دھرما راجیکا میں دھرم، کرونا اور کرم کا خطبہ

ایک مرتبہ ایک کسان بدھ کے پاس آیا اور انتہائی تلخ اور گستاخانہ لہجے میں کہنے لگا کہ تم سادھو لوگ بے کار ہوتے ہو ، دوسروں پر بوجھ بنتے ہو ۔ وہ برستا رہا ، بدھ زیر لب مسکراتا رہا ۔جب کسان گرج اور برس چکا تو بدھ نے انتہائی نرم لہجے میں کہا کہ ؛
میں بھی کھیتی ہی کرتا ہوں ، میں دل کی زمین پر کھیتی کرتا ہوں ، صبر کے بیج بوتا ہوں ، ہمدردی کا پانی دیتا ہوں اور امن کی فصل اگاتا ہوں ۔

وہی بدھ اس بلندی پر پہنچ گیا کہ ایک مذہب بن گیا اور آج بھی زندہ ہے۔
وحشت کو چھوڑ کر ،غاروں اور جنگلوں سے نکلنے کے بعد ، دنیا کو ،انسان کو، تہذیب کا ، ٹھہر جانے کا ، تھم جانے کا، اپنے بپھرے ہوئے جذبات پر قابو پانے کا سبق پہلے پہل جن کرداروں نے پڑھایا ، بدھ ان میں سے ایک ہے ۔
گرو ، چیلوں سے پہچانا جاتا ہے ۔

یہ بدھ کا پڑھایا گیا امن و شانتی کا سبق تھا جو کسی بھکشو تک پہنچا اور پھر وہاں سے ہوتا ہوا اشوک تک پہنچ گیا ۔
جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کلنگا کی جنگ میں ڈیڑھ لاکھ لوگوں ، اپنے بھائیوں کو بے دردی سے موت کی وادی میں اتارنے والا اشوک ، اپنی سلطنت میں انسانوں ، جانوروں ، کیڑے مکوڑوں ، حتی کہ پودوں اور درختوں تک کے حقوق کے تحفظ کو اپنی
سلطنت کا آئین بنا رہا تھا۔

بدھ کا جنم ، پورے چاند کی رات ہوا ، بدھ کو گیان پورے چاند کی رات ملا اور بدھ نے جب مہا پری نروان حاصل کیا تو بھی ، پورے چاند کی رات تھی۔

یہ دن بدھ مت میں ویساک ڈے کے نام سے یاد کیا، مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔
میں جب بھی ٹیکسلا کی ویران ہو چکی خانقاہوں میں جاتا ہوں تو وہاں کی خاموشی اور ویرانی میں اُس وقت کو یاد کرتا ہوں کہ جب دنیا بھر سے لوگ یہاں آتے ہوں گے ،علم ، ادب ،فن اور روحانیت کی محفلیں سجتی ہوں گی ، مکالمے ہوتے ہونگے ۔ یہ ماضی تھا جو گزر گیا ۔ لیکن ایک دن وہ لمحات آ گئے کہ جب مجھے محسوس ہوا کہ وہ وقت پلٹ آیا ہے ۔

میں اُس شام احساسِ تفاخر کے ساتھ اُسی ٹیکسلا کی سرزمین پر موجود تھا۔ میں اُس شام، اُس خوبصورت اور روح پرور منظر اور ماحول کا حصہ تھا کہ جس میں پانچ ممالک سے لوگ، بدھ کی تعلیمات لے کر ، کئی مذاہب کے لوگ وہاں اکٹھے ہوئے جہاں آج بھی پتھروں میں بدھ کی تعلیمات کی سرگوشی سنائی دیتی ہے یعنی ہم دھرما راجیکا کی خانقاہ اور ٹیکسلا میوزیم کے آڈیٹوریم میں موجود تھے ۔ بدھ پر چرچا کرنے ، بدھ پر بات کرنے ، بدھ پر بات سننے ، بدھ کو جاننے کے لئے ، اپنے گزرے ہوئے ہوئے ذی شان کل سے وارفتہ ہونے کے لئے، گندھارا تہذیب سے ، اپنی آج کی، جنگوں ، ہنسا ، بدامنی ، انتشار ،دہشت، انتہا پسندی اور نفرت کے اندھیروں میں ڈوبی ، دنیا کے لئے امن ، محبت ، سکون اور برداشت کی روشنی حاصل کرنے کے لئے ۔ ویساک ڈے منانے کے لئے۔ بدھ پورنما منانے کے لئے ۔

تھائی لینڈ سے آنے والے بدھ بھکشو نے کہا کہ دنیا میں امن، انسانی دل کے اندر امن سے شروع ہوتا ہے۔ جب دماغ، حکمت اور ہمدردی سے رہنمائی حاصل کرتا ہے، تو اعمال قدرتی طور پر ہم آہنگی اور سمجھداری کا باعث بنتے ہیں۔ ہم اس وقت پاکستان میں امن پر بات کر رہے ہیں اور یہ پاکستان کو ہی زیبا تھا کہ یہاں امن کی بات کی جائے کیونکہ پاک کا مطلب ہے امن اور ستان کا مطلب ہے ، جگہ ۔ پاکستان ،امن۔ پاکستان امن کی سرزمین ہے ۔

سری لنکا سے آئے بدھ بھکشو نے بتایا کہ ایک مرتبہ بدھ نے کہا کہ میں ہاتھی کو جانتا ہوں لیکن انسان کو نہیں جانتا کیونکہ ہاتھی جو ہے ، جیسا ہے وہ صاف دکھتا ہے ۔ انسان ، کہتا کچھ ہے ، ہوتا کچھ ہے ، دکھتا کچھ ہے اور کرتا کچھ ہے ۔

ایک چہرے سے اترتی ہیں نقابیں کتنی
لوگ کتنے ہمیں ایک شخص میں مل جاتے ہیں

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے