لوگ جگہوں میں نہیں جگہیں بھی انسانوں میں رہتی ہیں

میرے پاکستان سے جرمنی منتقل ہونے کے بعد سوشل میڈیا کے حلقہ احباب سے کئی دوست بات چیت کے دوران پہلی یا آخری بات یہ کہتے ہیں کہ "بھئ تمہارے تو مزے ہو گئے، تمہاری جان چھوٹی اس جہنم سے، دنیا کے بہترین ملک میں بیٹھ کر موجیں مارو”۔ اور یقیناً ایسی صورتحال صرف مجھے ہی درپیش نہیں، کئی پاکستانی جو عارضی یا مستقل طور پر کسی بھی وجہ سے مغربی ممالک کی طرف کوچ کر جاتے ہیں، انہیں اپنے ہم وطنوں سے اکثرو بیشتر ایسے جملے سننے کو ملتے ہیں۔

کچھ روز قبل ایک صاحب نے انباکس میں آ کر "موجیں” کرنے والی صلاح دی تو میں نے مذکورہ بالا وضاحت دی جس کے جواب میں محترم نے ان الفاظ میں سیدھا سیدھا patriotic ہونے کی گالی میرے منہ پر دے ماری۔

"the fact remains, you left a country, moved to another, would apply for citizenship yet have the audacity to defend a misplaced sense of patriotism, what a shame”

گویا مجھے جرمنی یا تو کسی اڑن کھٹولے نے پہنچایا ہو یا ان حضرت کی کوششوں نے جبکہ یہ خود کسمپسری و مفلوک الحالی میں پیچھے سڑتے رہ گئے۔میری نظر میں تو patriotic ہونا بھی کچھ ایسا برا نہیں بشرطیکہ staunch nationalism کی حد تک نہ بڑھا ہوا ہو۔ البتہ پچھلے کچھ عرصے میں، میں اپنی شخصی آزادی کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئےمعاشرے اور ملک کی طرف روایتی فرائض سے خود کو کافی حد تک بری الذمہ کر لیا لہذا اب میں patriotic کہلائے جانے کے اعزاز کی بھی حقدار نہیں رہی۔ محنت، ایمانداری، سچائی اور خود انحصاری جیسے virtues کی میں پہلے بھی قائل تھی اور اب بھی اسی جذبے سے کام کرنے کی کوشش کرتی ہوں مگر یہ جذبے کسی greater responsibility کی طرف کنٹریبیوشن نہیں بلکہ بالکل پرسنل کیپیسٹی میں میرے کردار کے inescapable morals ہیں۔

ایک غریب الدیار کی غریب الوطنی کو موج و مستی سے تعبیر کرنا ایسی leap of faith ہے جو کسی شخص کے انفرادی اور باالخصوص اندرونی حالات پر قیاس آرائی کرتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ پاکستان معیار زندگی کے اعتبار سے رہنے کے لئے بدترین جگہ بن چکی ہے البتہ یہ کس طرح درست ہے کہ کسی شخص کی اپنی زمین سے فطری دلی و جذباتی وابستگی کو اس خطے کے معروضی حالات تک محدود کر دیا جائے۔ اگر فی الوقت یہ بھی مان لیا جائے کہ اس بیان کے پیچھے حب الوطنی کے جذبات کارفرما ہیں تو بھی کیا یہ جائز ہے کہ ملک چھوڑ جانے والے شخص کو کہا جائے کہ چونکہ تم نے بہتر مواقع کی تلاش میں یا نامساعد حالات کی وجہ سے ملک چھوڑا ہے تو اب اپنے اصل وطن سے لازمی طور پر نفرت کا اظہار کرو وگرنہ غیر ملک میں بیٹھ کر اپنی آبائی سرزمین کے متعلق کسی بھی قسم کا مثبت بیان منافقت کے طور پر دیکھا جائے گا۔ منافقت تو تب ہو جب کوئی نکل جائے مگر دوسروں کو ترغیب دے کہ وہیں ٹکے رہو۔ انسان کسی بھی دئیے گئے لمحے میں اسکے سوا کیا ہے جو وہ اسوقت تک بن چکا ہے اور وہ جو کچھ ہے وہ کسی مخصوص جگہ اور حالات میں تشکیل پایا ہے، یوں وہ جگہ وقت اور حالات ہمارے اندر موجود ہیں، جگہ وہ کینوس ہے جس پر وقت ہماری تصویر ڈھالتا ہے۔ حب الوطنی کے ایکسٹریم مخالف بیانیے میں اس زمان و مکاں جو کسی شخص کی ذات کی تشکیل کا میڈیم رہا ہے سے بیزاری اور لاتعلقی کے اظہار پر اصرار کس قدر لایعنی ہے۔

کسی مخصوص خطے یا ملک سے اسکے زمینی حالات کے سبب نفرت jingoistic patriotism کی ہی ایک شکل ہے۔ اگر اپنے وطن سے محبت اس لئے ایک بیکار بات ہے کہ زمین کے اس ٹکڑے پر ہمارا ظہور محض حادثاتی ہے تو اسی جگہ سے اسی اصول کی بنیاد پر نفرت بھی کیا معنی رکھتی ہے؟ اس قسم کی ذہنیت خود اپنے اندر کسی حد تک وہی خصوصیات رکھتی ہے جو blind patriotism رکھتا ہے۔ دوسرے اس قسم کے بیانیے میں بیرون ملک جانے والے شخص کے لئے دل میں موجود نفرت اور کینے کا عنصر ملتا ہے۔ ‘جنت’ ، ‘موج’ اور ‘مزے’ جیسے الفاظ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس شخص کی اس سفر اور اس جگہ پہنچنے کے لئے کی جانیوالی تمام جدوجہد کی بیک جنبش قلم نفی کر دی گئ اور اسے ایک previliged class کا ایسا میمبر بنا کر other ڈکلئیر کر دیا گیا جسے اب کسی قسم کے آلام و مصائب کا سامنا نہیں۔

یہ سوچ نہ صرف اسے اسکے اپنے ہی وطن سے "جلاوطن” کر دیتی ہیں بلکہ یہ سوچ رکھنے والا اس ملک کا باسی ہونے کے سبب مفت کی victimhood کما لیتا ہے باوجود اس کے دونوں میں سے کوئی بھی اس معاملے میں کسی خاص سینس میں خوش نصیب یا بد نصیب نہیں۔ اور اگرچہ پاکستانی معاشرہ عورتوں کے لئے باالخصوص گھٹن اور فرسٹریشن کی جگہ ہے اسکے باوجود میرے بیرون ملک سفر کے لئے یہ وجہ کبھی پرنسپل تحریک نہیں رہی، بلکہ یہ سوچتے ہوئے کہ میرے جانے کے بعد میری بہن اور کئ دوسری عورتیں بدستور وہی زندگی جیتی رہیں گی جس سے میں نکل رہی ہوں تو عورتوں کے لئے بدرجہا بہتر ملک میں رہنے کی خوشی بھی جاتی رہی اور اب جبکہ میں یہاں ہوں تو اور بھی شدت سے محسوس کرتی ہوں کہ جہاں اجتماعی ہجرت ہمیشہ ایک واضح ہدف کی محتاج رہی ہے وہیں انفرادی ہجرت بےحد متنوع محرکات رکھتی ہے اور فرد واحد کے لئے اول الذکر سے زیادہ پچیدہ نتائج کی حامل ہے کہ فرد واحد کی ہجرت اپنی نوعیت میں اتنا ہی بڑا واقعہ ہے جتنا کہ اجتماعی ہجرت مگر جسکا صدمہ شخص تن تنہا سہتا ہے۔

میری نظر میں خود محرکات ہجرت اور سفر ہجرت کو محض پیسے، تعلیم، اور اچھی زندگی جیسے مقاصد کے حصول تک محدود کر دینا ہجرت جیسے تاریخی و آفاقی اور فطری مظہر کا انتہائی materialist اور reductionist treament ہے۔ بسااوقات یہ ہجرت محض گھر اور چہروں کی تبدیلی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتی اور بیشتر اوقات یہ کسی جبر کے بغیر مجبوری ہوتی ہے۔ اگر وہ لوگ جو غریب الوطنی اختیار کرتے ہیں یہ دیکھ سکتے کہ جس جگہ وہ جا رہے ہیں اس سے چنداں مختلف نہیں جہاں سے وہ رخصت ہو رہے ہیں تو شاید وہ سفر کی صعوبتیں اٹھانے کی زحمت ہی نہ کرتے مگر ایسا انجام سفر بھی سفر نہ کرنے کی وجہ بننے کے لئے کیونکر کافی ہو کہ انسان ایک خاص جگہ پیدا ہونے پر مجبور ہے نا کہ درخت یا چٹان کی طرح ایک ہی جگہ گڑے رہنے پر۔ انسان فطرتاً دنیا کا مسافر بن کر آیا ہے نا کہ کسی ایک خطے کا مکین تو پھر کیوں نہ دشت زیست کے ساتھ ساتھ دشت دنیا کی خاک چھاننے بھی نکل پڑے۔

میں نے جس وقت پاکستان چھوڑا تو میرے اندرونی و بیرونی حالات صرف اس طرح بیان کئے جا سکتے تھے۔

"The only thing more unthinkable than leaving was staying; the only thing more impossible than staying was leaving.”

جو لوگ خطوں کو محض انکے جغرافیائی و زمینی حالات کی روشنی میں دیکھتے ہیں، انہیں میں نے اکثر تنگ نظر اور جذبات کی شدت سے محروم پایا ہے۔ جو لوگ خود کو کسی وطن سے جوڑنے کے اہل نہیں ہوتے وہ غریب الوطنی کے تجربات و احساسات کی گہرائی سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم میں سے شاید ہی کوئی خود کو مکمل طور پر ایک جگہ سے اکھاڑ کر کے دوسری جگہ بسانے کی اہلیت رکھتا ہو کہ یہ وطن سے محبت ہی ہے جو دیار غیر میں بھی ایک وطن ڈھونڈ لیتی ہے اور وقت کیساتھ اس کسی سرزمین پر بھی ایک دیس بسالیتی ہے۔ ایک انسان کا تعلق کسی خطے سے محض بیرونی مادی حالات و واقعات طے نہیں کرتے، یہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کلی ہجرت شاید محض جسم کر سکتے ہیں۔ انسان ایک ماحول سے اٹھا کر دوسری ماحول میں نہیں رکھے جاتے، وہ اپنے اندر بھی آباد ہوتے ہیں۔ لوگ جگہوں میں نہیں جگہیں بھی انسانوں میں رہتی ہیں۔

انسان یادیں ہے، قبریں ہے، موسم ہے، بچپن ہے، ماضی ہے، لڑکپن کی محبتیں ہے، محبوب ہے، اور انسان خود اپنا گھر ہے۔ اس سب کے باوجود کبھی کبھار گھر لوٹ آنا گھر سے نکلنے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

مجھے تو خیر وطن چھوڑ کر اماں نہ ملی
وطن بھی مجھ سے غریب الوطن کو ترسے گا

(ناصر کاظمی)

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے