[pullquote]افغانستان میں کورونا وبا کی تیسری لہر، تعلیمی مراکز بند[/pullquote]
افغانستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام تعلیمی مراکز بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ افغان وزرت صحت نے ملک بھر میں تمام تر اسکول، یونیورسٹیاں، اور دیگر تعلیمی مراکز آئندہ دو ہفتوں کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ افغانستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کووڈ انیس کے 977 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ افغانستان کو اس وقت کورونا وائرس کی وبا کی تیسری لہر کا سامنا ہے۔ اس مہلک وائرس سے ملک میں دو ہزار آٹھ سو ننانوے اموات ہوچکی ہیں۔ صحت عامہ کی ناقص سہولیات ہونے کے باعث خدشہ ہے کہ ہلاکتوں اور کووڈ پازیٹو افراد کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہے۔
[pullquote]انڈیئن پریمیئر لیگ کے بقیہ میچز امارات میں کھیلے جائیں گے[/pullquote]
بھارت میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے ادھوری رہ جانے والی انڈیئن پریمیئر لیگ کے بقیہ میچز رواں برس ستمبر اور اکتوبر کے دوران متحدہ عرب امارات میں کھیلے جائیں گے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے مطابق امارات میں میچز منتقل کرنے کا فیصلہ موسم سرما میں مون سون بارشوں کے سلسلے کی وجہ سے بھی کیا جارہا ہے۔ اپریل میں شروع ہونے والی آئی پی ایل میں کھیلنے والے متعدد کھلاڑی کورونا وائرس کا شکار ہوگئے تھے، اس لیے چار مئی کو لیگ کے بقیہ مچیز منسوخ کردیے گئے۔ بی سی سی آئی کا مزید کہنا ہے کہ آئی پی ایل کے فوراﹰ بعد بھارت میں منعقد ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچز کے بارے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس بارے میں آئی سی سی کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔
[pullquote]شامی صدر اسد کی کامیابی کے جشن میں فائرنگ، دو افراد ہلاک تین سو سے زائد زخمی[/pullquote]
شام میں چوتھی مرتبہ صدر منتخب ہونے والے بشارالاسد کی جیت کے جشن کی تقریب کے دوران فائرنگ سے کم از کم دو افراد ہلاک اور تین سو سترہ افراد زخمی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ ہلاکتیں دارالحکومت دمشق اور حلب کے کئی علاقوں میں صدر اسد کے حامی کارکنوں کی طرف سے کی گئی ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں ہوئیں۔ حلب میں ہلاک ہونے والوں میں ایک نوجوان اور ایک بچہ شامل ہے۔ شامی صدارتی انتخابات میں صدر بشار الاسد چوتھی بار پچانوے فیصد سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے ہیں۔ تاہم شامی اپوزیشن جماعتوں سمیت امریکا، فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے انتخابات کو دھوکا بازی قرار دیا ہے۔
[pullquote]کولمبیا میں احتجاجی مظاہرے جاری، کالی میں فوج طلب[/pullquote]
کولمبیا کے صدر ایوان ڈوک نے ملک میں ایک ماہ سے جاری احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں فوج طلب کرلی ہے۔ حکام کے مطابق جمعہ کے روز وِیے دِیل کاؤکا صوبے کے شہر کالی میں مظاہروں کے دوران جھڑپوں میں تین افراد ہلاک ہوگئے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ہلاکتوں کی تعداد پچاس سے زائد بتائی جارہی ہے، جس میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ صدر ایوان ڈوک نے حالات قابو کرنے کے لیے کالی میں پولیس کی مدد کے لیے فوری طور پر فوج تعینات کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ کولمبیا میں حکومت کی طرف سے ٹیکس میں اضافے کی تجویز کی وجہ سے گزشتہ ایک مہینے سے ملک گیر حکومت مخالف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
[pullquote]امریکا: ریپبلیکن سینیٹرز نے کیپیٹل ہل کی تفتیش کا راستہ روک دیا[/pullquote]
امریکی سینیٹ میں ریپبلیکن جماعت کے سینیٹرز نے رواں برس چھ جنوری کو سابق صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کیپیٹل ہل پر دھاوے کی تفتیش کے لیے تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے بل کی منظوری میں رکاوٹ کھڑی کردی ہے۔ پچاس ریپبلیکنز سینیٹرز میں سے چھ نے اس بل کے حوالے سے ڈیموکریٹس کی حمایت کی تاہم بل کی منظوری کے لیے ایک سو میں سے ساٹھ ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے اس بل کی منظوری کے لیے کم از کم دس ریپبلیکن سینیٹرز کی حمایت درکار تھی۔ کیپیٹل ہل پر ہنگامہ آرائی کے واقعے کے پانچ ماہ بعد اگر یہ بل منظور ہوجاتا تو تحقیقاتی کمیشن کو یہ حق حاصل ہوتا کہ وہ گواہان کو طلب کرتا اور اس واقعہ کے حوالے سے خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کر سکتا۔
[pullquote]یورپی میڈیسن ایجنسی نے بچوں کے لیے کورونا ویکسین کی اجازت دے دی[/pullquote]
یورپی میڈیسن ایجنسی ای ایم اے نے بارہ سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو بائیون ٹیک / فائزر کی کووڈ ویکسین لگانے کی اجازت دے دی ہے۔ ویکسین کی حتمی منظوری کا فیصلہ یورپی یونین کے کمیشن کی طرف سے کیا جائے گا۔ یورپی یونین میں اب تک یہ ویکسین سولہ برس سے زائد عمر کے افراد کو لگانے کی اجازت تھی۔ ای ایم اے کے مطابق مختلف اعداد وشمار سے یہ پتہ چلا ہے کہ یہ ویکسین چھوٹی عمر کے بچوں کے لیے بھی محفوظ ہے۔ اس فیصلے کے بعد جرمنی میں سات جون سے بچوں اور نوعمر افراد کو کورونا کے ٹیکے لگانے کی مہم کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔
[pullquote]بیلاروس طیارہ تنازعہ: صدر پوتن نے لوکاشینکو کی حمایت کردی[/pullquote]
بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں مسافر بردار طیارے کی زبردستی لینڈنگ کے بعد مغربی ممالک کے ساتھ بڑھتے تنازعے میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے بیلاروسی ہم منصب الیگزینڈر لوکاشینکو کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ سوچی میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے دوران پوتن نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سن 2013 میں جب امریکا کی جانب سے ایڈورڈ اسنوڈن کی تلاش میں بولیویا کے صدر کا طیارہ ویانا میں اتارا گیا تب تو ای یو کی جانب سے تنقید سامنے نہیں آئی تھی۔ منسک میں پیش آنے والے اس واقعے کی وجہ سے یورپی یونین نے اس ہفتے کے آغاز میں بیلاروس پر سخت پابندیاں عائد کردی تھیں جس سے ہوائی جہازوں کی آمدورفت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ادھر امریکا نے بھی بیلاروس پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔
[pullquote]جرمن صدر اشٹائن مائر کا دوسری مرتبہ صدارتی امیدوار بننے کا اعلان[/pullquote]
جرمن صدر فرانک والٹر اشٹائن مائر نے اعلان کیا ہے کہ وہ دوسری مرتبہ صدارتی امیدوار بننے کے لیے تیار ہیں۔ جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک جماعت سے تعلق رکھنے والے اشٹائن مائر کے مطابق وہ کورونا وبا کے بعد مستقبل کے اس سفر میں جرمنی کا ساتھ دینا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے صدارتی ذمہ داریاں سنبھالنا باعث مسرت اور ایک چیلنج بھی ہے۔ سن 2017 سے صدارتی عہدے پر فائز پینسٹھ سالہ صدر اشٹائن مائر کی پہلی صدارتی مدت آئندہ برس مکمل ہو رہی ہے۔ اس کے بعد ان کو جرمن وفاقی اسمبلی کے ذریعے دوبارہ منتخب ہونا پڑے گا۔
[pullquote]کورونا وائرس کی تحقیق میں سائنس اور سیاست کو علیحدہ کیا جائے، ڈبلیو ایچ او[/pullquote]
کورونا وائرس کا آغاز کہاں، کب اور کیسے ہوا؟ اس سوال سے متعلق تحقیق میں سیاسی مداخلت پر عالمی ادارہ صحت کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ایمرجنسی ڈائریکٹر مائیکل رائن نے صحافیوں سے گفتگو میں التجا کی ہے کہ سائنس کو سیاست سے علیحدہ رکھا جائے اور عالمی ادارہ صحت کو مناسب اور مثبت ماحول میں جوابات ڈھونڈنے دیے جائیں۔ مائیکل رائن کے مطابق اس تحقیقاتی عمل کو سیاست کا شکار بنایا جارہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ کوڈ انیس کے آغاز کے بارے میں حقائق جاننے کے لیے نئی تحقیقات شروع کرے۔ فی الحال اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
[pullquote]مالی میں فوجی بغاوت: کرنل اسیمی غویتا عبوری صدر مقرر[/pullquote]
مالی کے دارالحکومت بماکو میں آئینی عدالت نے فوجی بغاوت کے قائد کرنل اسیمی غویتا کو عبوری صدر مقرر کردیا ہے۔ غویتا مالی کے نائب صدر کے عہدے پر فائز تھے۔ بحران کے شکار مغربی افریقی ملک میں رواں ہفتے کے آغاز میں فوج کی طرف سے عبوری حکومت کے صدر باہ نداو اور وزیر اعظم مختار اوان کو برطرف کرکے حراست میں لے لیا گیا۔ دو دن بعد دونوں رہنما حکومتی عہدوں سے مستعفی ہوگئے۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے مالی میں نو ماہ کے دوران دوسری فوجی بغاوت پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔ اسیمی غویتا اس فوجی بغاوت کے قائد ہیں جس کے ذریعے اگست سن 2020 میں قائم کی گئی عبوری حکومت کا تختہ الٹا گیا۔