یوکرین میں امریکہ کے زیر کنٹرول بائیولوجیکل لیبارٹریز حال ہی میں بین الاقوامی سوسایٹی کی توجہ کا مرکزی نقطہ ثابت ہوئی اور اس حوالے سے بیشتر خبریں مزید سننے کو مل رہی ہیں۔
روس نے امریکہ پر یوکرین میں بائیولوجیکل ہتھیاروں کے کنونشن (BWC) کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، جبکہ امریکہ نے اس کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کریملن کی طرف سے فراہم کیے گئے من گھڑت شواہد پر مبنی ہے۔
اس حوالے سے یہ آراء قطعاً کوئی راز نہیں رہی ہے کہ امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ بایو ملٹری سرگرمیوں میں سب سے بڑھ چڑھ کا حصہ لیتا رہا ہے، اور امریکہ وہ واحد ملک ہے جو BWC کے لیے تصدیقی طریقہ کار کے قیام کی مخالفت کرتا رہا ہے۔
امریکی بائیولوجیکل لیبارٹریز کی سرگرمیاں عالمی بائیولوجیکل سیفٹی کے تحفظ کے لیے بہت اہمیت کی رکھتی ہیں۔ تاہم، اس سنگین تشویش کے بارے میں وائٹ ہاؤس کے ردعمل سے انکار کیا گیا ہے.. اس حوالے سے انکی جانب سے کبھی بھی کوئی قابل قدر یا قابل اعتماد معلومات پیش نہیں کی گئی ہیں، اس طرح کے بے ہودہ اور متکبرانہ ردعمل نے امریکی بائیو ملٹری اقدامات کی حفاظت کے بارے میں دنیا بھر کے معاشرے کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اوورسیز بائیو ملٹری سرگرمیاں امریکہ کی ایک روایت رہی ہیں سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے امریکہ نے کوآپریٹو تھریٹ ریڈکشن (CTR) پروگرام شروع کیا جسے رچرڈ لوگر اور دیگر امریکی سینیٹرز نے فروغ دیا۔ وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا کہ سوویت یونین سب سے پہلے اس پروگرام سے "فائدہ” اٹھائے گا، اور پھر یہ فوائد دنیا کے دیگر حصوں تک پھیل جائیں گے۔ بعد ازاں سی ٹی آر پروگرام کے تحت سینکڑوں لیبارٹریز قائم کی گئیں۔
یہ پروگرام، ایک بہت بڑی بایو ملٹری ایمپائر، اسکینڈلز کا سبب بننے سے کبھی پیچھے نہیں رہا۔ کچھ لیبز نے انتہائی خطرناک پیتھوجینز کے اخراج کی اطلاع دی جن کی وجہ سے عجیب و غریب بیماریاں پھوٹ پڑیں، اور کچھ نے مقامی باشندوں کے حیاتیاتی نمونے اکٹھے کیے اور نمونوں کو "مطالعہ” کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو منتقل کیا۔ ان میں سے بہت سی لیبز کا انتظام بہت حد تک غیر تسلی بخش اور بد انتظامی سے متعلق تھا۔ امریکی محکمہ دفاع کی طرف سے بھیجے گئے اہلکاروں کو غیر ملکی اور سفارتی استثنیٰ حاصل تھا، اس لیے وہ ان لیبز میں رہتے ہوئے کسی بھی نوعیت کے جرائم سے ہمیشہ بچ سکتے تھے۔
یوکرین میں امریکہ کے زیر کنٹرول بائیو لیبز کے بے نقاب ہونے کے بعد، وائٹ ہاؤس نے کچھ مواد سے خود کو اس تمام تر ملبے سے عہدہ برآں ہونے کی کوشش کی۔ تاہم، امریکہ کے پاس بائیولوجیکل ہتھیاروں کی تیاری اور متعلقہ مراحل کے حوالے سے بالکل بھی کوئی ٹھوس شواید اور حقائق نہیں ہیں۔
امریکہ نے ایک بار مشہور جاپانی آرمی یونٹ 731 کے ڈائریکٹر شیرو ایشی اور دیگر جنگی مجرموں کو اس ایماں پر چھپا لیا تھا، تاکہ وہ اپنے لیے انکی مدد سے بایولوجیکل ہتھیار تیار کر سکیں۔ کوریائی جنگ میں، امریکی فوج نے چینی اور کوریائی افواج اور یہاں تک کہ عام شہریوں کے خلاف غیر امتیازی جراثیمی جنگ شروع کی۔ ویتنام میں، امریکی فوج نے میدان جنگ میں انتہائی زہریلے ایجنٹ اورنج کا استعمال کیا، جس سے لاکھوں ویتنامیوں کو ہلاک اور معذور کیا گیا، یہاں تک کہ امریکہ نے ہزاروں فوجیوں کو بایولوجیکل ادویات کے ٹیسٹ کے لیے استعمال کیا۔ یہ سب عوامل اس بات کے ٹھوس شواید اور حقائق ہیں کہ امریکہ دنیا کو کس طرح سے زہر دے رہا ہے۔
انڈونیشیا کی سابق وزیر صحت سیتی فدیلہ سپاری نے اپنی مدت کے دوران یو ایس نیول میڈیکل ریسرچ یونٹ-2 کی لیب کو ایک بار بند کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ لیب نے حیاتیاتی خطرات سے نمٹنے میں انڈونیشیا کی صلاحیت میں کوئی تعاون نہیں کیا اور متعلقہ اسٹڈی انڈونیشیا کی حکومت کو جمع نہیں کروائی گئی،انہوں نے کہا کہ آزاد ملک کی سرزمین پر س طرح کی بایو لوجیکل تجربہ گاہیں قائم کرنا ایک طرح کی استعماریت ہے۔ امریکہ ہمیشہ "حیاتیاتی حفاظت کے خطرات کو کم کرنے کے لیے تعاون” کو بہانے کے طور پر ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ تاہم، صرف امریکہ ہی جانتا ہے کہ آیا وہ واقعی تعاون کر رہا ہے اور آیا وہ خطرات کو کم کر رہا ہے یا مزید بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔ حال ہی میں جنوبی کوریا میں ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں ملک میں قائم امریکی فوجی بایولوجیکل لیبز کو بند کرنے کی درخواست کی گئی اور ان لیبز بارے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔
جنوبی کوریا کے باشندوں کا غم و غصہ یونائیٹڈ سٹیٹس فورسز کوریا کی طرف سے سامنے آیا جس نے جنوبی کوریا کے قوانین اور ضوابط کو نظر انداز کر کے جنوبی کوریا کو زہریلا مادہ بھیجا ہے جن میں بیسیلس اینتھراسیس اور یرسینیا پیسٹس شامل ہیں۔ ان لیبز کی وجہ سے اکثر حفاظتی حادثات ہوتے رہتے ہیں، جن سے جنوبی کوریائی باشندوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ کچھ جنوبی کوریائی باشندوں نے کہا کہ امریکی بائیو لیبز امریکی مفادات کے لیے بنائی گئی ہیں، اور یہ ان ممالک کے لیے بدقسمتی ہے جہاں یہ بنائی گئی ہیں۔
بین الاقوامی معاشرے کے پاس یہ جاننے کی ہر وجہ ہے کہ امریکہ نے کیا کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں، امریکہ نے من مانی طور پر درخواست کی ہے کہ دوسرے ممالک میں حیاتیاتی ہتھیاروں کی تصدیق شروع کی جائے، پابندیوں کی بڑی چھڑی کا سہارا لیا جائے اور یہاں تک کہ فوجی حملے بھی کیے جائیں۔ تاہم، یہ ستم ظریفی ہے کہ امریکہ ہمیشہ اپنے تئیں روادار اور دوسروں کے ساتھ سخت انداز میں برتاؤ کرتا ہے۔ یہ یا تو تکبر کے ساتھ دوسرے ممالک سے اپنے حیاتیاتی ہتھیاروں کے کاروبار سے دور رہنے کی درخواست کر رہا ہے، یا یہ دوسرے ممالک کو الزامات عائد کر رہا ہے، یا صرف اپنا رنگ دکھا رہا ہے اور "جعلی معلومات پھیلانے” کے لیے دوسرے ممالک پر بلاجواز الزام لگا رہا ہے۔
اس بار روس کے الزام کا سامنا کرتے ہوئے، وائٹ ہاؤس یہاں تک کہ "وکٹم” کے طور پر ایکٹنگ کر رہا ہے۔ اس طرح کے عام امریکی دوہرے معیار نے ایک بار پھر امریکہ کی تسلط پسندانہ سوچ کو بے نقاب کر دیا، یہ ان ممالک اور لوگوں کی بہت بڑی توہین ہے جو امریکی بائیو ملٹری سرگرمیوں سے زہر آلود ہو چکے ہیں، اور پوری دنیا کے لیے غیر ذمہ دارانہ ہے۔
روسی الزام اور بین الاقوامی معاشرے کے خدشات کے جواب کے طور پر، امریکہ کو اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، خود کو درست کرنا چاہیے اور BWC کے لیے تصدیقی طریقہ کار کے قیام کی مخالفت کرنا بند کر دینا چاہیے۔ .امریکہ کبھی بھی خود کو تسلط پسندانہ سوچ سے بے گناہ ثابت نہیں کر سکتا۔ صرف بین الاقوامی قوانین پر عمل کرنے اور تحقیقات کو قبول کرنے سے ہی یہ دنیا کے سامنے واضح وضاحت پیش کر سکتا ہے، اور یہی ایک بڑے ملک کو کرنا چاہیے۔