پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں ’علما مشائخ‘ کی نشست پر تحریک انصاف نے سابق جہادی کمانڈر کو ٹکٹ جاری کر دیا ہے۔ تحریک انصاف کی مقامی تنظیم کے سیکرٹری جنرل عبدالماجد خان کے ہمراہ مظہر سعید شاہ (المعروف عبداللہ شاہ مظہر) نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔
عبداللہ شاہ مظہر کے نام سے پہچانے جانے والے مظہر سعید شاہ وادی نیلم کے علاقے لوات سے تعلق رکھتے ہیں۔ لمبے عرصے سے کراچی میں مقیم ہیں اور وہاں ایک مقامی مسجد میں خطیب کے فرائض بھی سرانجام دیتے ہیں۔ مظہر سعید شاہ ماضی میں ’افغان جہاد‘ میں شامل رہے اور ڈاکٹر نجیب حکومت کے خاتمے کے بعد مبینہ طور پر افغانستان کے ایک صوبے عہدے دار بھی رہے ہیں۔ کالعدم حرکۃ المجاہدین سے ’جہادی‘ سفرشروع کرنے والے مظہرسعید شاہ بعد ازاں ’مولانا مسعود اظہر‘ کی تنظیم ’کالعدم جیش محمد‘ کے اہم عہدوں پر فائز رہے۔
مظہر سعید شاہ پر اشتعال انگیز تقاریر کی وجہ سے مختلف علاقوں میں پابندیاں بھی عائد کی جاتی رہی ہیں اور گزشتہ کچھ عرصہ سے نیلم میں ایک اشتعال انگیز تقریر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ نے بھی ان کی تصاویر اور ویڈیوز کو نفرت پھیلانے والی شخصیات کے زمرے میں شامل کر رکھا ہے۔
2008ء میں برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ نے بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں عسکری سرگرمیوں کے دوران مارے جانے والے نوجوان ’ریاض حسین‘ سے متعلق شائع کی جانیوالی ایک رپورٹ میں بھی مظہر سعید شاہ (عبداللہ شاہ مظہر) کا بطور رہنما ’جیش محمد‘ صوبہ سندھ ذکر کیا ہے۔
2011ء میں جمعیت علما اسلام جموں و کشمیرمیں شمولیت اختیار کرتے ہوئے مظہرسعید شاہ نے نیلم ویلی سے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں بھی حصہ لیا، تاہم وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ کچھ عرصہ قبل مولانا فضل الرحمان کے دورہ نیلم کی میزبانی بھی مظہر سعید شاہ نے ہی کی تھی۔ حالیہ انتخابات سے قبل انہوں نے مسلم کانفرنس میں شمولیت کا اعلان کیا، ٹکٹ نہ ملنے پر ’آل جموں و کشمیر جمعیت علما اسلام محمود الحسن گروپ‘ میں شمولیت اختیار کی۔ یہ تنظیم مولانا فضل الرحمان سے بغاوت کر کے قائم کی گئی ہے۔ مظہر سعید شاہ کو شمولیت کے فوری بعد جماعت کے پارلیمانی بورڈ کا چیئرمین بنایا گیا، تاہم کوئی بھی امیدوار فائنل نہ ہو سکا اور مظہر سعید شاہ نے جمعیت علما اسلام (فضل الرحمان گروپ) اور پاکستان تحریک انصاف کے پرچم اپنے گاڑی پر لگا کر تحریک انصاف کے امیدوار ’گل خنداں‘ کی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیا۔ گل خنداں بھی مسلم لیگ ن کے امیدوار شاہ غلام قادر سے شکست کھا گئے۔
صحافی جلال الدین مغل نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پرلکھا کہ ”مظہر سعید شاہ فضل الرحمان کے کافی قریب تھے۔ مسعود اظہر کے ساتھ جیش محمد میں بھی کافی سرگرم رہے۔ طالبان کے ابتدائی دور حکومت میں افغانستان کے کسی صوبے کے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔ تب عبداللہ شاہ مظہر کے نام سے جانے جاتے تھے۔ کچھ عرصہ قبل سیالکوٹ میں سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہوتے وقت کسی پیچیدگی کی وجہ سے وزن کافی کم ہو گیا۔“
یاد رہے کہ مظہر سعید شاہ کچھ عرصہ لاپتہ بھی رہے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ انہیں مقتدر اداروں نے اپنی تحویل میں لے رکھا تھا، کافی عرصہ تحویل میں رکھنے کے بعد جب انہیں رہائی ملی تو جسمانی طور پر کافی کمزور ہو گئے تھے۔ 2 سال قبل کی انکی تقاریر کی تصاویر اور موجودہ تصاویر کے مطابق وہ 2 سال پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ کمزور دکھائی دیتے ہیں۔
یاد رہے کہ مظہر سعید شاہ کے بڑے بھائی مفتی ابولبابہ شاہ منصور (اصلی نام طاہر شاہ) کراچی میں واقعہ مشہور ادارے ’جامعۃ الرشید‘ میں استاد ہیں ۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان سے اشاعت کا آغاز کرنے والے ’جہادی‘ہفت روزہ ’ضرب مومن‘ سمیت دیگر کے مستقل لکھاریوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مفتی ابولبابہ شاہ منصور نے ’دجال‘ سمیت متعدد کتب بھی تحریر کر رکھی ہیں۔
بشکریہ جدوجہد