یومِ مزدور: ایک دن نہیں ایک اجتماعی احتساب

بے حسی کی چادر اوڑھے بیٹھا ہے یہ شہر سارا
چیخ بھی سنائی دے تو کوئی چونکتا نہیں
وقت کا تقاضا ہے کہ اب آواز اٹھائی جائے
ورنہ یہ اندھیرا کبھی خود سے چھٹتا نہیں
( آمنہ درانی)

یکم مئی دنیا بھر میں یومِ مزدور کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں محنت کش طبقے کی اہمیت ان کی خدمات اور ان کے حقوق کی یاد دلاتا ہے۔ مزدور کسی بھی ملک کی معیشت کی بنیاد اور ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔

اسلام محنت، دیانت اور انصاف کا درس دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مزدور کے حقوق کی ادائیگی پر خاص زور دیا ہے۔

ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دی جائے۔ یہ اصول ہمیں انصاف، دیانت داری اور بروقت حقوق کی ادائیگی کا درس دیتا ہے۔

موجودہ دور میں مشینوں اور جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے جہاں ترقی کی رفتار تیز کی ہے، وہاں انسانی محنت کش طبقے کو بھی کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی صنعتوں میں مشینیں انسانی محنت کی جگہ لے رہی ہیں جس سے بعض مزدور بے روزگاری اور کم اجرت جیسے مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔

چائلڈ لیبر بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بچے اسکول جانے کی بجائے ورکشاپس، ہوٹلوں اور چھوٹے کاموں میں مصروف ہیں جس سے ان کا مستقبل متاثر ہوتا ہے۔ اسی طرح خواتین مزدور بھی کم اجرت اور غیر منصفانہ رویے کا سامنا کرتی ہیں جو معاشرتی عدم توازن کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ حقیقت بھی تسلیم شدہ ہے کہ کسی بھی ملک کی معیشت میں مزدور کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔ اگر مزدور نہ ہو تو نہ عمارتیں بنتی ہیں، نہ صنعتیں چلتی ہیں اور نہ ہی ترقی کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔ ہر بڑی کامیابی کے پیچھے محنت کش ہاتھوں کی قربانی اور جدوجہد شامل ہوتی ہے۔

ایک ترقی یافتہ اور مثالی معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں مزدور کو اس کی محنت کا پورا حق ملےبچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع ہو اور خواتین کو عزت و انصاف کے ساتھ روزگار دیا جائے۔

انصاف پر مبنی نظام ہی ایک مضبوط اور خوشحال معاشرے کی ضمانت ہے۔
یومِ مزدور ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ محنت کی قدر کی جائے، محنت کشوں کا احترام کیا جائے اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی جائے جہاں ہر فرد کو اس کا حق بروقت اور مکمل طور پر ملے۔

درحقیقت یومِ مزدور ہمارے لیے احتساب کا دن ہونا چاہیے مگر افسوس کہ یہ دن محض چند تقریروں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

ہم اپنے آپ کا محاسبہ کرنے کے لیے تیار نہیں کہ ہم نے معاشرے کے محنت کش طبقے کے لیے کیا اقدامات کیے اور ان کے حقوق کس حد تک یقینی بنائے گئے ہیں۔ کیا آج بھی ان کے ساتھ ناانصافیاں جاری ہیں؟ اگر ایسا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے ملک میں انصاف پر مبنی نظام کا مؤثر طور پر نافذ نہ ہونا اور احتساب کے عمل میں غفلت برتنا ہے۔

بیشک یہ دن منایا جانا چاہیے اور نوجوان نسل کو مزدور طبقے کے حقوق اور ان کی اہمیت سے آگاہ کیا جانا چاہیے، مگر افسوس کہ باشعور طبقہ بھی اس دن اپنا محاسبہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

یہ وہی دن ہے جس پر ہر مملکت کے عدل و انصاف سے وابستہ اداروں کو خود احتسابی کرنی چاہیے کہ آیا وہ معاشرے کو واقعی ترقی کی راہ پر گامزن کر رہے ہیں یا نہیں۔

کیا اس نظام میں تمام انسانوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں؟ یا وہ مزدور جو کل بھی بھوکا سوتا تھا، آج بھی ویسے ہی محرومی کا شکار ہے؟ کیا اس کی آنے والی نسلیں بھی اندھیروں میں بھٹکتی رہیں گی؟ کیا اس کے نصیب میں کبھی سکون نہیں آئے گا؟ اور کیا اس کے بچے مستقبل میں ڈاکٹر، انجینئر یا ملک کی ترقی میں کردار ادا کرنے والے شہری بن سکیں گے؟

غور طلب بات یہ ہے کہ اس روایت کو بدلا جائے کہ محض ایک دن منانے پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ اسے حقیقی معنوں میں احتساب کا دن بنایا جائے۔ اس موقع پر ہمیں عملی اقدامات کرتے ہوئے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم جدید دور کے باشعور، مہذب اور ذمہ دار انسان ہیں جو صرف باتیں نہیں کرتے ہیں بلکہ عمل کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لاتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے