[pullquote]جنگ کے آغاز سے اب تک 136 بچے ہلاک ، یوکرین[/pullquote]
یوکرین کے مختلف شہروں میں گزشتہ اکتیس روز سے جاری روسی حملوں کے نتیجے میں سوا سو سے زائد بچوں کی ہلاکتوں کا بتایا گیا ہے۔ یوکرین کے دفتر استغاثہ کے مطابق قریب ایک ماہ قبل یوکرین پر روسی حملہ شروع ہونے سے اب تک 136 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 64 بچے دارالحکومت کییف میں مارے گئے جب کہ 50 بچوں کی ہلاکت مشرقی علاقے ڈونباس میں ہوئی۔ دفتر استغاثہ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اب تک 200 سے زائد یوکرینی بچے جنگ میں زخمی ہوئے ہیں۔ یوکرینی حکام نے یہ پیغام ٹیلی گرام اور فیس بک پر جاری کیا ہے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ یوکرینی حکام کے دعووں کی آزاد ذرائع سے ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
[pullquote]سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حوثی باغیوں کا حملہ[/pullquote]
یمن میں حوثی باغیوں نے ایک مرتبہ پھر پڑوسی ملک سعودی عرب میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ایک تازہ حملے کے نتیجے میں سعودی آئل کمپنی آرامکو کے پلانٹ پر آگ بھڑک گئی۔ جدہ میں تیل کی اس تنصیب کے قریب فارمولا ون ریس کا ٹریک بھی واقع ہے جہاں کل بروز اتوار سے سعودی عریبئن گراں پری ریس منعقد ہو گی۔ یہ حملہ ریس کے لیے فری پریکٹس کے دوران ہوا تھا۔ سعودی عرب کی قیادت میں یمن کے خلاف فوجی اتحاد کے ایک ترجمان کے مطابق حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں کل 16 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے جواب میں سعودی فضائیہ نے بھی یمن میں باغیوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔
[pullquote]صدر بائیڈن اور یوکرینی وزرا کی ملاقات[/pullquote]
امریکی صدر جو بائیڈن اور یوکرین کے وزیر دفاع اولیکسی ریزنیکوف اور وزیر خارجہ دمیترو کولیبا کی وارسا کے میریٹ ہوٹل میں روسی حملوں کے بعد پہلی ملاقات ہوئی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر بائیڈن کے ساتھ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور وزیر دفاع لائڈ آسٹن بھی وہاں موجود تھے۔ اس سے قبل یوکرینی وزیر دفاع اولیکسی ریزنیکوف نے بتایا کہ پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں انہوں نے ملکی وزیر خارجہ دمیترو کولیبا کے ہمراہ اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات کی، جس میں موجودہ مسائل پر تبادلہ خیال کے ساتھ ساتھ کییف اور واشنگٹن کے درمیان سیاسی اور دفاعی تعاون پر بات چیت کی گئی۔ ریزنیکوف نے ٹوئٹر پر امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور امریکی وزیر دفاع لائڈ آسٹن کے ساتھ تصاویر بھی پوسٹ کی ہیں۔
[pullquote]روس کا یوکرین میں نئے فوجی اہداف کا اعلان[/pullquote]
یوکرین جنگ میں روس کی حکمت عملی میں تبدیلی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ روسی فوج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف سرگئی روڈسکوئی نے کہا ہے کہ روسی فوج اب مشرقی یوکرین کے ڈونباس خطے کو آزاد کرانے پر توجہ دے گی۔ اس سے قبل یوکرینی فوج نے دارالحکومت کییف میں نمایاں کامیابیوں کی اطلاع دی تھی۔ امریکی وزارت دفاع کے مطابق یوکرین نے خرسون میں دوبارہ قبضے کے لیے بھی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ دریں اثنا روسی کروز میزائلوں کے ذریعے وینیتسیا میں یوکرینی ایئر فورس کے کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے کافی نقصان پہنچا ہے۔
[pullquote]فرانس، ترکی اور یونان کا ماریوپول سے شہریوں کے انخلاء کا مشترکہ مشن[/pullquote]
فرانس نے ترکی اور یونان کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ انخلائی مشن کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس مشن کا مقصد یوکرینی شہر ماریوپول کے شہریوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانا ہے۔ یوکرین کا یہ جنوبی مشرقی بندرگاہی شہر روسی فوجیوں کے محاصرے میں ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں کے مطابق یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی اور ماریوپول کے میئر کے ساتھ اس بارے میں ٹھوس بات ہوئی ہے۔ ماکروں جلد ہی روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے بھی اس بارے میں دوبارہ بات چیت کریں گے تاکہ انخلائی مشن کے لائحہ عمل کو طے کیا جا سکے۔ ماکروں نے بتایا کہ ماریوپول میں محصور ایک لاکھ پچاس ہزار شہری انتہائی مشکل حالات میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
[pullquote]روس میں ’فیک نیوز‘ کے خلاف نئے قانون کی منظوری[/pullquote]
روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ملک میں مبینہ طور پر جھوٹی خبروں کی اشاعت کی روک تھام کے لیے ایک قانون کی منظوری دے دی ہے۔ روسی میڈیا کے مطابق اس نئے قانون کے تحت نہ صرف فوج، بلکہ ریاستی حکام، اور بیرون ملک قائم سفارت خانے اور تجارتی مشن کے بارے میں مبینہ جعلی خبریں رپورٹ کرنے کے نتیجے میں بھاری جرمانے عائد کیے جاسکیں گے۔ ان جرمانوں میں سات سے پندرہ لاکھ روبیل کی ادائیگی اور تین سال تک قید کی سزا شامل ہے۔ روسی حکام کے مطابق یہ قانون بیرون ملک روسی مفادات کے تحفظ میں مدد فراہم کرے گا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے حکام طے کریں گے کہ کونسی خبر درست ہے اور کونسی غلط۔
[pullquote]یورپی یونین خوراک کی کمی سے نمٹنے کے لیے متحرک[/pullquote]
یورپی یونین کے رکن ممالک نے یوکرین جنگ کے باعث پیدا ہونے والی خوراک کی کمی کو دور کرنے کے لیے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ برسلز میں یورپی یونین کے سربراہان مملکت و حکومت کے اجلاس کے بعد کہا گیا کہ ’فارم‘ نامی منصوبے کا مقصد عالمی سطح پر خوراک کی فراہمی کو سستی قیمتوں پر برقرار رکھنا ہے۔ ماہرین کو یوکرین جنگ کی وجہ سے آئندہ ایک سال کے اندر افریقہ اور ایشیا میں خوراک کے سنگین بحران کا خدشہ ہے۔ فارم پروگرام کے ذریعے یورپی ممالک عالمی منڈیوں میں قیاس آرائیوں کے خلاف بھی کارروائی کرنا چاہتے ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے کہا کہ یورپی یونین تمام سپلائرز کے ساتھ رجوع کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر چین کافی زیادہ مقدار میں اناج ذخیرہ کرتا ہے، جس سے قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
[pullquote]چین نے حالیہ فضائی حادثے میں 120 اموات کی تصدیق کردی[/pullquote]
چینی حکام نے چائنا ایسٹرن ایئرلائن کے طیارے میں سوار 132 مسافروں میں سے 120 کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔ بیجنگ میں ہوابازی کے حکام کے مطابق طیارے کے عملے میں سے چھ اور دیگر 114 مسافروں کی شناخت ہوگئی ہے۔ یہ بوئنگ 800-737 مسافر بردار طیارہ پانچ روز قبل اس وقت گِر کر تباہ ہوگیا جب وہ چینی شہر گوانگ ژو کی طرف محو پرواز تھا۔ یہ طیارہ غیر معمولی طور پر آٹھ ہزار میٹر کی بلندی پر پرواز کرنے لگا اور پھر اچانک سے کوہستانی علاقے میں کریش ہوگیا۔ تفتیش کے دوران فلائٹ وائس ریکارڈر ملا ہے لیکن فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر کی تلاش ابھی تک جاری ہے۔
[pullquote]امریکا کی شمالی کوریا پر مزید سخت پابندیوں کی حمایت[/pullquote]
شمالی کوریا کی جانب سے تازہ بیلسٹک میزائلوں کے تجربے کے بعد امریکا نے پیانگ یانگ پر اقوام متحدہ کی پابندیاں مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لِنڈا تھومس گرین فیلڈ کے مطابق شمالی کوریا کی ’’بڑھتی ہوئی خطرناک اشتعال انگیزیوں‘‘ کی وجہ سے واشنگٹن حکومت سن 2017 میں منظور کی گئی پابندیوں کو اپ ڈیٹ اور سخت کرنے کے لیے سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کرے گی۔ اُس وقت یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ آئی سی بی ایم یعنی بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے نئے تجربے کی صورت میں مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ گرین فیلڈ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا وقت آگیا ہے۔
[pullquote]صدر بائیڈن یوکرینی عوام کی ’مزاحمتی صلاحیتوں‘ کے متعرف[/pullquote]
امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کی طرف سے روسی حملوں کے خلاف لڑائی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے نیٹو کے رکن ملک پولینڈ کے یوکرین سے متصل سرحدی علاقے کے دورے کے دوران یوکرینی عوام کی شجاعت اور مزاحمتی صلاحیتوں کو سراہا ہے۔ صدر بائیڈن نے جمعہ پچیس اکتوبر کو پولینڈ کے مشرقی شہر ژیشوف میں تعینات امریکی فوجی دستوں سے بھی ملاقات کی۔ پولش صدر آندرے ڈوڈا کے ہمراہ بائیڈن کو پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ امریکی صدر آج دارالحکومت وارسا میں مزید اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
[pullquote]بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو[/pullquote]