زیڈ اے بُخاری کی سرگزشت(2&1)

بعض گھرانوں پر قدرت اپنی سخاوت میں بہت فیاض ہوتی ہے۔ اسی طرح کا ایک گھرانہ پشاور میں پیروں کا تھا‘ جہاں دو بھائیوں نے اپنی محنت‘ لگن اور تخلیقی صلاحیتوں کی بدولت ملکی اور غیر ملکی سطح پر نام کمایا اور جن کا نام اپنے اپنے شعبوں میں تا دیر جگمگاتا رہے گا۔ ان بھائیوں میں ایک پطرس بُخاری اور دوسرے زیڈ ا ے بُخاری تھے۔ پطرس کا اصل نام احمد شاہ بُخاری تھا۔ پطرس بُخاری گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل رہے۔ بعد میں وہ پاکستان کے سفیر مقرر ہوئے اور اقوامِ متحدہ میں اسسٹنٹ سیکرٹری کے عہدے پر فائز رہے۔ اُردو ادب میں ”پطرس کے مضامین‘‘ کا تذکرہ ہمیشہ ہوتا رہے گا۔ پطرس کے چھوٹے بھائی زیڈ اے بُخاری تھے جو براڈکاسٹنگ کی دنیا میں ایک اساطیری کردار کے طور ابھرے۔ کہتے ہیں‘ برگد کے درخت کے نیچے کوئی پودا نشوونما نہیں پا سکتا‘ لیکن زیڈ اے بُخاری نے اس کہاوت کو غلط ثابت کر دیا۔ ایسا کیونکر ممکن ہوا‘ یہ دلچسپ اور تفصیلی داستان ان کی آپ بیتی ”سرگزشت‘‘ میں ملتی ہے۔ کئی برس پہلے میں نے اس دلچسپ کتاب کا مطالعہ کیا تھا۔ اس کا ذائقہ اب تک باقی ہے۔ کل یونہی اپنی سٹڈی میں کسی کتاب کی تلاش کر رہا تھا کہ زیڈ اے بُخاری کی سرگزشت پر نظر پڑی۔ بے اختیار میں نے ریک سے کتاب نکالی اور وہیں کرسی پر بیٹھ کر پڑھنے لگا۔ اس روز اسلام آباد میں خوب بارش ہوئی تھی اور اولے پڑے تھے۔ میں نے کھڑکی کا پردہ ہٹا دیا تھا اور اس سرگزشت کی سحر انگیز دنیا میں کھو گیا۔ اس کتاب کی بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔

یہ 1962ء کی بات ہے‘ پاکستان میں ایک نئے اُردو اخبار ”حریت‘‘ کے اجرا کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ اخبار کے مدیر انقلاب ماتری تھے۔ نئے اخبار کیلئے انوکھے اور دلچسپ مواد کی تیاری پر سوچ بچار ہو رہی تھی کہ اچانک معروف صحافی نصراللہ خان اور انقلاب ماتری کا خیال زیڈ اے بخاری کی طرف گیا‘ کیوں نہ ان سے درخواست کی جائے کہ وہ حریت اخبار کیلئے کالم لکھیں۔ فیصلہ ہوا کہ زیڈ اے بُخاری کو کسی خاص موضوع کا پابند بنانے کے بجائے انہیں کہا جائے وہ اپنی زندگی کے دلچسپ واقعات لکھیں۔ یوں جب 3 دسمبر 1962ء کو حریت اخبار کا پہلا شمارہ آیا تو اس میں زیڈ اے بُخاری کا کالم بھی شامل تھا۔ بعد میں انہی کالموں کا انتخاب ”سرگزشت‘‘ کی صورت میں سامنے آیا‘ جو زیڈ اے بُخاری کی ہنگامہ خیز زندگی اور اس عہد کی سیاسی اور معاشرتی تاریخ ہے۔ زیڈ اے بُخاری کی ابتدائی تعلیم پشاور کے ایک سرکاری سکول کی ہے جہاں کے پرنسپل انگریز ہوا کرتے تھے۔ بہت بعد میں یہ عہدہ مقامی لوگوں کو ملا۔ زیڈ اے بُخاری کے دورِ طالبِ علمی میں علامہ مشرقی اس سکول کے پرنسپل بنے‘ جو علم و فضل کے اعلیٰ مرتبے پر فائز تھے۔

منشی فاضل کیلئے انہوں نے اوریئنٹل کالج میں داخلہ لے لیا۔ یہاں سے وہ منشی فاضل کی ڈگری لے کے فارغ ہوئے ہی تھے کہ ایک دوست کی وساطت سے انہیں ایک ملازمت کا اشتہار ملا جس میں شملہ میں واقع بورڈ آف ایگزامینز میں ایک ممبر کی ضرورت تھی۔ اس محکمے کا کام مشرقی زبانوں میں سیکھنے والوں کا امتحان لینا اور کامیاب امیدواروں کو سند دینا تھا۔ اشتہار میں لکھا تھا کہ امیدوار انگریزی، اُردو، فارسی، پشتو، پنجابی اور عربی جانتا ہو۔ یہ 1925ء کا سال تھا۔ زیڈ اے بُخاری نے درخواست بھیج دی۔ درخواست میں دو ریفرنسز لکھنے تھے۔ زیڈ اے بُخاری کی درخواست پر یہ دو ریفرنسز پروفیسر محمد سعید دہلوی اور ڈاکٹر محمد اقبال کے تھے۔ انٹرویو میں زیڈ اے بُخاری کا انتخاب ہو گیا‘ اور وہ شملہ میں بورڈ آف ایگزامینز میں اپنے فرائض سر انجام دینے لگے‘ لیکن زیڈ اے بُخاری کے اندر کا آرٹسٹ اپنے اظہار کے لیے نئی راہیں تلاش کر رہا تھا۔ جلد ہی یہ موقع بھی مل گیا۔ زیڈ اے بُخاری نے شملہ کے آڈیٹوریم میں امتیاز علی تاج کا مشہورِ زمانہ ڈرامہ ”انارکلی‘‘ سٹیج کیا۔ ڈرامے میں سلیم کا مرکزی کردار زیڈ اے بُخاری نے خود کیا۔ ڈرامہ دیکھنے والوں میں شملہ میں مقیم برٹش آرمی کے افسران بھی تھے‘ جنہوں نے ڈرامے پر خوب داد دی خاص طور پر سلیم کے کردار کو پسند کیا گیا۔ بعد میں یہ ڈرامہ زیڈ اے بُخاری کی زندگی میں اہم موڑ ثابت ہوا۔

ہوا یوں کہ ایک محفل میں زیڈ اے بُخاری کے ایک پُرانے دوست نے انہیں بتایا کہ لارڈ ولنگڈن کی ضیافت میں اس کی ملاقات فیلڈن نامی ایک شخص سے ہوئی جو لندن سے آیا تھا‘ اور اس کے ہندوستان آنے کا مقصد یہاں براڈ کاسٹنگ کی بنیاد رکھنا تھا۔ دوست کے اصرار پر زیڈ اے بُخاری نے اپنی درخواست بھیج دی۔ انٹرویو کی کال آئی اور جب زیڈ اے بُخاری انٹرویو کیلئے دہلی پہنچے تو انہیں پتا چلا کہ سلیکشن بورڈ میں ان کے بڑے بھائی پطرس بُخاری بھی شامل ہیں۔ زیڈ اے بُخاری فیلڈن سے ملے اور بتایا کہ چونکہ ان کے بڑے بھائی سلیکشن بورڈ میں شامل ہیں چنانچہ وہ انٹرویو نہیں دیں گے۔ ادھر جب پطرس بُخاری کو پتا چلا کہ ان کا چھوٹا بھائی امیدواروں میں شامل ہے تو انہوں نے انٹرویو بورڈ میں بیٹھنے سے معذرت کر لی۔ فیلڈن کے اصرار پر زیڈ اے بُخاری انٹرویو کیلئے رضامند ہوئے اور انٹرویو کے بعد انہیں ڈائریکٹر اور پروگرامز کے عہدے کیلئے منتخب کر لیا گیا۔

دہلی میں ایک عمارت میں ریڈیو کا آغاز کیا گیا تھا۔ پہلے ہی دن زیڈ اے بُخاری کی ملاقات اسرارالحق مجاز، آغا اشرف اور سجاد سرمد نیازی سے ہوئی اور بعد میں ادیبوں، شاعروں، موسیقاروں، گلوکاروں اور سیاستدانوں کی ایک کہکشاں تھی جس سے زیڈ اے بُخاری کا تعارف ہوا۔ رشید احمد، جی کے فرید، ن م راشد، حفیظ ہو شیار پوری، کرنل چند، راجندر سنگھ بیدی، کیسے کیسے لعل و جواہر تھے جو ریڈیو کے ساتھ وابستہ تھے۔ ریڈیو کی اس ٹیم کا سربراہ فیلڈن تھا جو ایک متمول انگریز خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ ریڈیو جس کا جنون تھا اور یہی جنون اسے ہندوستان لے آیا تھا۔ فیلڈن کی نظر ہر پہلو پر ہوتی تھی۔ وہ اعلیٰ پیشہ ورانہ معیارات کا قائل تھا اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہ کرتا تھا۔ زیڈ اے بُخاری کے ساتھ فیلڈن کا تعلق دوستی کا تھا۔ شام کا کھانا دونوں بلاناغہ فیلڈن کے گھر کھاتے تھے لیکن پیشہ ورانہ معاملات میں وہ دوستی کو بالائے طاق رکھ دیتا تھا۔ فیلڈن نے اس روز ریڈیو کی گھڑی کو لندن کے کلاک سے ملا کر دیکھا تو پتہ چلا کہ ریڈیو دہلی کی گھڑی لندن کے کلاک سے 3 منٹ پیچھے ہے۔ فیلڈن کا چہرہ غصّے سے سُرخ ہورہا تھا۔ اس نے پوچھا: دہلی ریڈیو اپنی گھڑی کس گھڑی سے ملاتا ہے؟ زیڈ اے بُخاری بتاتے ہیں‘ ہم نے فیلڈن کو بتایا کہ دہلی ریڈیو کی گھڑی کو ڈاک اور تار گھر کے محکمے کی گھڑی سے ملاتے ہیں۔

اس پر فیلڈن نے ڈائریکٹر جنرل پی اینڈ ٹی سے پوچھا: محکمے کی گھڑی کس گھڑی سے ملائی جاتی ہے۔ جواب ملا: ریلوے والوں کی گھڑی سے۔ جب ریلوے والوں سے پوچھا گیاکہ وہ اپنی گھڑی کس گھڑی سے ملاتے ہیں تو پتا چلاکہ وہ اپنی گھڑی دہلی ریڈیو کی گھڑی سے ملاتے ہیں۔ اس انکشاف پر فیلڈن کا ردِعمل دیدنی تھا۔ اب ریڈیو کے ساتھ معاشرے کے اہم افراد وابستہ ہورہے تھے۔ ایک دن خبر ملی کہ پطرس بُخاری نے سٹیشن ڈائریکٹر کے طور پر دہلی ریڈیو کو جوائن کرلیا ہے۔ اس سے پیشتر زیڈ اے بُخاری ڈائریکٹر پروگرامز کے عہدے سے ترقی پاکر اسسٹنٹ ڈائریکٹر بن گئے تھے۔ اب ایک بھائی سٹیشن ڈائریکٹر تھا تو دوسرا بھائی اسسٹنٹ ڈائریکٹر۔ ہر طرف چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں۔ اس زمانے میں دیوان سنگھ مفتون کے اخبار ”ریاست‘‘ کا شہرہ تھا جو حکمرانوں اور راجاؤں کی پگڑیاں اچھالنے کیلئے جانا جاتا تھا۔ دیوان سنگھ مفتون کے ذہنِ رساکو ایک انوکھا خیال سوجھا، اس نے BBC کو ”بُخاری برادرز کارپوریشن‘‘ کا مُخفف قراردیا۔ دیوان سنگھ مفتون کی ”بُخاری برادرز کارپوریشن‘‘ کی اصطلاح اتنی دلچسپ اور معنی خیز تھی کہ دنوں میں دہلی کے گلی کوچوں میں پھیل گئی۔

دہلی میں ریڈیو سٹیشن کا آغاز ہو گیا تھا۔ریڈیو میں کام کرنے والی ٹیم کا سربراہ برطانیہ سے آیا ہوا براڈ کاسٹنگ کا ماہر فیلڈن تھا۔ یاد رہے یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان پر برطانیہ کا قبضہ تھااور ہندوستان میں ریڈیو کا ایک مقصد تاجِ برطانیہ کے سیاسی مفادات کی نگہبانی بھی تھا۔دہلی ریڈیو مقامی زبانوں میں موسیقی کے پروگرام‘ ڈرامے اور تقریریں اہتمام سے نشر کر تا تھا۔ریڈیو کی عمومی پالیسی پر البتہ برطانیہ کا پر تو نظر آتا تھا۔ یہ1936ء کی بات ہے ‘ اس سال برطانیہ کے بادشاہ جارج پنجم کا انتقال ہو گیا تھا اور برطانیہ میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ انگریزوں کو یہ توقع تھی کہ سوگ کا یہ عالم ہندوستان میں بھی نظر آئے‘ انہیں یہ خبر نہیں تھی کہ یہاں کے لوگوں کا جارج پنجم سے کوئی جذباتی تعلق نہیں ‘ لیکن چونکہ دہلی ریڈیو پر براہِ راست برطانیہ اور بی بی سی کے اثرات تھے۔ اس لیے دہلی ریڈیو کو حکم دیا گیا کہ تمام پروگرامز بند کر کے صرف خبریں سنائیں یا پھر مغربی کلاسیکی موسیقی کے ریکارڈ بجائے جائیں۔ خبریں سناتے وقت بھی آواز میں خوش دلی نہ آنے پائے اور لہجہ ایسا اختیار کیا جائے جیسے کوئی اپنا مر گیا ہو۔

ایک کارندے کو اس کام پر مقر ر کیا گیا کہ وہ سارا دن مغربی موسیقی کی اُداس دھنیں نشر کرتا رہے۔آغا اشرف کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ خبریں پڑھتے رہیں۔ سٹوڈیو میں اناؤنسر کے سامنے ایک بٹن لگا ہوتا ہے‘ اسے دائیں طرف گھمانے سے اناؤنسر کی آواز آتی تھی اور بائیں طرف گھمانے سے موسیقی کے سٹوڈیو کا پروگرام سنائی دیتا تھا۔آغاز اشرف خبریں پڑھ رہے تھے اور بادشاہ سلامت کی بیماری اور انتقال کے بارے میں بتا رہے تھے۔آغاز اشرف اپنے لہجے میں تمام تر سنجیدگی اور اُداسی سمو کر بول رہے تھے ”حضور ملکِ معظم نے انتقال سے تقریباً پانچ منٹ پہلے فرمایا…‘‘ اسی اثنا میں آغا اشرف کو کھانسی آگئی تو انہوں نے سامنے لگے بٹن کو بائیں طرف گھمایا جس کا تعلق موسیقی کے سٹوڈیو سے تھا جہاں سے طبلہ نواز ملنگ خان کی آواز آرہی تھی ”یہ میری ہتھوڑی کون حرام زادہ لے گیا ہے؟‘‘اب مکمل فقرہ یوں بنا تھا۔”حضور ِ ملکِ معظم نے انتقال سے تقریباً پانچ منٹ پہلے فرمایایہ میری ہتھوڑی کون حرام زادہ لے گیا ہے؟‘‘اس واقعے پر باقاعدہ جواب طلبی ہوئی لیکن لارڈ ولنگڈن نے اپنی کوششوں سے معاملے کو رفع دفع کرایا۔

سرگزشت میں جہاں اس عہد کی سیاسی اور معاشرتی جھلکیاں ملتی ہیں‘ زیڈ اے بخا ری کے ذاتی تجربات سے بھی آگاہی ہوتی ہے۔ان میں سے کچھ واقعات تو عقل کو حیران کر دیتے ہیں۔اسی طرح کا ایک واقعہ آپ بھی سنیے۔زیڈ اے بخاری لکھتے ہیں کہ ایک بار وہ پشاور سے لاہور گئے۔ اس وقت ان کی عمر گیارہ بارہ برس تھی۔ وہاں کے تمام تاریخی مقامات کی سیر کی۔ کئی دن وہاں رہنے کے بعد دیکھا تو واپس پشاورجانے کیلئے کرائے میں تین روپے کم تھے۔جن کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے ان سے پیسے مانگنا معیوب سا لگتا تھا‘آخر ان کے ذہن میں ایک ترکیب آئی کہ میزبان کی لائبریری سے کوئی کتاب پڑھنے کے بہانے باہر لے جاؤں اور اسے بیچ کر کرائے میں تین روپے کی کمی پوری کر لوںاور اگر میزبان اس بارے میں پوچھے تو انہیں بتادیا جائے کہ کتاب کہیں کھو گئی ہے۔زیڈ اے بخاری کے بقول انہوں نے لائبریری سے ایک درمیانے حجم کی کتاب نکالی اور جلدی سے گھر سے باہر نکل گئے۔جب وہ لاہوری دروازے کے پاس پہنچے تو سوچا باغ میں بیٹھ کر کتاب دیکھ لی جائے تاکہ دام لگانے میں آسانی ہو۔کتاب کھول کر اس کا نام دیکھا تو وہ حضرت علی ہجویری ؒکی تصنیف ”کشف المحجوب ‘‘ تھی۔ زیڈ اے بخاری لکھتے ہیں کتاب دیکھ کر”میرے آنسو نکل آئے جی بھر کے رویااور روتا ہوا داتا دربار میں پہنچا فاتحہ پڑھی‘ دعا مانگی اور ایک کونے میں سر گھٹنوں میں ڈال کر بیٹھ گیا۔جانے کتنی دیر بیٹھا رہا اور کیا کیا سوچتا رہا۔

آخر اٹھا ٹکسالی دروازے کی طرف باغ کے بیچ میں بغیر کسی ارادے کے چلنا شروع کر دیا۔چلتے چلتے تھک گیا تو ایک بینچ پر بیٹھ گیا۔مجھ پر ایک ہیبت طاری تھی۔بہت دیر تک مبہوت بیٹھا رہا۔آخر اٹھا۔ایک ہاتھ سے کتاب کو گلے سے لگایااو ر دوسرا ہاتھ بینچ پر ٹیک لگا کر اٹھنے لگا۔جب بینچ پر ہاتھ پڑا تو کوئی شے چبھنے لگی۔دیکھا تو تین روپے پڑے ہیں۔سچی بات ہے کہ اس پر اسرارِ دنیا کی اپنی منطق ہے جس کے راز ہماری عقل سے ماورا ہیں۔ زیڈ اے بخاری جو ایک روشن خیال اور مغربی تہذیب سے قریب تر تھے‘ ایک اور دلچسپ واقعہ سناتے ہیں کہ دہلی ریڈیو کے عملے میں ان کا ایک ساتھی نیازی تھاجسے علمِ نجوم سے دلچسپی تھی جبکہ بخاری ایسی چیزوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ایک روز نیازی نے انہیں کہا: کارونیشن ہوٹل میں ایک نجومی آیا ہے تم اس سے مل کر علمِ نجوم کے قائل ہو جاؤ گے۔ بخاری کی پُر تجسس طبیعت انہیں اگلے روز ہی کارونیشن ہوٹل لے گئی۔نجومی نے بخاری کاہاتھ دیکھا تو اس کے چہرے پر پسینہ آگیا۔وہ حیرت سے بولا کہ آج مجھے اپنے علم پر شک ہونے لگا ہے۔میرے علم کے مطابق تو بخاری مر چکا ہے۔تم میرے سامنے کیسے زندہ بیٹھے ہو۔”یہاں سے واپسی پر بخاری نے نیازی سے مِل کر نجومی کا خوب مذاق اُڑایا اورپھر دفتر کے صحن میں باغ کی ترتیب کے لیے مالی کو ہدایات دینے لگے۔اچانک جس چبوترے پر وہ کھڑے تھے۔اس کی زمین پھٹ گئی اور وہ مالی سمیت کنویں میں جا پڑے۔بڑی مشکل سے کنویں سے نکالا گیااور بے حس و حرکت جسم کو چارپائی پر ڈال دیا گیا۔ان کی سانس‘نبض اور دل کی دھڑکن بند تھی۔پانچ ڈاکٹروں نے آکر دیکھا اور سر ہلا دیا۔آخر ڈاکٹر ہاشمی نے ایک انجکشن لگایاتو سانس بحال ہوئی۔بعد میں نیازی نے ہنستے ہوئے بخاری سے کہا: نجومی کی بات کوئی ایسی غلط بھی نہ تھی۔اس واقعے کے ایک عرصے کے بعد بھی بخاری جب اس دن کو یاد کرتے تو حیرت میں مبتلا ہو جاتے۔

زیڈ اے بخاری ریڈیو کو مشرقی کلاسیکی موسیقی کے فروغ کے لیے بھی استعمال کر نا چاہتے تھے۔اس غرض سے اس زمانے کے معروف فنکار ریڈیو سے پروگرام نشر کرتے تھے۔اس کیلئے فنکاروں سے باقاعدہ کنٹریکٹ ہوتا۔اسی طرح سیاسی رہنماؤں سے تقاریر کرائی جاتیں۔اس دوران جواہر لعل نہرو اور قائداعظم محمد علی جناح نے بھی ریڈیوسے تقاریر نشر کیں۔اس سے ریڈیو سننے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا۔یہ وہ زمانہ تھا کہ بہت کم لوگوں کے گھروں میں ریڈیو ہوتا تھا۔انہی دنوں کی بات ہے بخاری دہلی کے تاج ہوٹل میں کھانا کھا رہے تھے۔کہ ان کی نظر دور ایک میز پر بیٹھے سر آغا خان پر پڑی۔ بخاری کے ذہن میں آیا کہ اگر آغا خان ریڈیو پر تقریر کیلئے مان جائیں تو کیسا ہو؟ یہ سوچ کر زیڈاے ُبخاری سر آغا خان کی میز کی طرف گئے اور ان کے ایک رفیق کار سے مدعا بیان کیا۔ سر آغا خان نے درخواست مان لی اور طے یہ ہوا کہ وہ اسلام اور بین الاقوامی امن کے موضوع پر گفتگو کریں گے۔ اس تقریر کی اخبار میں تشہیر کی گئی۔دن اور وقت کا اعلان ہوا۔اس پر آغا خان کے پیروکاروں کی طرف سے دھڑا دھڑ درخواستیں آنے لگیں کہ اس دن انہیں سٹوڈیو آنے کی اجازت دی جائے۔ ان سب درخواستوں کو منظور کرنا ممکن نہ تھا۔ جب درخواست گزاروں کو پتا چلا تو انہوں نے اعلان کر دیا کہ وہ سڑک کے کنارے اکٹھے ہوں گے۔ ریڈیو کی سینئر مینجمنٹ کیلئے یہ ایک چیلنج تھا۔سب سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔

ادھرعلاقے کے کمشنر کو پتا چلا تو وہ بھی پریشان ہو گیا۔ اسے معلوم تھا کہ اگر آغا خان ریڈیو آئے توان کے ہمراہ ہزاروں مداحین آئیں گے۔ ایسے میں نقضِ امن کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ادھر تقریر کا دن قریب آرہا تھا اوردہلی ریڈیو اور شہر کی مینجمنٹ کے اعصاب چٹخنے لگے تھے۔(جاری)

بشکریہ دنیا

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے