دنیا اس وقت ایک عجیب دوراہے پر کھڑی ہے جہاں نہ مکمل جنگ ہے اور نہ ہی حقیقی امن۔ یہ ایک ایسا مبہم مرحلہ ہے جس میں عالمی طاقتیں کھل کر ٹکرا بھی نہیں رہیں، مگر پس پردہ کشمکش عروج پر ہے۔ سفارتی بیانات میں امن کی باتیں کی جاتی ہیں، جبکہ عملی میدان میں اسلحہ، پابندیاں اور پراکسی جنگیں جاری ہیں۔ یہی تضاد آج کے عالمی نظام کو ایک خطرناک کنفیوژن میں دھکیل رہا ہے۔
بڑی طاقتوں کے درمیان سرد مہری اب کسی خفیہ راز کی محتاج نہیں رہی۔ ایک طرف اقتصادی پابندیوں کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے، تو دوسری طرف علاقائی تنازعات کو ہوا دے کر اپنے مفادات کا تحفظ کیا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ سے لے کر یوکرین تک، اور جنوبی ایشیا سے افریقہ تک، ہر خطہ کسی نہ کسی شکل میں اسی غیر اعلانیہ کشمکش کا شکار ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید دور میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی۔ اب معیشت، میڈیا، سائبر اسپیس اور سفارت کاری بھی جنگ کے نئے محاذ بن چکے ہیں۔ ایک ملک دوسرے کو کمزور کرنے کے لیے گولی نہیں چلاتا، بلکہ کرنسی، ٹیکنالوجی اور اطلاعات کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام انسان کو بظاہر امن نظر آتا ہے، مگر درحقیقت دنیا ایک مسلسل تناؤ میں جکڑی ہوئی ہے۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہے۔ ایک طرف عالمی دباؤ، دوسری طرف علاقائی چیلنجز — ایسے میں متوازن پالیسی اختیار کرنا ایک مشکل ترین کام بن چکا ہے۔ نہ مکمل طور پر کسی بلاک کا حصہ بن سکتے ہیں، نہ ہی مکمل غیر جانبداری ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت کئی ممالک "اسٹریٹجک بیلنس” کی پالیسی اپنانے پر مجبور ہیں۔
سوال یہ ہے کہ یہ کنفیوژن کب تک جاری رہے گی؟ کیا دنیا ایک بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے یا یہ کشیدگی کسی نئے عالمی نظام کو جنم دے گی؟ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے غیر یقینی ادوار اکثر کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔
فی الحال حقیقت یہی ہے کہ دنیا نہ مکمل جنگ میں ہے اور نہ ہی حقیقی امن میں — بلکہ ایک ایسے دھندلکے میں ہے جہاں ہر قدم سوچ سمجھ کر رکھنا پڑتا ہے۔ اس کنفیوژن کا سب سے بڑا اثر عام انسان پر پڑ رہا ہے، جو مہنگائی، عدم استحکام اور بے یقینی کا شکار ہے۔
اگر عالمی طاقتیں واقعی امن چاہتی ہیں تو انہیں صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ بصورت دیگر یہ "نہ جنگ، نہ امن” کی کیفیت دنیا کو ایک ایسے موڑ پر لے جا سکتی ہے جہاں واپسی ممکن نہ ہو۔