سفارتکاری کا وہ لمحہ جب تاریخ نے کروٹ لی

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی، جو مشرقِ وسطیٰ کے امن اور عالمی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی تھی، بالآخر پاکستان کی کوششوں سے ایک عارضی جنگ بندی پر منتج ہوئی۔ اس کے بعد دارالحکومت اسلام آباد میں تقریباً اکیس گھنٹوں پر محیط نہایت حساس مذاکرات ہوئے۔ اگرچہ یہ بات چیت کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکی، تاہم یہ امر اپنی جگہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے کہ ایک ممکنہ بڑے تصادم کو وقتی طور پر ٹال دیا گیا۔ یہ پیش رفت نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لیے باعثِ اطمینان ہے، کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی نوعیت کا تصادم تیسری عالمی جنگ کے خدشات کو جنم دے سکتا تھا۔

وطنِ عزیز پاکستان، جسے ماضی میں داخلی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور خارجہ پالیسی کی کمزوریوں کے حوالے سے تنقید کا سامنا رہا، اس پیش رفت کے بعد عالمی سفارتی منظرنامے میں ایک مؤثر ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ یہ کامیابی اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے کہ ماضی میں 1998 کے ایٹمی دھماکوں اور پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھی پاکستان نے اپنی اسٹریٹجک اہمیت منوائی، مگر موجودہ صورتحال میں ایک ممکنہ عالمی تصادم کو روکنے کی کوشش اس سے کہیں بڑی سفارتی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔

اسلام آباد مذاکرات نے نہ صرف پاکستان کی ثالثی صلاحیت کو اجاگر کیا بلکہ اس کے عالمی کردار، سفارتی حکمتِ عملی اور علاقائی امن کے لیے عزم کو بھی نئی جہت دی ہے۔ پاکستان ایک مخلص، غیر جانبدار اور فعال ثالث کے طور پر سامنے آیا۔ اس نے نہایت پیچیدہ سفارتی حکمت عملی اپناتے ہوئے بیک ڈور ڈپلومیسی، شٹل سفارتکاری اور عالمی طاقتوں سے مسلسل رابطوں کے ذریعے دونوں فریقین کو نہ صرف جنگ بندی پر آمادہ کیا بلکہ انہیں مذاکرات کی میز تک لانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔

یہی وجہ ہے کہ عالمی مبصرین اس پیش رفت کو پاکستان کی ایک غیر معمولی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ خصوصاً امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد کی پاکستان آمد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں ممالک نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ امر تاریخی اہمیت رکھتا ہے کہ تقریباً 47 برس بعد امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطحی نمائندے ایک ہی میز پر آمنے سامنے بیٹھے، جو 1979 کے بعد تعلقات کی کشیدگی کے تناظر میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔

اگرچہ ان مذاکرات میں جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور جنگی نقصانات جیسے اہم معاملات پر اختلافات برقرار رہے، تاہم دونوں فریقین کی جانب سے مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر آمادگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان کی ثالثی نے مکالمے کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔

پاکستانی قیادت نے نہایت توازن کے ساتھ ایسی حکمت عملی اپنائی جس میں ایک طرف غیر جانبداری برقرار رکھی گئی اور دوسری طرف دونوں فریقین کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا گیا۔ پاکستان نے مستقل جنگ بندی کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کیں اور دیگر علاقائی و عالمی طاقتوں کو اعتماد میں لے کر ایک وسیع تر سفارتی ماحول تشکیل دیا۔

مذاکرات کے اختتام پر اگرچہ کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہ آ سکا، تاہم پیش رفت جاری ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق مذاکرات کے بعد مجموعی ماحول مثبت دکھائی دیتا ہے اور دوسرے دور کے امکانات روشن ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت مؤقف اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جیسے بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا، جبکہ چین نے اس اقدام کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے اپنے مفادات کے تحفظ کا عندیہ دیا۔

قارئین کرام! اگرچہ صورتحال میں وقتی بہتری آئی ہے، مگر حالات اب بھی نازک ہیں اور آئندہ دنوں میں مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔ اس تمام تناظر میں پاکستان کا کردار سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ بحیثیت قوم ہماری یہ امید ہے کہ پاکستان اپنی یہ مثبت سفارتی کاوشیں جاری رکھے گا، یہاں تک کہ خطے میں پائیدار امن قائم نہ ہو جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے