خواتین کے لیے روزگار کے مواقع: شہروں اور دیہات کا موازنہ

پاکستان میں خواتین کے روزگار کا ذکر آئے تو عمومی تاثر یہی ہوتا ہے کہ شہروں میں مواقع زیادہ ہوں گے، دفاتر ہوں گے، فیکٹریاں ہوں گی اور ترقی کے در کھلے ہوں گے۔ مگر اعداد و شمار اس مفروضے کو کسی حد تک الٹ دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں دیہی خواتین کی معاشی شرکت شہری خواتین کے مقابلے میں زیادہ نظر آتی ہے یہ فرق واضح اور معنی خیز خلیج ہے۔

لیبر فورس سروے 2025 کے مطابق دیہی علاقوں میں تقریباً 29 فیصد خواتین کسی نہ کسی معاشی سرگرمی سے وابستہ ہیں، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح محض 12 فیصد کے قریب ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مردوں میں دیہی اور شہری علاقوں کا یہ فرق بہت کم ہے یعنی صرف چند فیصد کا۔ لیکن خواتین کے معاملے میں یہی فرق ایک بڑے معاشی تضاد کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

یہ صورتحال عالمی رجحان کے برعکس ہے جہاں عموماً اربنائزیشن کے ساتھ خواتین کی معاشی شمولیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں معاملہ اس کے الٹ چل رہا ہے۔ یہاں جیسے جیسے شہر پھیل رہے ہیں، ویسے ویسے خواتین کے لیے رسمی روزگار کے دروازے تنگ ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان کی مجموعی لیبر فورس میں خواتین کی شرکت 22 فیصد کے قریب ہے، جبکہ مردوں کی شرح 68 فیصد تک ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران یہ شرح تقریباً ایک ہی دائرے میں گھوم رہی ہے یعنی نہ نمایاں اضافہ اور نہ واضح کمی، بلکہ ایک جمود جو معاشی ترقی کے دعوؤں پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

دیہی علاقوں میں خواتین کی زیادہ شمولیت کی بنیادی وجہ زرعی معیشت ہے۔ زراعت وہ شعبہ ہے جہاں خواتین کا کردار بہت واضح اور نمایاں ہے۔ کھیتوں میں کام، مویشیوں کی دیکھ بھال، فصل کی کٹائی اور گھریلو سطح پر زرعی پیداوار میں شمولیت یہ سب دیہی خواتین کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق زراعت میں خواتین کی شمولیت 60 فیصد سے بھی زیادہ ہے جو مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

اسی پس منظر میں ایک اور اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ دیہاتی خواتین کاروباری لحاظ سے بھی غیر معمولی سمجھ بوجھ رکھتی ہیں۔ محدود وسائل کے باوجود وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے چھوٹے مگر مؤثر کاروبار کھڑے کر لیتی ہیں۔ ان کی یہ سوچ صرف محنت تک محدود نہیں رہتی ہے یہ منصوبہ بندی اور خود انحصاری کی عملی مثال بن جاتی ہے۔

اسی طرح دیہی خواتین اکثر اپنے گھروں سے ہی کاروبار کا آغاز کرتی ہیں، جو نہ ہی ان کے لیے آسان ہوتا ہے بلکہ سماجی حدود کے اندر رہتے ہوئے معاشی خودمختاری کا راستہ بھی فراہم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر گھریلو سطح پر سبزیاں اُگا کر مقامی منڈی تک پہنچانا، گھر میں تیار کردہ کھانے ہوٹلوں یا دکانوں کو فراہم کرنا، جلیبی، مٹھائی اور بسکٹ بنا کر بیکریوں تک سپلائی کرنا یا سلائی کڑھائی کے ذریعے کپڑوں کی تیاری یہ سب ایسے عملی ماڈلز ہیں جو کم سرمائے میں بہتر آمدن کا ذریعہ بنتے ہیں۔

اسی طرح مویشی پالنا اور پولٹری کا کام بھی دیہی خواتین کے لیے ایک مضبوط معاشی سہارا ہے۔ گھروں میں گائے، بکریاں یا مرغیاں پال کر وہ دودھ اور انڈوں کی صورت میں روزمرہ ضروریات پوری کرتی ہیں اور اضافی پیداوار فروخت کر کے مستقل آمدن بھی حاصل کرتی ہیں۔ انڈوں سے چوزے نکالنا اور انہیں فروخت کرنا ایک چھوٹے پیمانے پر مگر پائیدار کاروبار کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے علاوہ دیسی گھی، مکھن، پنیر اور اچار جیسی اشیاء کی تیاری اور فروخت بھی دیہی معیشت میں خواتین کے کردار کو مزید مضبوط بناتی ہے۔

یہ تمام مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دیہی خواتین محنت کش ہیں اور فطری طور پر کاروباری ذہن بھی رکھتی ہیں۔ وہ مواقع کا انتظار نہیں کرتیں بلکہ دستیاب وسائل کو ہی موقع میں بدل دیتی ہیں جو کسی بھی کامیاب معیشت کی بنیادی روح ہے۔

اس کے برعکس شہری معیشت زیادہ تر صنعت اور خدمات کے شعبے پر مشتمل ہے، جہاں رسمی تعلیم، تکنیکی مہارت اور دفاتر کے مخصوص ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں خواتین کی شمولیت نسبتاً کم رہ جاتی ہے۔ وجہ تعلیم نہیں ہے ایک پیچیدہ سماجی، معاشی اور ثقافتی ڈھانچہ ہے جو خواتین کی پیشہ ورانہ موجودگی کو محدود کرتا ہے۔

اسی طرح شہری خواتین کو کئی عملی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ محفوظ اور قابل اعتماد ٹرانسپورٹ کی کمی، دفاتر میں عدم تحفظ کا احساس، کام کی جگہ پر تعصب اور بچوں کی دیکھ بھال کے مناسب نظام کا فقدان وہ بنیادی مسائل ہیں جو خواتین کو گھروں سے باہر نکل کر مستقل روزگار اختیار کرنے سے روکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی خواتین رسمی ملازمت کے بجائے غیر رسمی یا فری لانس کاموں کی طرف مائل ہو رہی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تعلیم میں اضافہ اور لڑکیوں کی بڑھتی ہوئی شرح خواندگی کے باوجود لیبر فورس میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ نئی ملازمتیں ایسے شعبوں میں پیدا ہو رہی ہیں جہاں مردوں کی برتری پہلے سے موجود ہے اور خواتین کے لیے داخلہ نسبتاً مشکل ہے۔ صنعتی ترقی اور شہری معیشت نے روزگار کے مواقع تو پیدا کیے ہیں، مگر وہ مواقع صنفی لحاظ سے یکساں طور پر تقسیم نہیں ہو سکے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ دیہی علاقوں میں خواتین کی معاشی شمولیت اکثر انتخاب نہیں ہوتی ہے ضرورت ہوتی ہے۔ زرعی معیشت میں ان کی شرکت بسا اوقات غیر رسمی اور کم معاوضہ ہوتی ہے، جسے رسمی معیشت میں پوری طرح شمار بھی نہیں کیا جاتا۔ اس کے باوجود وہ اعداد و شمار میں موجود رہتی ہیں، جبکہ شہری خواتین کی بڑی تعداد تعلیم اور ہنر کے باوجود لیبر فورس سے باہر رہتی ہے۔

اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو مسئلہ روزگار کی کمی کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے جو خواتین کی معاشی شرکت کو مکمل طور پر سہارا نہیں دیتا۔ جب تک محفوظ ماحول، مساوی اجرت، آسان نقل و حرکت اور بچوں کی دیکھ بھال کے قابلِ رسائی نظام موجود نہیں ہوں گے، تب تک شہری معیشت میں خواتین کا کردار محدود ہی رہے گا۔

اسی طرح اس تناظر میں ایک مضبوط اور عملی تجویز یہ ہے کہ دیہی خواتین کے چھوٹے کاروبار کو باقاعدہ معیشت کا حصہ بنایا جائے۔ حکومت اور نجی ادارے مل کر مائیکرو فنانس، ہنر مندی کی تربیت اور منڈی تک رسائی کے بہتر مواقع فراہم کریں تاکہ یہ گھریلو سطح کے کاروبار چھوٹے درجے سے نکل کر باقاعدہ صنعت کی شکل اختیار کر سکیں۔ اگر دیہی خواتین کی اس فطری کاروباری صلاحیت کو منظم انداز میں سہارا دیا جائے تو اس سے ان کی زندگی بہتر ہو سکتی ہے اور ملکی معیشت کو بھی ایک نئی رفتار مل سکتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے