بنوں امن مارچ ؛ 20 اپریل

بنوں میں امن و امان، انتظامی مسائل اور عوام کی معاشی و کاروباری صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے مشران نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ متعدد امن جرگے منعقد کیے۔

ان جرگوں میں مشران نے بڑے وقار اور دلسوزی کے ساتھ متعلقہ ذمہ داران سے مسائل کے حل کا مطالبہ کیا۔ اب 20 اپریل کو بنوں سے تعلق رکھنے والے سنجیدہ اور پروقار سیاسی پس منظر کے حامل مشران نے امن مارچ کی کال دی ہے۔

ان مشران کی یقیناً یہ خواہش ہوگی کہ متعلقہ ذمہ داران ہمارے جائز اور آئینی مطالبات کو بغیر کسی پس و پیش کے تسلیم کریں، اور حقیقتاً انہیں تسلیم کیا جانا بھی چاہیے۔ ان مشران کا بیانیہ عین معروضی حقائق پر مبنی ہے، اور اسے کسی بھی صورت میں غیر قانونی یا غیر ضروری سیاسی اقدام قرار نہیں دیا جا سکتا۔

گزشتہ دنوں مشران اور عسکری قیادت کے درمیان ایک نشست بھی ہوئی تھی جس سے عوام نے کافی امیدیں وابستہ کر لی تھیں، مگر تاحال اس نشست کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آ سکا، جس کی وجہ سے عوامی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

لہٰذا حکومتی حکام اور عسکری قیادت سے مطالبہ ہے کہ وہ فوری طور پر مشران کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کریں اور 20 اپریل سے پہلے پہلے ان کے تمام جائز مطالبات کو عملی جامہ پہنا کر حل کریں، تاکہ بنوں کے عوام کو مزید احتجاج کی زحمت سے بچایا جا سکے۔

ضمنی طور پر یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ ملکی اعلیٰ حکومتی اور عسکری قیادت ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات میں مصروف ہے، جو یقیناً ہر پاکستانی کے لیے باعثِ مسرت ہے۔ تاہم دوسری جانب اپنے ہی عوام کے مسائل کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنے میں سستی دکھانا عوام کے لیے باعثِ تشویش ہے۔

ایسی صورتحال میں عوام کی جانب سے گلے شکووں کی صورت میں ردِعمل ظاہر ہونا عین فطری امر ہے۔

یہ بات مقتدر طبقے کو کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ جب تک اندرونی محاذ مضبوط نہ ہو، بیرونی محاذ پر مضبوطی محض مصنوعی اور وقتی ثابت ہوتی ہے۔ لہٰذا استدعا ہے کہ مصنوعی اور وقتی مضبوطی کے بجائے ملک کو پائیدار اور حقیقی مضبوطی کی طرف لے جانا آپ کی اولین ذمہ داری ہے۔

بنوں کے مشران کے حالیہ جائز اور آئینی مطالبات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ مقتدر طبقہ اگر یہاں سے حقیقی اور پائیدار مضبوطی کے سفر کا آغاز کرے، اور بغیر کسی لیت و لعل کے بنوں کے عوام کے مسائل کو 20 اپریل سے پہلے پہلے حل کرے، تو یہ نہ صرف بنوں بلکہ پورے ملک کے لیے اعتماد سازی کا ایک مثبت قدم ثابت ہوگا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے