چلاس، چلاسیت، اور چلاس کے سماجی، سیاسی اور معاشرتی مسائل پر میں بے شمار مرتبہ قلم اٹھا چکا ہوں۔ کھل کر لکھا، بے لاگ لکھا، لومۃ لائم کی پروا کیے بغیر لکھا، اور کبھی مصلحت کا لبادہ اوڑھنے کی کوشش نہیں کی، جو دیکھا وہی لکھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ احباب کی طرف سے طعن و تشنیع بھی سنی، گالیاں بھی کھائی، بعض دوستوں نے ناراضی کا اظہار بھی کیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ جہاں کمزوریاں اور خامیاں ہوں وہاں نشاندہی بھی ضروری ہوتی ہے تاکہ اصلاح احوال کا سلسلہ جاری رہے۔
تاہم انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں خامیاں بیان کی جائیں، وہاں خوبیوں کو بھی کھلے دل سے تسلیم کیا جائے، یہی ایک قلم کار اور مصلح کی نشانی ہوتی ہے۔ اور اگر سچ کہا جائے تو ضلع دیامر، بالخصوص چلاس، ایسی چند نمایاں خصوصیات کا حامل ہے جو پورے پاکستان میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔
ضلع دیامر کی سب سے پہلی اور بنیادی خصوصیت توحید خالص ہے۔ چلاس کی سرزمین پر بسنے والے لوگوں کے عقائد میں ایک غیر معمولی صفائی اور پختگی پائی جاتی ہے۔ یہاں کی فضا میں توحید کی خوشبو رچی بسی ہے۔ لوگ اللہ رب العزت کی وحدانیت کو نہ صرف زبانی کلامی مانتے ہیں بلکہ اپنے عقیدے میں اس کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔ شرک کے کسی شائبے کو برداشت نہ کرنا، اپنے ایمان کی حفاظت کرنا، یہ وہ امتیاز ہے جو اس علاقے کو دیگر تمام علاقوں اور اضلاع سے ممتاز بناتا ہے۔
اللہ رب العزت قرآن مجید میں دو ٹوک ارشاد فرماتا ہے۔
"إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ”
یعنی اللہ تعالیٰ اس بات کو ہرگز معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے۔
چلاس کے لوگوں کی یہ کیفیت کہ وہ توحید کے معاملے میں حساس اور بیدار ہیں، سب کچھ اللہ سے ہونے اور مخلوق سے کچھ نہ ہونے کا یقین ان کے دل و دماغ میں پیوست ہے۔
یقیناً! یہ صفت و کیفیت اللہ کی خاص رحمتوں کو دعوت دیتی ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر برکتوں کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔
دوسری عظیم خصوصیت نماز کی پابندی ہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ ضلع دیامر کے نوّے فیصد سے زائد افراد نماز کے پابند ہیں۔ گرمی کی شدت ہو یا سردی کی سختی، مصروفیات کا ہجوم ہو یا کاروبار کی رونق، نماز کے وقت ہر چیز کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ دیکھنے والے یہ عمل اور منظر روز دیکھتے ہیں۔
چلاس کے مرکزی شہر کا وہ منظر کتنا روح پرور ہوتا ہے جب مساجد سے اذان کی صدا بلند ہوتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے بازار بند ہو جاتے ہیں، دکانیں اور بازار ویران اور مساجد آباد ہو جاتی ہیں۔ لوگ جوق در جوق اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونے کے لیے مساجد کی طرف نکل پڑتے ہیں۔ یہ منظر صرف ایک عبادت کا نہیں بلکہ ایک زندہ معاشرے کی روحانیت، نظم اور دینی تربیت و وابستگی کا عکاس ہے۔
احادیث رسول میں نماز کو دین کا ستون قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
"الصلاة عماد الدين”
یعنی کہ نماز دین کا ستون ہے۔
جب ایک معاشرہ اجتماعی طور پر اس ستون کو مضبوطی سے تھام لے، تو یقیناً اس پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں، رزق میں کشادگی آتی ہے، دلوں میں سکون پیدا ہوتا ہے، اور آزمائشوں میں بھی آسانیاں پیدا ہوتی ہیں۔
یہی وہ دو بنیادی صفات یعنی توحید کی پختگی اور نماز کی پابندی ہیں جو چلاس کو دیگر علاقوں سے ممتاز کرتی ہیں۔ اگرچہ انسانی معاشرہ خامیوں سے خالی نہیں ہوتا، دیامر اور چلاس بھی اس سے مستثنیٰ نہیں، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ یہ دو خوبیاں ہزاروں کمزوریوں پر بھاری ہیں۔
میرا یقین ہے کہ اگر چلاس کے لوگ ان صفات کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے سماجی، اخلاقی اور تعلیمی مسائل پر بھی اسی سنجیدگی سے توجہ دیں، تو یہ خطہ نہ صرف دینی حوالے سے بلکہ دنیاوی ترقی میں بھی ایک مثالی معاشرہ بن سکتا ہے۔
بہرحال سادہ الفاظ میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ برکتیں اتفاقی نہیں، بلکہ ایمان، عقیدے اور عمل کا نتیجہ ہیں۔ اور جب تک یہ بنیادیں قائم رہیں گی، ان شاء اللہ چلاس کی سرزمین برکتوں سے معمور رہے گی۔
تاہم ایک سوال بھی تنگ کررہا ہے کہ
کیا اہلیان دیامر و چلاس مستقبل میں ان عظیم خصوصیات کی حفاظت کر پائیں گے یا پھر اپنی کج رویوں سے کھو دیں گے؟