بعض اوقات انسان اپنی ہی زندگی کے ایسے موڑ پر کھڑا ہوتا ہے جہاں اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہی فیصلوں کے درمیان تقسیم ہو گیا ہے۔ ایک طرف اس کے بنائے ہوئے اصول ہوتے ہیں،دوسرے طرف وه اصول جن پر وہ ہمیشہ فخر کرتا آیا ہوتا ہے، جن کے بارے میں اس نے خود سے وعدہ کیا ہوتا ہے کہ حق بات سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ غلط کو غلط کہے گا اور ناانصافی برداشت نہیں کرے گا۔مگر دوسری طرف خون کے رشتے ہوتے ہیں۔وہ رشتے جن کے ساتھ انسان کی سانسیں جڑی ہوتی ہیں،جن کے ساتھ بچپن کی یادیں،گھر کی دیواریں،والدین کی دعائیں، بہن بھائیوں کی محبت اور خاندان کی عزت وابستہ ہوتی ہے۔ایسے میں اکثر اصول خاموش ہو جاتے ہیں اور رشتے جیت جاتے ہیں۔
زندگی کی تلخی یہ ہے کہ یہ فیصلہ کبھی آسان نہیں ہوتا کہ باہر کی دنیا میں انسان انصاف کا علم بلند کیے پھرتا ہے،دوسروں کو نصیحت کرتا ہے،حق اور باطل کے درمیان فرق واضح کرتا ہے۔لیکن جب یہی معاملہ اپنے گھر کی دہلیز پر آ کر کھڑا ہو جائے تو سب کچھ دھندلا سا ہو جاتا ہے۔ وہی زبان جو دوسروں کے لیے تیز ہوتی ہے،اپنوں کے سامنے لڑکھڑا جاتی ہے۔وہی آنکھیں جو سچ کو پہچان لیتی ہیں، رشتوں کی محبت میں دھندلا جاتی ہیں۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنے دل کے خلاف جا کر اپنے ہی اصول کو توڑ دیتا ہے۔ وہ خود کو یہ تسلی دیتا ہے کہ حالات ایسے تھے، وقت ایسا تھا، مجبوری تھی۔مگر سچ یہ ہے کہ ہر سمجھوتہ دل پر ایک نشان چھوڑ جاتا ہے۔ ایک خاموش دکھ، ایک انجانا بوجھ جو انسان کے اندر بیٹھ جاتا ہے۔ وہ باہر سے معمول کے مطابق زندگی گزارتا رہتا ہے، مگر اندر کہیں نہ کہیں ایک جنگ جاری رہتی ہے۔�
زندگی کی ایک اور تلخی یہ بھی ہے کہ بعض اوقات انسان جسے بچانے کے لیے اپنے اصول قربان کرتا ہے، وہی لوگ اس قربانی کی قدر نہیں کرتے۔ وہ خاموشی کو کمزوری سمجھ لیتے ہیں،برداشت کو عادت بنا لیتے ہیں اور انسان کو اس کی اپنی نظر میں چھوٹا کر دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انسان خود کو مکمل طور پر ان رشتوں کے لیے وقف کر دیتا ہے، اپنی خواہشات، اپنے خواب، حتیٰ کہ اپنی شناخت تک قربان کر دیتا ہے۔
اور پھر ایک کربناک حقیقت سامنے آجاتی ہے۔
جب وہی رشتے مکمل ہو جاتے ہیں، اپنی زندگیوں میں مستحکم ہو جاتے ہیں تو وہی انسان جس نے سب کچھ دیا ہوتا ہے، آہستہ آہستہ ایک طرف کر دیا جاتا ہے۔ جیسے مکھن سے بال الگ کر دیے جائیں، ویسے ہی اسے خاموشی سے کنارے لگا دیا جاتا ہے۔ اس وقت جو دکھ انسان کے دل میں اٹھتا ہے، وہ لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ وہ درد ہوتا ہے جسے نہ کوئی دیکھ سکتا ہے، نہ مکمل طور پر سمجھ سکتا ہے۔
میں نے بھی زندگی میں اکثر رشتوں کو نہ مخلص دیکھا ہے، نہ احترام کرنے والا۔ خون کے رشتے کئی بار مخلص انسان کو کھلونا سمجھ کر استعمال کرتے رہتے ہیں۔ جب وہی انسان کبھی اپنی خواہش کا اظہار کرے، اپنے حق کی بات کرے یا اپنے بارے میں سوچنے لگے تو وہی لوگ اس کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اچانک وہی شخص جو سب کے لیے ضروری تھا، سب کی نظروں میں غلط بن جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کو اپنی حقیقت اور دوسروں کی سوچ دونوں کا اندازہ ہو جاتا ہے۔
یہ تجربہ انسان کو اندر سے بدل دیتا ہے۔وہ سیکھ جاتا ہے کہ ہر رشتہ ویسا نہیں ہوتا جیسا وہ سمجھتا تھا۔ کچھ تعلق صرف ضرورت تک محدود ہوتے ہیں، اور جب ضرورت ختم ہو جائے تو وہ تعلق بھی ختم ہو جاتا ہے۔ یہی زندگی کی وہ کڑوی سچائیاں ہیں جو انسان کو وقت کے ساتھ سمجھ آتی ہیں۔
اسی لیے شاید یہ سچ ہے کہ انسان کو کسی بھی رشتے کے لیے خود کو تکلیف میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ محبت اور خلوص اپنی جگہ،مگر اپنی ذات کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ ہر قربانی ضروری نہیں ہوتی اور ہر خاموشی بھی عبادت نہیں بنتی۔بعض اوقات خود کے لیے کھڑا ہونا ہی سب سے بڑی سچائی ہوتی ہے۔
ایسے میں سب سے مضبوط سہارا صرف خداوندِ کریم کی ذات ہوتی ہے۔جب انسان سب سے مایوس ہو جاتا ہے، تب وہی ایک در ہوتا ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا۔اسی کا دامن تھام لینا، اسی پر بھروسہ کرنا انسان کو اندر سے سنبھال لیتا ہے۔کیونکہ دنیا کے رشتے بدل سکتے ہیں، مگر خدا کی رحمت اور انصاف کبھی نہیں بدلتا۔
آخر میں یہی سچ رہ جاتا ہے کہ خون کے رشتے دل میں بستے ہیں اور اصول روح میں۔ اور جب دل اور روح کے درمیان جنگ چھڑ جائے تو انسان واقعی بےبس ہو جاتا ہے۔ مگر اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان اس بےبسی میں بھی اپنے رب سے جڑا رہے، اپنی قدر کو پہچانے، اور اپنے وجود کی روشنی کو کبھی بجھنے نہ دے۔