خطے کی سیاست میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جو محض سفارتی سرگرمی نہیں ہوتے بلکہ مستقبل کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں چین کے شہر اُرمچی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی بات چیت بھی اسی نوعیت کی ایک اہم پیش رفت ہے، جس نے نہ صرف دو ہمسایہ ممالک کے مابین کشیدگی میں کمی کی امید پیدا کی ہے بلکہ پورے خطے میں استحکام کے امکانات کو بھی تقویت دی ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، جہاں تاریخی بداعتمادی، سرحدی تنازعات، سیکیورٹی خدشات اور داخلی سیاسی عوامل نے تعلقات کو پیچیدہ بنائے رکھا۔
ایسے میں اگر دونوں ممالک ایک جامع اور پائیدار حل کی جانب پیش قدمی پر آمادہ ہوتے ہیں تو اسے معمولی پیش رفت قرار دینا حقیقت سے انکار کے مترادف ہوگا۔
یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ برس اکتوبر کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں واضح تناؤ دیکھنے میں آیا۔ سرحدی جھڑپیں، ایک دوسرے پر الزامات اور داخلی سطح پر سخت بیانات نے فضا کو خاصا مکدر کر دیا تھا۔ اس پس منظر میں چین کی میزبانی میں ہونے والی ملاقاتوں کو محض ایک رسمی سفارتی عمل نہیں بلکہ ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد نہ صرف فوری تنازعے کو ٹھنڈا کرنا ہے بلکہ ان بنیادی مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل تلاش کرنا بھی ہے جو بارہا دونوں ممالک کو تصادم کی جانب لے جاتے ہیں۔
چین کا اس عمل میں کردار بھی خاص توجہ کا مستحق ہے۔ بیجنگ نے خود کو ایک ایسے ثالث کے طور پر پیش کیا ہے جو نہ صرف غیر جانبدار ہے بلکہ خطے میں استحکام کا خواہاں بھی ہے۔ چین کی یہ حکمت عملی اس کے وسیع تر علاقائی مفادات سے جڑی ہوئی ہے، جن میں اقتصادی راہداریوں کا تحفظ، تجارتی راستوں کا استحکام اور شدت پسندی کے پھیلاؤ کو روکنا شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین نہ صرف مذاکرات کے لیے پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے بلکہ دونوں ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر اس عمل کو آگے بڑھانے کا خواہاں بھی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کی جڑیں محض حالیہ واقعات تک محدود نہیں بلکہ ان کی بنیادیں ماضی میں پیوست ہیں۔ سرحدی معاملات، مہاجرین کا مسئلہ، شدت پسند گروہوں کی موجودگی اور ایک دوسرے کی سرزمین کے استعمال کے الزامات ایسے عوامل ہیں جنہوں نے باہمی اعتماد کو کمزور کیا۔ تاہم حالیہ مذاکرات میں اس امر پر اتفاق کہ دونوں ممالک ایسی کسی کارروائی سے گریز کریں گے جو صورت حال کو مزید پیچیدہ بنائے، ایک مثبت اشارہ ہے۔ یہ دراصل اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ طاقت کے استعمال یا سخت گیر پالیسیوں کے ذریعے مسائل کا حل ممکن نہیں بلکہ مکالمہ ہی واحد راستہ ہے۔
افغانستان میں طالبان انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات میں پیش رفت کے اعتراف کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بیان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ کابل بھی اس عمل کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور کسی نہ کسی حد تک تعلقات کی بہتری میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اگرچہ عملی اقدامات ہی اس دعوے کی اصل جانچ ہوں گے، تاہم سفارتی سطح پر اس نوعیت کے بیانات ایک سازگار ماحول کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا یہ مذاکرات واقعی دیرپا نتائج دے سکیں گے یا یہ بھی ماضی کی طرح وقتی نوعیت کے ثابت ہوں گے؟ اس کا جواب کئی عوامل پر منحصر ہے۔ سب سے پہلے، دونوں ممالک کی قیادت کو داخلی دباؤ سے بالاتر ہو کر طویل المدتی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔ دوسرا، سرحدی نظم و نسق کو بہتر بنانے اور انٹیلی جنس تعاون کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہوگی تاکہ سیکیورٹی خدشات کو کم کیا جا سکے۔ تیسرا، اقتصادی تعاون کے نئے راستے تلاش کرنا ہوں گے، کیونکہ مشترکہ مفادات ہی تعلقات کو پائیدار بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
چین کا کردار یہاں ایک سہولت کار سے بڑھ کر بھی ہو سکتا ہے، بشرطیکہ وہ اپنی معاشی و سفارتی قوت کو استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کو عملی اقدامات کی جانب مائل کرے۔ علاقائی تعاون کے بڑے منصوبے، جیسے تجارتی راہداریوں کی توسیع یا مشترکہ اقتصادی زونز کا قیام، ایسے اقدامات ہو سکتے ہیں جو نہ صرف اعتماد سازی میں مدد دیں بلکہ تنازعات کے امکانات کو بھی کم کریں۔
تاہم اس سارے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ بداعتمادی کا وہ عنصر ہے جو برسوں سے دونوں ممالک کے تعلقات پر حاوی ہے۔ اس بداعتمادی کو ختم کرنے کے لیے محض بیانات کافی نہیں بلکہ زمینی حقائق میں تبدیلی لانا ہوگی۔ سرحدی کشیدگی کا خاتمہ، ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام اور شدت پسند عناصر کے خلاف واضح اور مشترکہ حکمت عملی ایسے اقدامات ہیں جو اس خلا کو پُر کر سکتے ہیں۔
مزید برآں، عوامی سطح پر بھی رابطوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔ تعلیمی، ثقافتی اور تجارتی روابط ایسے ذرائع ہیں جو نہ صرف دونوں معاشروں کو قریب لاتے ہیں بلکہ دشمنی کے بیانیے کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ جب تک عوامی سطح پر اعتماد بحال نہیں ہوتا، حکومتی سطح کی کوششیں محدود نتائج ہی دے سکیں گی۔
اس تمام تناظر میں اُرمچی مذاکرات کو ایک امید افزا آغاز کہا جا سکتا ہے، لیکن اسے حتمی کامیابی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ اصل امتحان اس بات کا ہے کہ آیا دونوں ممالک اس عزم کو عملی اقدامات میں تبدیل کر پاتے ہیں یا نہیں۔ اگر یہ عمل سنجیدگی اور تسلسل کے ساتھ جاری رہا تو نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ پورا خطہ ایک نئے استحکام کی جانب گامزن ہو سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تاریخ ان قوموں کو یاد رکھتی ہے جو اختلافات کے باوجود مکالمے کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے پاس آج ایک موقع ہے کہ وہ ماضی کی تلخیوں کو پسِ پشت ڈال کر ایک نئے باب کا آغاز کریں۔ اگر یہ موقع ضائع ہو گیا تو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورا خطہ ایک بار پھر عدم استحکام کے گرداب میں پھنس سکتا ہے۔ لیکن اگر دانشمندی، تحمل اور دوراندیشی کا مظاہرہ کیا گیا تو یہی لمحہ مستقبل میں امن و ترقی کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔