خیبرپختونخوااسمبلی کے اراکین کےلئے سفارش کی گئی ہے کہ تنخواہ کے علاوہ مراعات کے طور پرانہیں مشاورتی معاون کےلئے 50ہزار روپے اور 21ہزارروپے اردلی الاﺅنس دیاجائے اس کے علاوہ موجودہ تمام الاﺅنسزمیں بھی 25فیصداضافہ کیاجائے حکومت اوراپوزیشن نے اس امر پر اختلاف کے بجائے اتفاق کیاہے ۔محکمہ خزانہ نے وضاحت کی ہے کہ گریڈ20کے افسرکی طرح خیبرپختونخوااسمبلی کے اراکین کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جاسکتی سرکاری ملازمین عوامی نمائندوں کے سامنے جوابدہ ہونگے اس لئے ایم پی اے پے سکیل کے زمرے میں نہیں لایاجاسکتاخصوصی پارلیمانی کمیٹی نے تنخواہوں اورمراعات میں اضافے سے متعلق اپنی رپورٹ صوبائی اسمبلی میں جمع کردی۔
[pullquote]ایم پی ایز،وزراءاور سپیکروڈپٹی سپیکرکی تنخواہیں کتنی ہیں۔۔؟[/pullquote]
اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق رکن اسمبلی کی تنخواہ ایک لاکھ دوہزار روپے ہے تاہم اس میں کچھ فکسڈالاﺅنسزشامل ہیں جسکے باعث کسی بھی رکن اسمبلی کی تنخواہ ڈیڑھ لاکھ روپے کے قریب پہنچ جاتی ہے اس کے علاوہ اسمبلی سیشن ، قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت اور اوورٹائم جیسے دیگرامور سے اس تنخواہ میں مزید اضافہ ہوجاتاہے ۔معاون خصوصی اورمشیروں کی تنخواہ اس مد میں پونے دو لاکھ روپے ہوجاتی ہے تاہم ٹی اے /ڈی اے اوردیگرمدوں میں یہ تنخواہ دولاکھ روپے سے تجاوزکرجاتی ہے تقریباًیہی تنخواہ خیبرپختونخواکے وزراءبھی لے رہے ہیں اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق سپیکروڈپٹی سپیکرکی تنخواہ مختلف الاﺅنسزکی وصولی کے بعد ڈھائی لاکھ روپے تک پہنچ جاتی ہے۔
خیبرپختونخوااسمبلی کے اراکین کاکہناہے کہ طویل عرصے سے ان کی تنخواہ دیگر صوبائی اسمبلیوں کے اراکین سے کم ہے عمومی طو رپر صوبائی اسمبلی میں تنخواہوں میں اضافے سے متعلق جب بھی تجویزپیش کی جاتی ہے تو اس متعلق بلوچستان اسمبلی کا ذکر کیاجاتاہے جہاں تنخواہیں اورمراعات سب سے زیادہ ہیں۔خیبرپختونخوااسمبلی نے تنخواہوں اور مراعات کے حوالے سے 29جولائی کوپیپلزپارٹی کی نگہت اورکزئی نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ خیبرپختونخوااسمبلی کے اراکین بشمول وزرائ،سپیکروڈپٹی سپیکرکاتعلق متوسط طبقے سے ہے اس لئے انکی تنخواہوں میں اضافہ کیاجائے واضح رہے کہ خیبرپختونخوااسمبلی اراکین کی تنخواہ اور مراعات میں2018ءکے بعد کسی قسم کااضافہ نہیں ہواہے نگہت اورکزئی کے نکتہ اعتراض پر صوبائی اسمبلی نے 11رکنی خصوصی کمیٹی بنائی جس کے سربراہ عاطف خان تھے اس کمیٹی میں تحریک انصاف کے شوکت یوسفزئی ،اکبرایوب اور عائشہ بانو ،پیپلزپارٹی کے احمدکنڈی اورنگہت اورکزئی،جے یوآئی کے مولانالطف الرحمن ،اے این پی کے سرداربابک،ن لیگ کے سرداریوسف ا ورثوبیہ شاہدجبکہ بلوچستان عوامی پارٹی کے بلاول آفریدی شامل تھے۔
کمیٹی کے تین اجلاسوں کاانعقادکیاگیاکمیٹی اجلاس کے دوران تجویزپیش کی گئی کہ سرکاری ملازمین کے گریڈ20یااس سے اوپرکے افسروں کی تنخواہوں کاتقابلی جائزہ لیاجائے اور اسی طرح تنخواہوں میں اضافہ کیاجائے تاہم یہ اضافہ موجودہ قوانین کے عین مطابق ہو اور عوامی سطح پر بھی اعتراض کاسبب نہ بنے ۔ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ نے خصوصی کمیٹی کوبتایاکہ بنیادی تنخواہوں کے سکیل صرف سرکاری ملازمین کے ہوتے ہیں جہاں پریہ سکیل ختم ہوجاتے ہیں وہی سے عوامی نمائندوں کے آئینی مراعات شروع ہوجاتے ہیں اورانکی تنخواہوں کو سرکاری ملازمین کے سکیل کے تناظرمیں نہ جانچاجائے سرکاری ملازمین عوامی نمائندے کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں آئین نے سپیکر،ڈپٹی سپیکر،وزراءاور ایم پی ایز کو جوآئینی وقانونی حیثیت دی ہے وہ پے سکیل کے زمرے میں نہیں آتے اس کے بعد کمیٹی نے اپنی سفارشات مرتب کیں۔
[pullquote]تنخواہوں میں اضافے کی سفارشات۔۔؟[/pullquote]
تمام اراکین اسمبلی کی ماہانہ مراعات میں مشاورتی معاون کےلئے پچاس ہزار روپے کاالاﺅنس شامل کیاجائے اسی طرح تمام ایم پی ایز ،سپیکروڈپٹی سپیکراوروزراءکی تنخواہوں میں21ہزارروپے اردلی الاﺅنس بھی شامل کیاجائے موجودہ تمام الاﺅنسزمیں مزید پچیس فیصدتک کااضافہ کیاجائے ڈپٹی سپیکرکاڈیلی الاﺅنس750سے بڑھاکر1500سے کیاجائے اور ان امور کےلئے قانون سازی کی جائے ۔