اسلام آباد میں کچی آبادیوں کی مسماری فوری بند کی جائے، رہنماؤں کا مطالبہ

اسلام آباد: آل پاکستان الائنس تاریکی آبادی کے رہنماؤں نے اسلام آباد میں کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے کچی آبادیوں اور صدیوں سے آباد قدیمی دیہات کی بے دردی سے کی جانے والی مسماری کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے بھی اپیل کی ہے کہ اس سلسلے میں خاطر خواہ اور دور رس پالیسی وضع کی جائے، کیونکہ رہائش تمام شہریوں کا آئینی حق ہے۔ بصورت دیگر، غیر قانونی مسماریاں بند نہ کرنے کی صورت میں وفاقی آئینی عدالت میں توہینِ عدالت کی درخواستیں دائر کی جائیں گی۔

آل پاکستان الائنس تاریکی آبادی، عوامی ورکرز پارٹی، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے رہنماؤں، جن میں عاصم سجاد اختر، عالیہ امیر علی، ڈاکٹر فرزانہ باری، طارق محمود و دیگر شامل تھے، نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے کم آمدنی والے افراد کو رہائش فراہم کرنے کی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔ مزید یہ کہ اعلیٰ عدالتوں کے جبری مسماریوں کے خلاف جاری کردہ احکامات کی بھی بار بار خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے اپنے 1960ء کے آرڈیننس کے تحت قانونی ذمہ داریوں کا پابند ہے، جس میں واضح طور پر کچی آبادیوں کو ریگولرائز کرنے کا ذکر موجود ہے۔ مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سی ڈی اے نے 2002ء کے بعد سے کچی آبادیوں اور دیگر غیر رسمی بستیوں کا کوئی جامع سروے نہیں کیا۔ اس دوران اسلام آباد کی آبادی تقریباً 8 لاکھ سے بڑھ کر 2.4 ملین تک پہنچ چکی ہے، مگر سی ڈی اے اب بھی دارالحکومت میں صرف چھ کچی آبادیوں کو تسلیم کرتا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ وفاقی حکومت کی اپنی نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2025ء کے مطابق اسلام آباد میں 60 سے زائد کچی آبادیاں موجود ہیں، جن کی مجموعی آبادی تقریباً پانچ لاکھ ہے۔ ان کے مطابق کچی آبادیوں کو غیر قانونی تجاوزات قرار دینا دراصل اشرافیہ نواز پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن جیسی گیٹڈ ہاؤسنگ اسکیمیں خود قانونی سوالات کی زد میں ہیں۔

مزید برآں، مقررین نے کہا کہ تفریحی سہولیات جیسے گن اینڈ کنٹری کلب اور اسلام آباد کلب کو خصوصی رعایتیں دی جاتی ہیں اور وہ عملاً قانونی پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں۔ ان کے مطابق سی ڈی اے بڑے پراپرٹی ڈویلپرز، سڑکوں کے ٹھیکیداروں اور بیوروکریٹک اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرتا رہا ہے۔

مقررین نے سی ڈی اے اور موجودہ حکومت کی ترقیاتی پالیسیوں کے باعث مقامی ماحولیات کی تباہی پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچی آبادیوں کے ساتھ ساتھ نور پور شاہاں، بری امام، سید پور، ملپور اور ڈھوک ٹاہلی جیسے تاریخی دیہات کو بھی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ عدالتی احکامات کے باوجود ہزاروں درخت کاٹے جا رہے ہیں، جبکہ بے لگام تعمیرات نے فضائی آلودگی میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث پاکستان کو سنگین ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے