صبر، امید اور قید کی حقیقت

قید ایک ایسی کیفیت ہے جہاں انسان کی ظاہری آزادی محدود ہو جاتی ہے، مگر اس کی سوچ، روح اور احساسات اپنی وسعت برقرار رکھتے ہیں۔ یہ ایک کڑا امتحان بھی ہے اور ایک خاموش موقع بھی اپنے آپ کو پہچاننے، سنوارنے اور اندر سے مضبوط بنانے کا۔ بظاہر قید سختی اور تنہائی کا استعارہ ہے، لیکن اگر قید کرنے والے لوگ اخلاقی، ہمدرد اور رحم دل ہوں تو یہی فضا اجنبیت کے بجائے اپنائیت میں ڈھل جاتی ہے۔

ایسے ماحول میں انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنے ہی لوگوں کے درمیان ہو، جہاں نرمی، احترام اور خلوص دل کو سہارا دیتے ہیں۔ ان کے ساتھ گھل مل جانا، محبت سے بات کرنا اور ایک دوسرے کی مدد کرنا قید کی سختی کو کم کر دیتا ہے، یہاں تک کہ پابندی کا احساس بھی دھندلا پڑ جاتا ہے۔ یہی احساس انسان کو صبر اور برداشت کی طرف مائل کرتا ہے، کیونکہ قید کے دن و رات آسان نہیں ہوتے، مگر جو شخص حالات سے لڑنے کے بجائے انہیں سمجھ کر قبول کرتا ہے، وہ اندرونی سکون پا لیتا ہے۔ صبر انسان کو ٹوٹنے نہیں دیتا بلکہ اسے مضبوط بناتا ہے اور شکر گزاری چھوٹی چھوٹی نعمتوں کو بھی بڑی خوشیوں میں بدل دیتی ہے۔ یوں مہذب گفتگو اور اچھا اخلاق ماحول کو بہتر بناتے ہیں اور دلوں میں نرمی بھی پیدا کرتے ہیں۔

اسی تسلسل میں رہن سہن میں سادگی اور صفائی اختیار کرنا نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ محدود وسائل کے باوجود اپنے اردگرد کو صاف رکھنا، اپنے حصے کی ذمہ داری کو سمجھنا اور صفائی کے عملے کے ساتھ تعاون کرنا ایک اعلیٰ اخلاقی رویہ ہے۔ اپنی نگرانی میں قید خانوں کو صاف رکھنا، خاص طور پر اس خیال کے ساتھ کہ زندانی بچے اور خواتین بیماریوں سے محفوظ رہیں یہ ایک مشکل مگر نہایت بامقصد عمل ہے۔ یہ کام بظاہر دشوار ضرور لگتا ہے مگر جب انسان کے اندر خدمت اور احساسِ ذمہ داری کا جذبہ بیدار ہو جائے تو یہی مشکل آسان ہو جاتی ہے اور دل کو ایک عجیب سا اطمینان نصیب ہوتا ہے۔

مزید برآں، علم اور عبادت قید کے ماحول کو یکسر بدل سکتے ہیں۔ مطالعہ کرنا، نئی چیزیں سیکھنا اور اپنے رب سے تعلق کو مضبوط کرنا انسان کے باطن کو روشن کر دیتا ہے۔ دعا اور ذکر دل کے بوجھ کو ہلکا کرتے ہیں اور امید کا چراغ بجھنے نہیں دیتے۔ یہی لمحات انسان کو اپنے ماضی پر غور کرنے اور خود احتسابی کا موقع دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ اپنی کمزوریوں کو پہچان کر ایک بہتر انسان بننے کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔

اس طرح قید محض وقت گزارنے کا نام رہتا ہے اس سے بڑھ کر ایک بامقصد سفر بن جاتی ہے۔ اسی طرح دوسروں کے دکھ کو سمجھنا اور ان کے لیے آسانی پیدا کرنا بھی قید کی زندگی کو نرم بنا دیتا ہے۔ خاص طور پر نئے قیدی، جو اچانک اور پہلی بار اس ماحول میں آتے ہیں، شدید ذہنی اور جذباتی اذیت کا شکار ہوتے ہیں اور بچوں کی مائیں تو دوہری تکلیف سے گزرتی ہیں۔ ایسے میں ان کو تسلی دینا، ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کرنا اور انہیں یہ سمجھانا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش ہے، ایک بڑی نیکی ہے۔ جب انہیں یہ یاد دلایا جائے کہ انبیاء کرامؑ نے بھی بڑی بڑی آزمائشیں برداشت کیں اور صبر کا دامن نہیں چھوڑا تو ان کے دلوں کو حوصلہ ملتا ہے اور وہ اس مشکل وقت کو سہنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ زندگی اپنی تمام تر سختیوں کے باوجود بے حد خوبصورت ہے، بشرطیکہ انسان اس کو مثبت نظر سے دیکھے۔ اگر ان اصولوں پر عمل کیا جائے تو قید میں بھی سکون اور اطمینان حاصل کیا جا سکتا ہے۔ امید کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ یہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے۔ میں خود بھی بغیر کسی جرم کے ایک عرصہ سینئر قیدی کے طور پر قید میں رہ چکی ہوں، مگر میں نے ہمت نہیں ہاری۔ میں نے خود کو مصروف رکھا اور ہر لمحے کو ایک مقصد دیا۔ یہی حوصلہ انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ قید وقتی ہے اور جو شخص اندھیرے میں بھی روشنی تلاش کرنا سیکھ لے وہی حقیقی معنوں میں آزاد ہوتا ہے۔

یوں قید کی زندگی ایک تربیت گاہ بن سکتی ہے جہاں انسان اپنے اخلاق، صبر، علم اور کردار کو نکھارتا ہے۔ یہ وہ جگہ بن جاتی ہے جہاں انسان خود کو ازسرِنو تعمیر کرتا ہے، تاکہ جب وہ آزادی کی فضا میں قدم رکھے تو پہلے سے زیادہ مضبوط، باوقار اور باشعور انسان بن کر نکلے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے