چین کے قومی قانون سازی اور اعلیٰ سیاسی مشاورتی ادارے کے سالانہ “دو اجلاس” دنیا کو چینی جمہوریت کے بنیادی جواہر اور متحرک جمہوری عوامل کو بہتر انداز میں سمجھنے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے
رواں سال کے “دو اجلاسوں” کے دوران، یعنی 13ویں قومی عوامی کانگریس (این پی سی) کا پانچواں اجلاس اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس (CPPCC) کی 13ویں قومی کمیٹی کے پانچویں اجلاس، NPC کے ڈپٹی عہدیداران اور CPPCC کے اراکین کی جانب سے اپنی متعلقہ سرگرمیوں کے حوالے سے فرائض سرانجام دیئے۔ اور لوگوں کی آوازوں اور آراء کو ریاستی نظم و نسق پر عام اتفاق رائے میں بدلنے کے حوالے سے پیش کیا گیا۔
سالانہ اجلاسوں نے بین الاقوامی برادری کو دکھایا ہے کہ کس طرح چین کی جمہوریت ایک وسیع اور حقیقی جمہوریت پر مبنی ہے جو موثر اور فعال انداز میں امور سر انجام دیتی ہے اور چین کی متحرک طرز حکمرانی کی مضبوط جمہوری بنیادیں استوار کرتی ہے۔
جمہوریت کا آغاز عوام کی خواہشات کے مکمل اظہار سے ہوتا ہے۔ چینی حکومت نے 2022 کی سرکاری ورک رپورٹ کا مسودہ تیار کرنے کے لیے متعدد چینلز کے ذریعے عوامی رائے اور تجاویز طلب کی ہیں، اور زندگی کے تمام شعبوں سے ہزاروں کی تعداد میں آراء اور تجاویز حاصل کی گئی ہیں۔ اس طرح سے مقامی عہدیداروں کی جانب سے 1,100 سے زیادہ نمائندہ تجاویز کا انتخاب کیا گیا، اور رپورٹ میں کچھ اہم مشورے مرتب کیے گئے ہیں۔
چینی شہریوں نے رواں سال منعقدہ “دو سیشنز میں اپنے خیالات اور آراء کا جی بھر کر اظہار کیا اور دو اجلاسوں میں اپنی تجاویز شئیر کرنے کے نام سے تجاویز طلب کرنے کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس نے اس سال کے “دو سیشنز” سے پہلے اور اس کے دوران لوگوں کی طرف سے مختلف قسم کی تجاویز کو براہ راست NPC کے عہدیداران اور CPPCC اراکین کو فراہم کرنے کے قابل بنایا۔
“دو سیشنز” کے ذریعے، دنیا واضح طور پر دیکھ رہی ہے کہ چینی عوام جمہوری شرکتی عمل میں کس متحرک انداز میں براہ راست دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں، جو ایک موثر دائرہ کار کے تحت وسعت اور عمیق انداز میں پھیل رہی ہے اور اس طرز عمل سے مختلف اشکال اور چینلز کو متنوع بنا رہی ہے۔
جمہوریت عوام کی خواہشات کی تکمیل سے ہی حقیقی معنوں میں نافذ ہو سکتی ہے۔
اسٹیٹ کونسل انفارمیشن آفس (SCIO) نے اس سال کے “دو سیشنز” کے حوالے سے اعلان کیا تھا کہ
گزشتہ سال، ریاستی کونسل کے تحت دفاتر اور محکموں نے 2021 کے “دو اجلاسوں” کے دوران NPC کے عہدیداران کی طرف سے پیش کردہ 8,666 تجاویز اور CPPCC اراکین کی طرف سے پیش کردہ 5,718 تجاویز کو مرتب کیا، جو تحاریک اور تجاویز کی کل تعداد کا بالترتیب96.4 فیصد اور 93.4 فیصد تھا۔
ایک رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال “دو سیشنز” کے دوران قومی قانون سازوں اور سیاسی مشیروں کی طرف سے پیش کردہ تمام تجاویز اور تجاویز کو شیڈول کے مطابق ہینڈل کیا گیا ہے۔
این پی سی کے نمائندوں اور سی پی پی سی سی کے اراکین کی تجاویز پر بغور غور کرنے کے بعد، متعلقہ محکموں نے 4,300 سے زیادہ تجاویز اپنائی اور بعد میں 1,600 سے زیادہ پالیسیز پر اقدامات متعارف کروائے گئے۔
دوسری جانب تفصیلی اعداد و شمار نے ثابت کیا ہے کہ چین نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ اس کے لوگوں کے پاس اہم قومی حکمت عملیوں اور پالیسیز سے لے کر سماجی نظم و نسق اور زندگی کی بنیادی ضروریات تک کے مسائل پر اپنی خواہشات، خواہشات اور مطالبات کے اظہار کے لیے ذرائع موجود ہوں، جس سے ان کی آوازیں سنی جا سکیں اور ان کی درخواستوں کو پورا کیا جا سکے اور انکی پیش کردہ تجاویز اور آراء پر جواب دیا جائے.
انہی عوامل کی مدد سے عالمی برادری میں جمہوریت کی افادیت پر بحث تیزی سے تقویت حاصل کر رہی ہے۔
لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کچھ ممالک میں جمہوریت کا عمل تیزی سے ایک کھوکھلے وعدے کی صورت اختیار کر گیا ہے-
عوام سے صرف ووٹ ڈالنے کے لیے کہا جاتا ہے اور پھر ووٹ ڈالنے کے بعد انہیں یکسر فراموش کر دیا جاتا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران عوام صرف اونچی آواز میں وعدے سنتے ہیں لیکن بعد میں انہیں کسی فورم پر پوچھا تک نہیں جاتا۔
اور جب ان کے ووٹ مانگے جاتے ہیں تو ان کو ہر امر کے لیے ابھارا جاتا ہے لیکن الیکشن ختم ہونے کے بعد نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
چین کا ہمیشہ سے یہ عقیدہ رہا ہے کہ جمہوریت ایک آرائشی زیور نہیں ہے بلکہ عوام کے مسائل کو حل کرنے کا ایک موثر آلہ ہے۔ وہ جمہوریت جو لوگوں کو صرف اپنی خواہشات کے اظہار کے لیے ذرائع فراہم کرتی ہے لیکن انھیں پورا کرنے کے طریقے نہیں دیتی وہ حقیقی جمہوریت نہیں ہے۔
چین میں عوام کی ملک کے مالک کی حیثیت عوامی جمہوریت کا نچوڑ ہے۔ چین کی مکمل عوامی جمہوریت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ چین کی سیاسی اور سماجی زندگی کے ہر پہلو میں عوام کی آواز سنی جائے اور ان کی خواہشات کی موثر اور فعال نمائندگی کی جائے۔
چین کی جمہوریت ایک حقیقی جمہوریت ہے جو کام کرتی متحرک انداز میں نظر اتی ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ عوام کے مطالبات کا آزادانہ اظہار اور مؤثر طریقے سے پورا کیا جانا ضروری ہے اور چینی عوام جمہوریت کے معمار اور فائدہ اٹھانے والے دونوں ہیں۔
حالیہ برسوں میں، چین نے COVID-19 کے خلاف جنگ میں اہم ترین کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاریخی طور پر ملک سے مکمل غربت کا خاتمہ کیا ہے، اور ہر لحاظ سے ایک معتدل خوشحال معاشرہ تشکیل دیا جا رہا ہے اور بڑے ممکنہ خطرات کا ایک سلسلہ حل کیا گیا ہے۔ چین نے مکمل طور پر ایک جدید سوشلسٹ ملک کی تعمیر کے لیے ایک نئے سفر کا آغاز کیا ہے اور مشترکہ خوشحالی کے ہدف کی طرف کامیابی سے تیزی کیساتھ بڑھ رہا ہے۔
یہ کامیابیاں چینی جمہوریت کے ذریعے بااختیار چینی عوام کی کوششوں کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی تھیں۔
مشہور مصری فقیہ شوقی سید نے کہا کہ ترقی میں چین کی شاندار کامیابیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کی عوامی جمہوریت متحرک، فعال اور موثر ہے اور اس نے ملک کی ترقی اور پیشرفت کو فروغ دیا ہے اور لوگوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بہترین انداز میں ابھارا ہے۔
چین میں اعلیٰ معیار کی جمہوریت نے قومی حکمرانی کے نظام، صلاحیت اور کارکردگی کو مزید بہتر بنایا ہے۔
چین کی عوامی جمہوریت، جو ملک کے قومی حالات کے مطابق بنائی اور تیار کی گئی ہے، بین الاقوامی سیاسی میدان میں ایک نئے ماڈل کا کردار ادا کرتی ہے۔ مزید یہ خیال کیا جاتا ہے کہ چینی جمہوریت یقینی طور پر مضبوط قوت کا مظاہرہ کرے گی اور انسانی تہذیب کی ترقی میں زیادہ سے زیادہ حصہ ڈالے گی۔