محنت وہ کنجی ہے جو بند دروازوں کو بھی کھول دیتی ہے۔” یہ محاورہ انسانی جدوجہد کی سچائی کو بیان کرتا ہے اور اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی کا دار و مدار اس کے محنت کش طبقے پر ہوتا ہے۔ جب ہاتھ کام میں مصروف ہوں، جب پسینہ زمین کو سیراب کرے اور جب ارادے مضبوط ہوں تو معاشرے ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی معیشت پالیسیوں یا وسائل سے مضبوط نہیں ہوتی ان محنتی ہاتھوں سے ہوتی ہے جو دن رات اس کی بنیادیں استوار کرتے ہیں۔
اسی طرح ملک کی معیشت میں مزدوروں کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ صنعت، زراعت، تعمیرات، خدمات ہر شعبہ انہی محنت کشوں کے دم سے زندہ ہے۔ مزدور اپنی محنت سے پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں اور قومی ترقی کی رفتار کو بھی تیز کرتے ہیں۔ اگر مزدور نہ ہوں تو کارخانے خاموش، کھیت سنسان اور ترقی کے خواب ادھورے رہ جائیں۔
یکم مئی کو ہر سال مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کی اہمیت ایک تاریخ، ایک جدوجہد اور ایک قربانی کی داستان ہے۔ مختلف تنظیمیں، فیڈریشنز، تحریکیں اور سیاسی و سماجی جماعتیں اس دن مزدوروں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی ہیں اور ان کے معاشی مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششوں کو مزید تیز کرنے کا عزم دہراتی ہیں۔ تاہم بہت کم لوگ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ شکاگو میں اوقاتِ کار کے تعین کے لیے ہونے والے تاریخی احتجاج میں خواتین صفِ اول میں کھڑی تھیں۔ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی ریاستی جبر و تشدد کا بے خوفی سے سامنا کیا اور اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کیں۔
شکاگو کے ان شہداء کی قربانیوں کے نتیجے میں بالآخر اوقاتِ کار کے مطالبے کو تسلیم کیا گیا اور مزدور کو ایک انسان کے طور پر پہچان ملی۔ اس کے بعد بتدریج مزدوروں کے حقوق، سروس سٹرکچر اور سہولیات کے حوالے سے عالمی سطح پر سنجیدہ مباحث کا آغاز ہوا۔ اگرچہ بین الاقوامی کنونشنز کے ذریعے مزدوروں کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا گیا، مگر افسوس کہ 1886ء کے دور کی استحصالی سوچ آج بھی مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ آج بھی بہت سے ممالک میں مزدوروں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے، انہیں مناسب اجرت نہیں ملتی، دورانِ ملازمت سہولیات کا فقدان ہوتا ہے اور جبری برطرفی جیسے مسائل عام ہیں۔
خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں مزدوروں کی رجسٹریشن کا نظام کمزور ہے جس کے باعث ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ نہیں بن پاتا۔ نتیجتاً فیکٹری مالکان اور صنعت کار کھلے عام مزدوروں کا استحصال کرتے رہتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ بات نہایت اہم ہے کہ مزدوروں کے حقوق کا باضابطہ اعتراف 1904ء میں ایمسٹرڈم میں کیا گیا، جبکہ اسلام نے چودہ سو سال قبل ہی مزدور کو عزت اور مقام عطا کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے واضح طور پر فرمایا کہ “مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کر دو۔” مزید یہ کہ مزدور سے اس کی طاقت سے زیادہ کام نہ لیا جائے اور مزدوری پہلے سے طے کر کے وعدے کی پاسداری کی جائے۔
آپ ﷺ کے فرامین اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ اسلام مزدور کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان لوگوں کے خلاف خود کھڑا ہوگا جو مزدور کا حق مارتے ہیں، وعدہ خلافی کرتے ہیں یا کسی انسان کا استحصال کرتے ہیں۔ یہ تعلیمات ایک اخلاقی ضابطہ ہیں اور مکمل سماجی انصاف کا نظام بھی پیش کرتی ہیں۔
یکم مئی صرف مرد مزدوروں کا دن نہیں ہے ان خواتین کا بھی دن ہے جو مردوں کے شانہ بشانہ معاشی میدان میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ خواتین مزدور فیکٹریوں، کھیتوں اور دفاتر میں کام کرتی ہیں اس کے ساتھ ہی گھر کی ذمہ داریوں کو بھی بخوبی نبھاتی ہیں۔ وہ ایک ہی وقت میں مزدور، ماں، بیٹی اور بیوی کے کردار ادا کرتی ہیں جو ان کی بے مثال قربانی اور عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اکثر خواتین شوقیہ مزدوری نہیں کرتیں انہیں معاشی مجبوریوں کے تحت کام کرنا پڑتا ہے۔ گھریلو اخراجات، بچوں کی تعلیم اور زندگی کی بنیادی ضروریات انہیں عملی میدان میں آنے پر مجبور کرتی ہیں۔ افسوس کہ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں، جہاں آئین خواتین کے حقوق اور ان کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، وہاں بھی خواتین کو امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ انہیں مساوی اجرت نہیں دی جاتی، ملازمت کا تحفظ حاصل نہیں اور کئی مقامات پر ان کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔
اسی طرح فیکٹریوں اور کارخانوں میں خواتین کو اکثر سرکاری طور پر مقرر کردہ اجرت سے کم معاوضہ دیا جاتا ہے اور انہیں وہ سہولیات بھی میسر نہیں ہوتیں جو ان کا حق ہیں۔ یہ نہ آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی سراسر منافی ہے۔ جو لوگ مزدوروں، خصوصاً خواتین کا استحصال کرتے ہیں وہ قانونی مجرم ہوتا ہے اور اخلاقی، دینی لحاظ سے بھی جوابدہ ہیں۔
اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ یکم مئی کو تقاریر اور بیانات تک محدود نہ رہیں عملی اقدامات کریں۔ خواتین مزدوروں کو ان کے جائز حقوق دلائے جائیں، انہیں محفوظ اور باعزت ماحول فراہم کیا جائے اور ان کی محنت کا صحیح صلہ دیا جائے۔ کیونکہ جب ایک مزدور خوشحال ہوگا تو اس کا گھر خوشحال ہوگا اور جب گھروں میں خوشحالی آئے گی تو ملک خود بخود ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔