پشاور: قصہ خوانی کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 57 افراد شہید

پشاور: قصہ خوانی بازار میں واقع جامع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش حملے میں ایک پولیس اہلکار سمیت 57 نمازی شہید اور 194 زخمی ہوگئے۔

میڈیا کے مطابق پشاور کے معروف قصہ خوانی بازار کوچہ رسالدار میں واقع جامع مسجد میں ایک خودکش حملہ آور نے مسجد میں داخلے کے دوران ایک پولیس اہلکار کو فائرنگ کرکے شہید کردیا، جس پر دوسرے پولیس اہلکار نے مزاحمت کی تو حملہ آور نے اس پر بھی فائرنگ کردی بعدازاں حملہ آور نے مسجد کے اندر داخل ہوکر پہلے فائرنگ کی پھر خود کو دھماکے اسے اڑالیا۔

دھماکے اور فائرنگ کے سبب 57 نمازی شہید اور 194 زخمی ہوگئے۔ دھماکے کے فوری بعد پولیس، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور امدادی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئے، امدادی اداروں نے زخمیوں اور لاشوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا۔

دھماکا ایک تنگ گلی میں واقع مسجد میں ہوا، دھماکا نماز جمعہ کے دوران ہوا جس میں اب تک 57 افراد کی اموات کی تصدیق ہوئی ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

شہر میں ریسکیو کی بہترین سروس ہے لیکن گلی تنگ ہونے کی وجہ سے ریسکیو رضاکاروں کو آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، دھماکے والی گلی کے باہر 30 سے زائد ایمبولینسز کھڑی ہیں لیکن گلی میں ایک وقت میں صرف ایک ایمبولینس جاسکتی ہے، جو صرف ایک زخمی کو لے کر آتی ہے اور ابھی تک 194 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جاسکا ہے اور زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

[pullquote]پولیس کی دھماکا خودکش ہونے کی تصدیق[/pullquote]

پولیس کے ایس ایس پی آپریش ہارون رشید نے دھماکے کے خودکش حملہ ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ مسجد کے دروازے پر سیکیورٹی کے لیے دو پولیس اہلکار تعینات تھے، حملہ آور ایک تھا جس نے آتے ہی پولیس پر فائرنگ کرکے ایک اہلکار کو شہید کردیا جب کہ دوسرا اہلکار حملہ آور کو روکنے کی کوشش کے دوران زخمی ہوگیا۔

[pullquote]خودکش حملے میں بال بیرنگ استعمال ہوئے، تحقیقاتی ٹیم[/pullquote]

تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے پشاور دھماکے کی ابتدائی معلومات سامنے آگئیں جن کے مطابق خودکش حملے میں بال بیرنگ استعمال کیے گئے۔ ٹیم کے مطابق حملہ آور کا اسلحہ بھی جائے وقوع سے مل گیا جو کہ نائن ایم ایم پستول ہے۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ نے کہا ہے کہ دھماکے میں 5 سے 6 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا، بارودی مواد اعلیٰ کوالٹی کا تھا جس میں بال بیرنگ بھی شامل کیے گئے تھے۔

[pullquote]دہشتگرد نے مسجد کی تیسری صف میں دھماکا کیا، آئی جی خیبرپختونخوا[/pullquote]

میڈیا سے گفتگو میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری کا کہنا تھاکہ ایک حوالدار اور ایک کانسٹیبل ڈیوٹی پر موجود تھے، دہشتگرد ایک تھا اور پیدل آیا تھا، دہشتگرد نے دونوں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا، ایک شہید اور دوسرا زخمی ہوا۔

ان کا کہنا تھاکہ دہشتگرد پولیس اہلکاروں کو نشانہ بناکر مسجد کی طرف بھاگا، پولیس اہلکار مسجد سے20، 25 گز کے فاصلے پر موجود تھے، دہشتگرد نے مسجد میں داخل ہوکر پہلے فائرنگ کی پھردھماکا کیا۔

آئی جی کا کہنا تھاکہ دہشتگرد نے مسجد کی تیسری صف میں دھماکا کیا، دہشتگرد نے کالا لباس شاید اس لیے پہنا تھا کہ مسجد میں داخلے میں آسانی ہو، واقعے کی جگہ سے ڈیڑھ سو بال بیئرنگ ملے ہیں جبکہ دھماکا خیرمواد 5 سے 6کلوتھا اورانتہائی خوفناک تھا جبکہ دھماکے سے متعلق کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔

[pullquote]دھماکے کی فوٹیج سامنے آگئی[/pullquote]

پشاور دھماکے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آگئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شلوار قیمص پہنا ہوا حملہ آور پیدل چلتا ہوا آیا، نائن ایم ایم پستول سے فائرنگ کرتے ہوئے مسجد میں داخل ہوا، اس نے پہلے ایک پولیس اہلکار پر فائرنگ کی جس سے اہلکار شہید ہوگیا پھر دہشت گرد نے مسجد کے اندر جاکر بھی فائرنگ کی اور دھماکا کردیا۔

[pullquote]وزیراعظم، وزیراعلیٰ کے پی اور اپوزیشن رہنماؤں کی پشاور دھماکے کی شدید مذمت[/pullquote]

وزیراعظم عمران خان، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان سمیت دیگر سیاسی شخصیات نے پشاور میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

پشاور کے قصہ خوانی بازار میں نماز جمعہ کے دوران مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے میں اب تک 30 افراد شہید اور 50 زخمی ہو چکے ہیں۔

دھماکے کے بعد پولیس اور ریسکیو کا آپریشن جاری ہے اور جائے وقوعہ کا محاصرہ کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے پشاور دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی پشاور دھماکے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے معصوم نمازیوں کو نشانہ بنا کر انسانیت پر حملہ کیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے نیشنل ایکشن پلان پر حقیقی عملدرآمد نہ ہونے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت دہشت گردی میں ملوث عناصر اور ا ن کے سہولت کاروں کو فوری گرفتار کرے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے پشاور میں جامع مسجد میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے زخمی ہونے والوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔

جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی پشاور دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے، دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں۔

[pullquote]پشاور دھماکا سازش کے تحت پاکستان کو غیرمستحکم کرنےکی کوشش ہے: وزیر داخلہ[/pullquote]

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ پشاور دھماکا سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ہے۔

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے پشاور دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبر پختونخوا سے دھماکے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پشاور دھماکے کے حوالے سے کوئی تھریٹ الرٹ بھی جاری نہیں ہوا تھا، غیر ملکی قوتیں پاکستان کا امن تباہ کرنا چاہتی ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پشاور دھماکا سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ہے۔

خیال رہے کہ پشاور کے قصہ خوانی بازار میں نماز جمعہ کے دوران مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے میں اب تک 30 افراد شہید اور 50 زخمی ہو چکے ہیں۔

دھماکے کے بعد پولیس اور ریسکیو کا آپریشن جاری ہے اور جائے وقوعہ کا محاصرہ کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

[pullquote]پشاور دھماکا: وزیر داخلہ کی وزیراعظم کو آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کی سکیورٹی پر بریفنگ[/pullquote]

اسلام آباد: پشاور کی مسجد میں ہونے والے خود کش دھماکے کے بعد وزیراعظم عمران خان سے وزیر داخلہ شیخ رشید کی اہم ملاقات ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیرداخلہ نے پشاور واقعے سے متعلق وزیراعظم کو بریفنگ دی۔

ذرائع کے مطابق وزیرداخلہ نے پاکستان کے دورے پر موجود آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کو دی جانےوالی سکیورٹی سے متعلق بھی بریفنگ دی۔

خیال رہے کہ آج پشاور کی مسجد میں نماز جمعہ کے موقع پر خود کش دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں اب تک 56 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔

وزیر داخلہ شیخ رشید کا اس حوالے سے اپنے بیان میں کہنا تھا کہ پشاور دھماکے کے حوالے سے کوئی تھریٹ الرٹ بھی جاری نہیں ہوا تھا، غیر ملکی قوتیں پاکستان کا امن تباہ کرنا چاہتی ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پشاور دھماکا سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ہے۔

واضح رہے کہ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم 24 سال کی کوششوں کے بعد پاکستان کے دورے پر آئی ہے اور اس نے اتنے برسوں تک سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہی پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ آج سے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں شروع ہوا ہے۔

اس سے قبل نیوزی لینڈ کی ٹیم نے بھی سکیورٹی وجوہات کی بناء پر دورہ اچانک ملتوی کردیا تھا جبکہ انگلینڈ نے بھی طے شدہ دورہ پاکستان ملتوی کردیا تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے