پاکستان کی سفارت کاری کا نازک امتحان

عالمی سفارت کاری کے پیچیدہ منظرنامے میں بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں جب درمیانی طاقتیں اچانک مرکزی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں، اور جنوبی ایشیا کا ایک اہم ملک اس وقت اسی نوعیت کے ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کی طویل تاریخ کے تناظر میں پاکستان کا بطور میزبان اور ثالث ابھرنا نہ صرف ایک غیر معمولی پیش رفت ہے بلکہ یہ اس امر کا بھی مظہر ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی صف بندیوں میں روایتی جغرافیائی حدود سے ہٹ کر نئے سفارتی کردار تشکیل پا رہے ہیں۔ تاہم اس پیش رفت کے ساتھ جو غیر یقینی کیفیت جڑی ہوئی ہے، وہ اس پورے عمل کو مزید نازک اور پیچیدہ بنا دیتی ہے۔

بظاہر یہ اعلان کہ پاکستان مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کرے گا ایک مثبت اشارہ ہے، مگر عملی سطح پر تاریخ کا تعین نہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ پسِ پردہ مشاورت ابھی تک کسی ٹھوس نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔ سفارت کاری میں اوقاتِ کار کا تعین محض ایک انتظامی معاملہ نہیں ہوتا بلکہ یہ سیاسی ترجیحات، اعتماد کی سطح اور فریقین کی آمادگی کا عکاس ہوتا ہے۔ جب ایک جانب واشنگٹن سے جلد مذاکرات کی امید ظاہر کی جائے اور دوسری طرف اسلام آباد کے سفارتی ذرائع اس امکان کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیں، تو یہ تضاد خود اس عمل کی ناپختگی کو بے نقاب کرتا ہے۔

اس تاخیر کی ایک بڑی وجہ علاقائی سفارتی مصروفیات بھی ہیں، جہاں پاکستان کی اعلیٰ قیادت بیک وقت کئی اہم دارالحکومتوں کے ساتھ روابط کو مستحکم کرنے میں مصروف ہے۔ سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے ساتھ جاری یہ روابط محض رسمی نوعیت کے نہیں بلکہ اس وسیع تر سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کے ذریعے پاکستان خود کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ یہ ممالک نہ صرف خطے میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں بلکہ ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ مختلف سطحوں پر تعلقات بھی رکھتے ہیں، اس لیے ان سے مشاورت اس پورے عمل کی کامیابی کے لیے ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔

پہلے دور کے مذاکرات، جو طویل نشستوں کے باوجود کسی بڑی پیش رفت کے بغیر اختتام پذیر ہوئے، اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات محض وقتی نوعیت کے نہیں بلکہ گہرے نظریاتی اور تزویراتی تضادات پر مبنی ہیں۔ جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ، پابندیاں اور سکیورٹی خدشات یہ تمام عوامل اس مکالمے کو ایک مشکل اور صبر آزما عمل بنا دیتے ہیں۔ واشنگٹن کی جانب سے اسے جزوی پیش رفت قرار دینا اور تہران کا اسے ایک ابتدائی مرحلہ سمجھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریق ابھی تک ایک مشترکہ فریم ورک پر متفق نہیں ہو سکے۔

اس تمام تناظر میں جنگ بندی کی موجودہ مدت ایک فیصلہ کن عنصر کے طور پر سامنے آتی ہے۔ یہ جنگ بندی، جو حالیہ کشیدگی کے بعد ایک عارضی سکون فراہم کرنے میں کامیاب رہی، اب اپنے اختتامی مرحلے کے قریب ہے۔ اگر اس مدت کے خاتمے سے قبل مذاکرات کا دوسرا دور منعقد نہیں ہو پاتا، تو خدشہ ہے کہ خطہ دوبارہ عدم استحکام کی طرف جا سکتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ اسے نہ صرف مذاکرات کی میزبانی کرنی ہے بلکہ اس عبوری امن کو برقرار رکھنے کے لیے فعال سفارتی اقدامات بھی کرنے ہیں۔

پاکستان کی حکمتِ عملی بظاہر دو سطحوں پر کام کر رہی ہے۔ ایک طرف وہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے، اور دوسری طرف وہ اس امر کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ جنگ بندی برقرار رہے تاکہ بات چیت کا سلسلہ منقطع نہ ہو۔ یہ ایک نہایت نازک توازن ہے، کیونکہ کسی بھی جانب سے معمولی سی بے صبری یا غلط اندازہ پوری پیش رفت کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔ اسی لیے اسلام آباد کی جانب سے جنگ بندی میں ممکنہ توسیع کی بات ایک حقیقت پسندانہ اور دور اندیش اقدام معلوم ہوتی ہے۔

تاہم اس پورے عمل میں ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ آیا پاکستان اس پیچیدہ سفارتی ذمہ داری کو طویل مدت تک مؤثر انداز میں نبھا سکے گا۔ ماضی میں بھی مختلف ممالک نے ثالثی کی کوششیں کی ہیں، مگر امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان اکثر ان کوششوں کو ناکام بنا دیتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک موقع بھی ہے اور آزمائش بھی موقع اس لیے کہ وہ خود کو ایک ذمہ دار اور مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منوا سکتا ہے، اور آزمائش اس لیے کہ کسی بھی ناکامی کی صورت میں اس کی سفارتی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید برآں، اس عمل میں بڑی طاقتوں کے مفادات بھی کارفرما ہیں۔ امریکہ اپنی شرائط پر ایک ایسا معاہدہ چاہتا ہے جو اس کے سکیورٹی خدشات کو کم کرے، جبکہ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی کردار پر کسی سمجھوتے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا۔ اس کشمکش کے بیچ پاکستان کو ایک غیر جانبدار مگر فعال ثالث کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھنی ہے، جو کہ آسان نہیں۔ اسے نہ صرف دونوں فریقوں کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا بلکہ یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ مذاکرات کا ایجنڈا کسی ایک فریق کے حق میں جھکاؤ نہ اختیار کرے۔

آخرکار، یہ ساری صورتحال اس حقیقت کی غماز ہے کہ جدید سفارت کاری محض بیانات اور ملاقاتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک مسلسل، کثیر جہتی اور نہایت باریک بین عمل بن چکی ہے۔ پاکستان کی موجودہ کوششیں اگرچہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، مگر ان کا اثر دور رس ہو سکتا ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف خطے میں ایک نیا استحکام پیدا ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان کی عالمی حیثیت میں بھی نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اور اگر یہ کوششیں تعطل کا شکار ہوتی ہیں تو یہ اس بات کی یاد دہانی ہوں گی کہ بعض تنازعات اتنے پیچیدہ ہوتے ہیں کہ انہیں حل کرنے کے لیے محض نیک نیتی کافی نہیں بلکہ غیر معمولی صبر، حکمت اور مستقل مزاجی درکار ہوتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے