چین میں گزرے 14 برس کا قصہ : روداد سفر (حصہ 14)

ایڈیٹر نوٹ

شاکر ظہیر صاحب ، علمی اور ادبی ذوق کے مالک ایک کاروباری شخصیت ہیں . انہوں نے اپنی زندگی کے 14 برس چین میں گذارے . اس دوران انہوں نے چینی معاشرے ، نظام حکومت ، ثقافت سمیت پوری تہذیب کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا ہے . اس سیریز میں انہوں نے اپنے تجربات اور مشاہدات لکھے ہیں . ان کے مضامین روزانہ صبح گیارہ بجے (پاکستانی وقت کے مطابق ) آئی بی سی اردو پر شائع ہوں گے . آپ کمنٹ باکس میں ان سے سوال بھی کر سکتے ہیں اور اپنا فیڈ بیک بھی دے سکتے ہیں .

سبوخ سید : ایڈیٹر آئی بی سی اردو ڈاٹ کوم

چائنا میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے ، ایک اندازے کے مطابق چائنا میں تقریباً اڑھائی کروڑ مسلمان آباد ہیں ۔تاہم چائنا حکومت کی جانب سے مذہب کے بجائے نسلی بنیادوں پر مردم شماری کی جاتی ہے ۔ اس لحاظ سے جو مسلمان وہاں آباد ہیں ان میں ایغور ، تاجک ، ازبک ، قازق ، سالار ، منگول ، تنگن اورHui شامل ہیں ۔ کچھ اور بھی ہیں جو زبان کے لحاظ سے ان سے مختلف ہیں لیکن انہیں بھی Hui ہی کہا جاتا ہے ۔ جیسے Hainan جزیرے میں دس ہزار مسلمان آباد ہیں اور یہ اپنی ایک الگ زبان بولتے ہیں اور وہ خود کو عرب تاجروں کی اولاد کہتے ہیں ۔ جو مسلمان برما اور ویتنام کے قریب آباد ہیں وہ بھی اپنا رشتہ یا تعلق ملائشیا سے جوڑتے ہیں ، زبان اور رسوم و رواج میں یہ لوگ دیگر لوگوں سے کچھ مختلف ہیں لیکن حکومت انہیں بھی Hui ہی کہتی ہے ۔

اس کے علاؤہ چائنا کے نان مسلم میں سب سے بڑا گروپ Han کہلاتا ہے ، لیکن یہ کس بنیاد پر ایک گروپ یا نسل ہے یہ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی ۔ ہر صوبے کے رسم و رواج اور زبان دوسرے صوبے سے بالکل مختلف ہے ۔ یہ سب ایک دوسرے سے تفریق بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر برتری کا اظہار بھی کرتے ہیں ۔ ایک بہت بڑا گروپ Guangdong صوبے میں ہے یہ لوگ جو زبان بولتے ہیں وہ Cantonese کہلاتی ہے ۔ ان کے رسم و رواج دوسروں سے بہت مختلف ہیں ۔

حکومت کی سخت پالیسی کہ آپ اپنے قریبی رشتے داروں میں شادی نہیں کر سکتے بلکہ دو تین نسل پیچھے کے رشتے دار بھی آپس میں شادی نہیں کر سکتے یہ پالیسی شاید لوگوں کو آپس میں مکس کرنے کے لیے ہے ۔ یا یوں سمجھ لیں Han چائنیز بنانے کا عمل ہے ۔ لوگ رشتے کےلیے اپنے علاقے ہی کو ترجیح دیتے ہیں ۔ لیکن اب لوگوں کا اپنے علاقوں سے نکل کر صنعتی شہروں کی طرف رخ کرنے سے دوسرے علاقوں کے لوگوں سے بھی تعلق بن رہا ہے جو اس سے پہلے 1980 تک شاید بہت ہی مشکل تھا ۔ چھوٹے گروہ جو اپنی الگ شناخت یا زبان رکھتے ہیں وہ آہستہ آہستہ مٹتے جا رہے ہیں ۔ ایک بڑی تعداد Helongjaing صوبے میں کورین کی بھی ہے جو کوریا کی جنگ کے دوران یہاں آئے اور یہیں آباد ہوگئے ۔

ایک مرتبہ مجھے ٹرین سٹیشن پر ایک عورت ملی ۔ وہ سمجھی شاید میں ایغور ہوں اس نے مجھے سے سلام دعا کی، میں نے اسے بتایا کہ میں پاکستانی ہوں ۔ اس نے بتایا کہ وہ Helongjaing صوبے سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے آباء و اجداد کسی دور میں رشیاء سے یہاں منتقل ہوئے تھے۔ ان کی اپنی الگ زبان ہے اور وہ اپنی بیٹی سے جو یہاں کسی یونیورسٹی میں پڑھتی ہے ، ملنے آئی ہے ۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تمہاری بیٹی تمہاری اپنی زبان بولتی ہے؟ اس نے کہا :نہیں بولتی ، لیکن سمجھ لیتی ہے ۔ میں نے اس سے کہا پھر تو یہ زبان آگے منتقل نہیں ہوگی ۔ اس بات نے اسے سوچ میں مبتلا کر دیا ۔ اس کی بیٹی یہ زبان نہیں بول سکتی اس لیے کہ اس کا والد اس نسل سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔

بعض علاقوں میں یہی کچھ مسلمانوں کے ساتھ بھی ہو رہا ہے ۔ بلکہ بعض علاقوں میں تو مسلمان غیر مسلموں سے بھی شادی کر رہے ہیں ۔ ایوو شہر میں میری جان پہچان ایک خاتون سے ہوئی جس کی عمر شاید پچاس پچپن برس تھی اور اس کا تعلق Jiaxing شہر سے تھا ۔ اس نے بتایا کہ اس کا خاندان مسلمان کہلاتا ہے لیکن اس نے غیر مسلم سے شادی کی تھی۔ اور اس سے اس کا ایک بیٹا بھی تھا جو ان کی طلاق کے بعد اکیلا رہتا تھا ۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ان کے علاقے میں بہت سے مسلمان ہیں اور مسجد بھی ہے لیکن اب یہ مسلمان گم ہو چکے ہیں ۔ گم ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ صرف حکومت کے کاغذات میں Hui کہلاتے ہیں اور ساٹھ سال کی عمر کے بعد ہی کسی کو یاد آتا ہے کہ ہم تومسلمان تھے ۔

مسلمان کئی فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں ۔ ایغور دین کی صوفیانہ تعبیر کے حامل ہیں ۔ چونکہ یہ ترک نسل ہیں اس لیے وہیں سے یہ تعبیر لیتے ہیں ۔ کچھ لوگ جو تعلیم کی غرض سے 1980 کی دہائی میں پاکستان ، ایران یا سعودی عرب گئے وہ وہاں سے اپنے ساتھ وہاں کی دینی تعبیرات بھی لے آئے ۔ Gansu , Qinghai , Ningxi کے مسلمان سنٹرل ایشیاء سے آئے تھے یہ بھی دین کی صوفیانہ تعبیر کے حامل ہیں۔ ان میں دو خاص فرقے ہیں جو ذکر خفیہ اور ذکر جہریہ والے ہیں ۔

پھر دیوبندی قدیمہ اور دیوبندی جدیدیہ یعنی حیاتی مماتی سمجھ لیں ۔ کچھ جو سعودی عرب وغیرہ گئے وہ سلفی تعبیر لے کر آئے ، انہیں رفع یدین والے کہا جاتا ہے ۔ ان کی نفرت کا سب سے بڑا اظہار Gansu صوبے کے علاقے Linxia میں ہوتا ہے جسے کسی دور میں چائنا کا مکہ کہا جاتا تھا ۔ دس بارہ سال پہلے تک یہاں آئے روز ان کی آپس میں لڑائیاں بھی ہوتی رہتی تھی اور مساجد بھی ہماری طرح الگ الگ ہی تھیں اور ایک دوسرے کے خلاف فتووں کی بھرمار تھی ۔

ایک دفعہ میں ٹیکسی میں بیٹھا ۔ ٹیکسی ڈرائیور مقامی مسلمان تھا ، میں نے اسے کہا کہ جہاں مجھے جانا ہے اس کے قریب ہی کسی مسجد میں مجھے اتار دینا تاکہ میں نماز پڑھ لوں گا ۔ اس نے پوچھا کون سی مسجد ذکر جہریہ کی ، ذکر خفیہ کی ، قدیمہ کی ، جدیدہ کی ، سلفیوں کی ؟ میں نے اسے کہا کسی میں بھی اتار دینا میں نے تو صرف نماز ہی پڑھنی ہے ۔ اس نے کہا : کیا تم مسلمان ہو ؟ میں نے جواب دیا کہ مسلمان ہوں ۔

اس نے شہادت کی انگلی اٹھائی اور مجھ سے پوچھا یہ کیا ہے؟ میں نے اسے کہا کہ یہ تمہاری انگلی ہے۔ اس نے بغیر کسی توقف کے کہا، نہیں! تم مسلمان نہیں ہو ۔ میں نے تنگ پڑ کر اسےکہا ۔ اچھا کسی مندر ہی میں اتار دینا، میں نماز پڑھ لوں گا ۔ اس کا انگلی اٹھانے کا اشارہ خدا واحد کا اشارہ تھا اور شاید یہی مسلمان ہونے کی نشانی تھی ، ٹریڈ مارک ۔ لیکن کیا نماز پڑھنے کےلیے یہ ضروری تھا کہ مخصوص مسجد میں جایا جائے ؟ یہ فرقوں کی آپس میں نفرت کی حالت تھی ۔ یہی حالت ایک دوسرے کے خلاف لڑائیوں تک لے جاتی تھی ۔ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے حکومت نے تنگ آ کر سب کو حساب کتاب میں کر دیا ۔ تمام مذہبی کتب چائنیز زبان میں یہیں سے چھپتی تھیں اور عربی کتب کے تراجم چائنیز زبان میں یہیں سے ہوتے تھے ۔ میں نے جن عربی کتب کے تراجم کو دیکھا ان میں سید قطب شہید کی معلم فی الطریق ، علامہ یوسف القرضاوی کی حلال و حرام ، تفسیر ابن کثیر شامل ہیں ۔

مولاناسید مودودی رحمہ اللہ کی کتب کے بھی تراجم ہوئے جن میں خطبات ، قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں ، دینیات ، سود اور تفہیم القرآن کی دو جلدوں کا ترجمہ بھی ہوا ہے ۔ لیکن شاید یہ سب کچھ بہت کم مسلمانوں نے پڑھی ہوں گی ۔ اس کی ایک وجہ حکومت کی طرف سے اشاعت پر پابندی اور دوسری وجہ مسلمانوں کی اپنی عدم دلچسپی بھی ہو سکتی ہے ۔ اس علاقے میں مدارس کی بہت بڑی تعداد ہے اور ایوو شہر میں عربی مترجم اکثر اسی علاقے کے ہوتے ہیں ۔ لیکن ایوو شہر میں بھی مسلمانوں کی علاقائی تقسیم واضح نظر آتی ہے ۔

ایوو کی مسجد میں امامت پر ہونے والا جھگڑا بھی اسی علاقائی عصبیت پر تھا ۔ اس کی اصل وجہ شاید سترویں صدی میں Gansu صوبے میں ہونے والی Dongan بغاوت ہے ،جس میں Linxia شہر کے مسلمانوں نے مسلمانوں کے خلاف محاصرہ کر لیا تھا ۔ اس دور میں بادشاہت کمزور پڑ چکی تھی اور جگہ جگہ بغاوتیں ہو رہی تھیں ۔ یہ محاصرہ بھی فرقہ ورانہ بنیاد پر ہی کیا گیا تھا اور بہت سے مسلمان اس میں مارے گئے تھے، یہ وار لارڈز کا دور تھا ۔ دولت کاشغریہ پر حملہ کرنے والے چائنیز کے ساتھ یہی خفیہ ذکر کے فرقے کے Gansu کے مسلمان تھے اور اس بغاوت میں کہا جاتا ہے کہ لاکھوں کی آبادی چند ہزار باقی بچی ، باقی قتل کر دی گئی اور کچھ سفر اور بھوک سے مر گئے ۔

یہ Linxia شہر جو کسی دور میں چائنا کا مکہ کہلاتا تھا اور جسے اسلام کی اشاعت کا کام کرنا تھا، آپس میں ہی مسلمان الجھ گئے ۔ کچھ حکومت کی سختیاں تھیں ، رہی سہی کسر خود مسلمانوں کی آپس کی چپقلش نے پوری کر دی ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے