اگر جغرافیائی اعتبار سے اس بات کا محاصرہ کیا جائے تو اس وقت دنیا کی ساٹھ فیصد مارکیٹ گلگت بلتستان سے براہ راست منسلک ہونے کے ساتھ تقریباً پورے ایشیاء کی پینتالیس فیصد مارکیٹ تک گلگت بلتستان کی براہ راست رسائی ہے۔ یعنی دنیا کی پینتالیس فیصد مارکیٹ تک گلگت بلتستان زمینی تجارت باآسانی کر سکتا ہے تجارت کا یہ سلسلہ صرف آج ہی نہیں بلکہ آج سے صدیوں پہلے سے جاری ہے۔
اب آتے ہیں اس علاقے میں موجود ذخائر اور انکی پروسیسنگ اور خصوصا بے شمار سیکٹرز میں سہولیات کا فقدان اور مخصوص پروسیسنگ یونٹس کی کمی کی وجہ سے درپیش مسائل جنکا براہ راست تعلق اس علاقے کی ترقی کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت سے وابستہ ہے۔
اس وقت دنیا میں تقریباً ۶۸ بلین یو-ایس ڈالرز کا ماربل اور گرینائٹ ایمپورٹ ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان اکیلا ۱۴۰ ملین یو-ایس ڈالرز کا ماربل اور گرینائٹ ایکسپورٹ کرتا ہے۔ پاکستان میں ۳۵۰ بلین ٹن کے ماربل کے ذخائر موجود ہیں اور اس صنعت سے تقریباً دو لاکھ لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ اس کے ساتھ پاکستان میں تقریباً ایک ہزار ملین ٹن گرینائٹ کے ذخائر موجود ہیں اور انکا ایک بڑا حصہ گلگت بلتستان میں ہے۔ پاکستان اور چائنیز ایکسپرٹس کی ایک رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان میں صرف ماربل اور گرینائٹ کے مائیننگ سے لیکر فائنل پروسیسنگ کے یونٹس میں اتنے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں کہ وہ گلگت بلتستان کے باشندوں کے معیار زندگی بدل کر رکھ دے۔
ایک اندازے کے مطابق صرف اسی سیکٹر یعنی ماربل اور گرینائٹ کے پروسیسنگ سے گلگت بلتستان سالانہ ۱.۵ ملین یو ایس ڈالر کما سکےگا۔اب بات کرتے ہیں دوسرے بڑے سیکٹر یعنی فروٹ کے سیکٹر کی۔
گلگت بلتستان سالانہ تقریباً ایک لاکھ اٹھہتر میٹرک ٹن صرف خوبانی پیدا کرتا ہے جہاں پروسیسنگ یونٹس کی عدم دستیابی کی وجہ سے تقریباً ۴۱ ہزار میڑک ٹن خوبانی مکمل طور پر ظائع ہو جاتی ہے اور محض ساٹھ ہزار میٹرک ٹن زیر استعمال یا مارکیٹ تک پہنچتی ہے۔ اسی طرح سیب کی پیداوار ۱۹۰۰ میڑک ٹن جس میں تقریباً ۴۰۰ میڑک ٹن پروسیسنگ یونٹس نہ ہونے کی وجہ سے ظائع ہوجاتا ہے، اسی طرح انگور ۶.۵ ہزار میٹرک ٹن میں سے ۱.۴ میٹرک ٹن ظائع ہوجاتا ہے۔ چیری، ملبری،اخروٹ اور بہت سارے بے شمار فروٹس کی سالانہ پیداوار ۱۰ سے ۱۵ فیصد محض پروسیسنگ یونٹس کی عدم دستیابی کی وجہ سے ظائع ہو جاتی ہے۔ سی پیک کے پروجیکٹس میں سے “مقپون داس سپیشل اکنامک زون” جس کیلے تقریباً ڈھائی سو ایکڑ کی اراضی مختص ہےاسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جہاں تقریباً چھے قسم کی صنعتیں لگائی جائینگی جن میں ماربل، اینڈ گرینائٹ پروسیسنگ یونٹ، فروٹ پروسیسنگ یونٹس، لیدر پروسیسنگ یونٹس، اور منرل پروسیسنگ یونٹس کے ساتھ آئرن اور سٹیل پروسیسنگ کے یونٹس شامل ہیں ۔
سپیشل اکنامک زون کا مطلب ہوتا ہے کہ اس میں جو بھی چیز پروسیس ہوگی یا بنے گی وہ ایکسپورٹ کی جائیگی۔اس سارے منصوبے کے تحت پاکستان اور چائینہ ملکر پروسیسنگ یونٹس کا قیام عمل میں لائینگے جہاں مختلف مراحل یعنی مکمل کلیکشن پروسیسنگ، گریڈنگ کی جائیگی۔ کلیکشن پروسیسنگ سے مراد جو خراب فروخت ہیں انکو علیحدہ کرنا اور گریڈنگ سے مراد اچھا، نارمل اور سب سے اچھے پیس کو علیحدہ کرکے آخر میں پیکنگ کرنا۔ ان سارے مراحل سے نہ صرف فروٹ کے ظائع ہونے کا عمل رکے گا بلکہ مقامی لوگوں کو روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کی اِنکم میں بھی نمایاں اظافہ دیکھنے کو ملیگا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہاں انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے پروسیسنگ یونٹس کی مدد سے یہاں کے فروٹس براہ راست دیگر ممالک میں ایکسپورٹ ہونگے ۔اس کے ساتھ لیدر پروسیسنگ یونٹس، منرل پروسیسنگ یونٹس بھی اس اکنامک زون کا حصہ بنے گے۔ پاکستان میں بلوچستان کے بعد جی بی وہ واحد جگہ ہے جہاں منرلز کے لا تعداد ذخائر موجود ہیں۔ گلگت بلتستان میں تقریباًدو ہرار سے زائد قسم کے قیمتی معدنیات کے ذخائر موجود ہیں جن میں Ruby کو دنیا کے بہترین اقسام میں شامل کیا جاتا ہے جہاں گلگت بلتستان نہ صرف خود اپنی معاشی ترقی کو بڑھا سکتا بلکہ ملکی ترقی میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔سی پیک زیر اہتمام ان تمام پراجیکٹس جو کہ گلگت بلتستان میں تعمیر کئے جائینگے ان میں بیشتر پراجیکٹس کی فنانسنگ کیلئے چائنیز گورنمنٹ گرانٹس مختص کریگی۔ ابتدائی طور پر ان پراجیکٹس کیلئے تقریباً 300ملین US ڈالرز کی رقم مختص کی جا چکی ہے اسکے علاوہ خنجر اب اور بابو سر ٹاپ کو آل ویدر بنانے کے ساتھ شندور ہائی وے جسےمستقبل قریب میں قراقرم ہائی کے متبادل راستے کے طور پر استعمال کیا جا سکےگا۔ یہ تمام منصوبے جہاں علاقے کیلئے سفری آسانیاں پیدا کرینگے وہاں گلگت بلتستان کے Trade والیم میں بھی نمایاں اظافہ پیدا کرینگے۔