جو دِکھتا ہے ، وہ بکتا ہے

اگر میں آپ سے کہوں کہ کسی ایسی چیز کے بارے میں سوچیں جس کے بارے میں آپ نے کبھی سنا نہ ہو تو آپ کا کیا جواب ہوگا؟

یقیناً ایسی چیز کو ذہن میں لانا جس کے بارے میں سُنا یا دیکھا نہ ہو ناممکن سی چیز ہے۔ ٹھیک اسی طرح ہم انہیں چیزوں کو ذہن میں لاتے ہیں جن کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں۔ ہمارا ذہن اجنبی خیال کو جلد قبول نہیں کرتا۔ اس کا ایک خطرناک پہلو بھی ہے : فرض کریں کہ دو خیالات ہیں، الف اور ب۔ خیال الف کو آپ سے چھپا لیا جائے اور خیال ب کو بار بار آپ کے سامنے پیش کیا جائے تو اس سے کیا ہوگا؟ اس سے یہ ہوگا کہ آہستہ آہستہ آپ کا ذہن دوسرے خیال کو قبول کرنے لگے گا اور اسے ہی اپنانے لگے گا اور جب اس کے سامنے خیال الف کو پیش کیا جائے گا تو یہ اس کے لئے اجنبی ہوگا لہٰذا ذہن مذمت کرے گا۔

یہی کام میڈیا ہمارے ساتھ کرتا ہے۔ میڈیا ایک خیال کو چاہے وہ کوئی شخصیت ہو، نظریہ ہو یا کچھ اور، بار بار ہمارے سامنے پیش کرتا ہے تا کہ ہمارا ذہن اس کا عادی ہو جائے۔ رفتہ رفتہ ہمارا ذہن اسے آخری option سمجھنے لگتا ہے اور قبول کر لیتا ہے اور یہی media کا propaganda ہے۔

ہزاروں سال پہلے انسان نے اونچی آوازوں، اچانک حرکات اور جلد رونما ہونے والے واقعات کی طرف توجہ دی اور انہیں خطرے کا پیغام سمجھا۔ اس چیز نے انہیں خطرے سے بچنے میں مدد دی۔اور یہ چیز انسان کے شعور میں ثبت ہو گئی کہ اونچی آوازیں اور اچانک حرکات خطرے کا پیغام ہیں لہذا بچنا چاہیے۔

آج کے اس دور میں وہ اونچی آوازیں کچھ اور نہیں یہی "خبریں” اور "میڈیا” ہیں۔ میڈیا اُسی پرانے احساس کو واپس جگاتا ہے اور ہمارے ذہنوں پر قابو پا لیتا ہے۔ یہ خطرے کو خود ہی تخلیق کرتے ہیں اور پھر حل بیچتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے فیصلے ہمارے فیصلے ہیں جبکہ وہ فیصلے بھی ہم سے کروائے جاتے ہیں۔

ایک خاص قسم کا مواد اگر بار بار آپ کو دکھایا جائے گا تو آپ اس سے باہر کا نہیں سوچ پائیں گے۔ اسے جدید میڈیا میں Eco-chamber یا Filter Bubble کہتے ہیں۔ عام زبان میں اسے پنجرہ سمجھ لیجئے۔ اس پنجرے کے اندر آپ کو جو خیالات، مواد یا مصنوعات میسر ہوں گی آپ وہی خریدیں گے اگرچہ پنجرے کے باہر ان سے بہتر کا انبار موجود ہو۔

اس جدید میڈیا کے دور میں آپ وہی اپنائیں گے جو آپ نے دیکھا ہوگا یا آپ کو وہی دکھایا جائے گا جسے طاقت اپنوانا چاہتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے