ہیں جو مینا بازار میں دھماکہ، چرچ میں دھماکہ ، آرمی پبلک اسکول میں حملے کی خبریں سن سن کے بڑے ہوئے ہیں ہمارے ہاں ایسی ادبی محفلوں کا ہونا ایک لمبی خزاں کے بعد آنی والی بہار کی مانند ہے جسکی خوشبو ہر سو پھیلی ہے ۔۔
اس سال بھی جب بہار اپنے جوبن پہ ہے پھول کِھل رہے ہیں تو انیس اور بیس اپریل کو ہوگا ایک بار پھر ادبی میلہ۔۔۔
جہاں آپ ان مصنف اور شعراء سے ملیں گے جن کی کتابیں آپ پڑھتے ہیں ۔۔۔۔
آئیں گا ضرور ۔۔
آپ کا انتظار رہے گا ۔۔۔۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے