نابینا پیمرا

یہ ایک عجیب ملک ہے۔ یہاں قانون بھی ہے، ضابطے بھی ہیں، اخلاقیات کے داعی بھی ہیں، اور محافظ بھی۔ مگر جب ان سب کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو ایک عجیب سا تضاد سامنے آتا ہے ۔ ایسا تضاد جو صرف نظر ہی نہیں آتا بلکہ چیخ چیخ کر اپنی موجودگی کا اعلان کرتا ہے۔

حال ہی میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے جیو نیوز کو ایک شوکاز نوٹس جاری کیا۔ وجہ یہ بنی کہ چینل نے آشا بھوسلے کی وفات کی خبر نشر کرتے ہوئے ان کے گانے اور فلمی مناظر بھی دکھا دیئے ۔ پیمرا کے مطابق یہ عمل انڈین مواد پر عائد پابندی کی خلاف ورزی تھا، بلکہ اسے سپریم کورٹ کے فیصلے کی دانستہ خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

قانون اپنی جگہ موجود ہے، اور اگر کوئی ادارہ اس کی خلاف ورزی کرے تو اس پر کارروائی بھی ہونی چاہیے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ میں خود اس بات کا قائل ہوں کہ پاکستانی چینلز کو انڈین مواد دکھانے سے گریز کرنا چاہیے۔ ہماری اپنی ثقافت، اپنی انڈسٹری، اپنے فنکار سب کچھ موجود ہے، پھر ہمیں دوسروں کی طرف دیکھنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ جو چینلز یہ کام کرتے ہیں یا کرتے رہے ہیں، ان کی مذمت ہونی چاہیے اور کھل کر ہونی چاہیے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پیمرا کی آنکھ صرف وہیں کھلتی ہے جہاں انڈین مواد نظر آئے؟ یا پھر اس کی بصارت بھی کسی مخصوص زاویے تک محدود ہے؟

یہاں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔

اگر کوئی چینل ایک فوت شدہ گلوکارہ کے چند گانے چلا دے تو قانون حرکت میں آ جاتا ہے، نوٹس جاری ہو جاتا ہے، پیشیاں لگ جاتی ہیں، جرمانوں اور لائسنس معطلی کی باتیں ہونے لگتی ہیں۔ لیکن اگر اسی ملک کے مارننگ شوز میں روزانہ وہ کچھ ہو رہا ہو جو کسی مہذب معاشرے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، تو وہاں پیمرا کی آنکھوں پر جیسے پردہ نہیں بلکہ پوری پٹی بندھی محسوس ہوتی ہے۔

خاص طور پر وہ پروگرام جن میں فضا اور ڈاکٹر نبیہا جیسے کردار سامنے آتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نجی زندگی اور بیڈ روم کے معاملات کو اسکرین پر لا کھڑا کیا ہے۔

شوہر کے ساتھ خلوت کے لمحات کو تفریح کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے۔ وہ چیزیں جو پردے میں رہنی چاہئیں، جن پر حیا کا تقاضا ہوتا ہے، انہیں ہنسی مذاق اور ریٹنگ کے لیے عوام کے سامنے رکھا جا رہا ہے۔

یہاں تو معاملہ صرف حد سے تجاوز کا نہیں، بلکہ حدوں کے تصور ہی کو مذاق بنا دینے کا ہے۔ کبھی ازدواجی زندگی کے ایسے پہلو زیرِ بحث لائے جاتے ہیں جنہیں سن کر ناظرین کو چینل بدلنے پر مجبور ہونا پڑے، اور کبھی ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں جن میں سنجیدگی کم اور سنسنی زیادہ ہوتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے رہنمائی کے نام پر تجسس بیچا جا رہا ہو، اور آگاہی کے پردے میں محض نمائش ہو رہی ہو۔

یہ پروگرام معلومات نہیں دیتے، بلکہ نجی زندگی کی دیواروں میں دراڑیں ڈالنے کا ہنر سکھاتے ہیں۔ جو باتیں بڑوں کی محفلوں میں بھی دھیرے لہجے میں کی جاتی تھیں، وہ اب قہقہوں کے ساتھ نشر ہو رہی ہیں۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اسے “اوپن ڈسکشن” کا نام دے کر جواز بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔

کیا یہ سب کچھ پیمرا کو نظر نہیں آتا؟

کیا یہ منظر دیکھتے ہوئے پیمرا کے لوگ نابینا ہو جاتے ہیں؟

کیا واقعی ان کی آنکھوں میں ککرے پڑ جاتے ہیں؟
کیا ان کی آنکھوں میں موتیا اتر آیا ہے؟
یا وہ کلر بلائنڈ کی طرح اخلاق بلائنڈ ہو چکے ہیں؟

یہ سوالات محض جذباتی ردعمل نہیں، بلکہ ایک ادارہ جاتی بے حسی کی طرف اشارہ ہیں۔

کیا یہ وہی ادارہ نہیں جو چند سیکنڈ کے بھارتی گانے پر نوٹس بھیج دیتا ہے؟ پھر یہاں خاموشی کیوں ہے؟ کیا یہاں قانون کی رفتار سست پڑ جاتی ہے یا ترجیحات بدل جاتی ہیں؟

یہ دوہرا معیار کیوں؟

اگر اصول یہ ہے کہ معاشرے کی اخلاقیات کا تحفظ کرنا ہے، تو پھر سب کے لیے ایک ہی پیمانہ ہونا چاہیے۔

اگر انڈین مواد دکھانا غلط ہے تو وہ بھی غلط ہے، لیکن اگر بیڈ روم کی کہانیاں سکرین پر لانا درست سمجھا جا رہا ہے تو پھر ہمیں اپنے اصولوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ ورنہ یہ تاثر مضبوط ہوتا جائے گا کہ یہاں قانون نہیں، بلکہ پسند و ناپسند حکمرانی کر رہی ہے۔

ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ ہم ایک باحیا معاشرہ ہیں، ہماری اقدار مختلف ہیں، ہمارا کلچر منفرد ہے۔ دوسری طرف ہم وہ سب کچھ برداشت کر رہے ہیں بلکہ دکھا رہے ہیں جس سے یہی اقدار مجروح ہو رہی ہیں۔ یہ تضاد محض نظری نہیں رہا، بلکہ روزمرہ نشریات کا حصہ بن چکا ہے۔

یہ صرف پیمرا کی ناکامی نہیں، بلکہ ایک اجتماعی منافقت ہے مگر چونکہ پیمرا نگران ادارہ ہے، اس لیے اس کی ذمہ داری سب سے زیادہ بنتی ہے۔ نگران اگر سو جائے تو نگرانی مذاق بن جاتی ہے، اور جب نگرانی مذاق بن جائے تو ضابطے کاغذی رہ جاتے ہیں۔

ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہمیں اصل میں مسئلہ کس چیز سے ہے۔ کیا ہمیں واقعی غیر ملکی مواد سے مسئلہ ہے یا ہمیں صرف دکھاوے کی غیرت عزیز ہے؟ کیا ہمیں اپنی ثقافت کی حفاظت کرنی ہے یا صرف سیاسی بنیادوں پر فیصلے کرنے ہیں؟

ایک گلوکارہ کے گانے دکھانے سے اگر ہمارا نظریہ کمزور ہو جاتا ہے تو پھر ہمیں اپنے نظریے پر بھی غور کرنا چاہیے۔ اور اگر اپنے گھروں کی باتیں بازار میں لانے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا تو پھر ہمیں اپنی اخلاقیات پر بھی سوال اٹھانا چاہیے۔

پیمرا کو چاہیے کہ وہ صرف قانون کا محافظ نہ بنے بلکہ اخلاقی توازن بھی قائم کرے۔ اسے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس کی خاموشی کہاں کہاں بول رہی ہے، اور اس کی کارروائیاں کہاں کہاں غیر متوازن دکھائی دیتی ہیں۔ ورنہ یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ یہاں قانون بھی منتخب ہے اور اخلاقیات بھی۔

اور جب قانون اور اخلاق دونوں منتخب ہو جائیں، تو پھر معاشرہ بھی آہستہ آہستہ اپنی سمت کھو دیتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے