ضیاء الدین صاحب کے خاندان نے تصدیق کی ہے کہ وہ آج صبح انتقال کر گئے ہیں .
محمد ضیاء الدین پاکستانی صحافت کی ایک بزرگ اور توانا آواز تھی ، ان کے پیچھے 50 سالہ کیریئر ہے۔ وہ 2002 سے 2006 تک ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن کے صدر رہے. انہوں نے دی مسلم، دی نیوز، ڈان، دی ایکسپریس ٹریبیون سمیت تمام بڑے اداروں میں اہم عہدوں پر کام کیا . اپنے آغاز سے ہی انہوں نے انگریزی صحافت میں مذہبی انتہا پسندی کے خلاف اور حقوق کی علمبردار تنظیموں کی حمایت میں غیر متزلزل لبرل لہجہ اپنایا ہے.

سینئر صحافی کمال صدیقی نے ایک بار ان کے بارے میں تحریر کیا ’جعلی‘ خبروں، غیر تصدیق شدہ رپورٹنگ اور پھسلتی اخلاقیات کے اس دور میں، محمد ضیاءالدین کے کیریئر کا جائزہ لینا ضروری ہے، جو پاکستان کے صحافت میں سب سے زیادہ قابل احترام نام ہیں۔
ملک کے تقریباً تمام بڑے اخبارات – دی مسلم، دی نیوز، ڈان، دی ایکسپریس ٹریبیون میں تقریباً ساٹھ سال کام کرتے ہوئے ضیاءالدین صاحب نے تقریباً ناممکن کو سنبھالا ہے. انہوں نے کسی عمر بھر کسی دھبے اور داغ سے پاک ریکارڈ برقرار رکھا۔
ضیاء الدین صاحب کی جدوجہد صرف آمروں کے خلاف نہیں تھی۔ اس نے غیر سنجیدہ اور غیر معیاری صحافت کے ساتھ ساتھ میڈیا مالکان کے خلاف بھی جدوجہد کی .
ضیاء الدین صاحب پاکستان کے صحافیوں کی اگلی نسل کو یہ یاد دلاتے رہیں گے کہ اصولوں پر مبنی صحافت ہی انہیں غالب کر سکتی ہے .