حال ہی میں سربیا کے دارالحکومت بلغراد میں 23 سال قبل یوگوسلاویہ پر نیٹو کی بمباری کے خلاف ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، تیئیس سال قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر یوگوسلاویہ پر بمباری کی گئی اور یہ عمل 78 دن تک جاری رہا۔
نیٹو کے جنگی جرائم کو سربیائی، چینی یا باقی دنیا کے لوگ کبھی نہیں فراموش کر سکتے۔ امریکہ اور نیٹو اتحادی ممالک نے گزشتہ دہائیوں میں کئی جنگیں دنیا کے کئی ممالک پر مسلط کی ہیں، جس نے دنیا کے مختلف حصوں میں ممالک اور خطوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا۔ ان جنگوں نے دنیا بھر کے تمام امن پسند لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کیا کہ امریکہ، جو سرد جنگ کی ذہنیت کا شکار ہے، نیز امریکہ کی زیر قیادت نیٹو اتحادی ممالک دنیا میں ہنگامہ آرائی اور محاذ آرائیوں کا سب سے بڑا سبب ثابت ہوا ہے۔
یوکرین بحران کے شروع ہونے کے بعد سے، نیٹو اتحاد نے خود ساختہ انداز میں امن، نظم اور اخلاقیات کا محافظ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ خود کو بین الاقوامی معاملات کے حتمی فیصلہ ساز کے طور پر پیش کرتا ہے، تصادم اور محاز ارائی کو ہوا دیتا ہے، اور دوسرے ممالک کو دھمکیاں دیتا ہے کہ وہ پابندیوں کا ساتھ دیں۔ تاکہ اپنے جیوسٹریٹیجک اہداف تک پہنچ سکے۔
تاہم، یہ مار اسکی خودساختہ کاروائیوں سے واضح ہے کہ سرد جنگ کے بعد کے دور میں سب سے شدید بین الاقوامی سیکورٹی تنازعہ کس نے شروع کیا۔ ایک بین الاقوامی سیاسی تجزیہ کار کا اس حوالے سے یقین ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان تنازعہ امریکی سازشوں اور مداخلت کا نتیجہ ہے۔ ایک معروف سیاسی عہدیدار کے مطابق، اگر نیٹو نے اپنے ہی لیڈروں اور حکام کی طرف سے ان انتباہات پر دھیان دیا ہوتا کہ اس کے مشرق کی طرف پھیلنے سے علاقائی عدم استحکام بڑھے گا تو اس تنازعے سے بچا جا سکتا تھا۔
امریکہ کی قیادت میں نیٹو اتحاد کی جانب سے اپنی نام نہاد دفاعی لائن کو اجتماعی سلامتی کے لیے روس اور یوکرین کی سرحدوں تک پھیلانے کے من مانی فیصلے نے روس اور یوکرین کے تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے موقع کو براہ راست ٹھکرا دیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ چھڑ گئی ہے۔
آمریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کا اس تمام تر صورتحال بارے ایک مضمون میں کہنا ہے کہ، "ہم کہتے ہیں کہ ہم ایک پرامن قوم ہیں۔ ہمارے رہنما ہمیں ہمیشہ حالت جنگ میں کیوں رکھتے ہیں؟” یہ ایک بہت اچھا سوال ہے جو ایک بار واشنگٹن پوسٹ نے اپنے ایک مضمون میں اٹھایا۔ امریکہ ہمیشہ امن کی بات کرتا ہے لیکن حقیقتاً وہ مخالف راستے یعنی جنگوں کی راہ پر چل رہا ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جو جنگوں کا عادی ہے، اور امریکی تاریخ بالکل جنگوں کی تاریخ سے بھر پور ہے، اور اس حقیقت کو بین الاقوامی معاشرے نے تسلیم کیا ہے۔ اس کا اشارہ سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں کی طرف سے پوسٹ کی گئی تصاویر سے ہوتا ہے کہ امریکی بمباری کے بعد ان کے ممالک کیسا نظر آتے ہیں، ساتھ ہی امریکہ کی طرف سے شروع کی گئی جنگوں میں اپنی اور ان کے خاندانوں کی دکھی کہانیاں بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر روزانہ سننے کو ملتی ہیں۔
امریکی ویب سائٹ وار ہسٹری آن لائن کے مطابق، امریکہ 1776 میں قائم ہونے کے بعد سے 93 فیصد وقت حالت جنگ میں رہا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے انکل سام نے مداخلت کے خیمے کو پوری دنیا تک بڑھا دیا،اور بالخصوص سر جنگ کے خاتمے کے بعد زیادہ حرص اور بے ایمانی کا شکار ہو گیا ہے۔ ٹفٹس یونیورسٹی میں بین الاقوامی سیاست کی پروفیسر مونیکا ڈفی ٹوفٹ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، امریکہ 1948 سے 1991 تک 46 فوجی مداخلتوں میں مصروف رہا ہے، اور یہ تعداد 1992 سے 2017 کے درمیان چار گنا بڑھ کر 188 تک پہنچ گئی۔ اور ایک محتاط اندازے کے مطابق امریکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں ہونے والے تقریباً ہر تنازع میں کسی نا کسی حیثیت سے شامل رہا ہے۔
ایک امریکی میگزین فارن پالیسی نے ایک بار نشاندہی کی تھی کہ جب تک ضروری سمجھا جائے امریکہ غیر ملکی جنگ شروع کرنے کا محرک محسوس کر سکتا ہے، اور جہاں تک ان غیر ملکی جنگوں کے نتیجے میں ہونے والی خوفناک انسانی آفات کا تعلق ہے، وہ دوسروں کو برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ امریکی مورخ ایلن برنکلے نے کتاب امریکن ہسٹری میں درج کیا ہے کہ ویتنام کی جنگ کے دوران امریکی فوج نے ویتنام کے دیہاتوں پر کارپٹ بمباری کی، عمارتوں کو بلڈوزر سے اکھاڑ پھینکا اور کیمیکلز ہتھیاروں کی مدد سے کھیتوں اور جنگلات کا صفایا کر دیا، جس سے بیس لاکھ شہری مارے گئے اور تیس لاکھ سے زیادہ مقامی لوگ دیگر پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
مزید برآں، امریکی قیادت والے نیٹو اتحاد نے یوگوسلاویہ پر بمباری کرنے کے لیے، یورینیم سے لیس ہتھیار استعمال کیے، جن پر بین الاقوامی معاہدوں کے تحت پابندی عائد ہے، ان ہتھیاروں کے استعمال سے سربیا کے ماحول اور لوگوں کی صحت پر طویل مدتی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ 9/11 کے حملوں کے بعد، امریکہ نے افغانستان اور عراق پرجنگ مسلط کی اور بے در پے جنگیں شروع کیں، جس کے نتیجے میں علاقائی انتشار اور سلامتی کے خطرات میں گزشتہ دو دہائیوں میں مسلسل اضافہ ہوا۔
سمتھ سونین انسٹیٹیوٹ کے سرکاری جریدے سمتھسونین کے مطابق، امریکہ نے 2001 کے بعد دنیا کے تقریباً 40 فیصد ممالک میں "انسداد دہشت گردی” کے نام پر فوجی کارروائیاں شروع کیں۔ ان نام نہاد "انسداد دہشت گردی” کی جنگوں میں 800,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور 38 ملین سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ پناہ گزینوں کا مسئلہ جس نے یورپ کو برسوں سے دوچار کر رکھا ہے، درحقیقت بڑی حد تک امریکہ کی جنگی ذہنیت کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ کوئنسی انسٹی ٹیوٹ فار ریسپانسبل سٹیٹ کرافٹ میں ریسرچ اینڈ پالیسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر سٹیفن ورتھیم کے مطابق، امریکہ ایک تباہ کن اسٹیٹس کی حیثیت حاصل کر چکا ہے، اور واشنگٹن امن قائم کرنے کے بجائے مسلح افواج کے جنون میں مبتلا ہے۔
بار بار تنازعات اور جنگوں کو ہوا دے کر، امن مذاکرات سے لاتعلقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، حتیٰ کہ تنازعات کو طول دینے کی کوشش کرتے ہوئے، امریکہ نے پوری طرح پر آشکار کر دیا ہے کہ عالمی اور علاقائی امن و استحکام کا تحفظ اس کی حکمت عملی میں کبھی بھی ترجیح نہیں ہے۔ امریکہ کے لیے جو چیز سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ بین الاقوامی منظر نامے پر اس کا غلبہ اور بالا دستی ہے، خاص طور پر نام نہاد "سپر پاور گیم” میں وہ پر صورت پہلے نمبر کا خواہاں ہے۔ مندرجہ بالا نکتے کی یوکرین کے بحران سے اچھی طرح وضاحت کی گئی ہے: جو چیز امریکی زیر قیادت نیٹو اتحاد کو روس پر مشتمل بناتی ہے وہ وائٹ ہاؤس کا یورپی سلامتی کے معاملے پر غلبہ اور بالا دستی حاصل کرنے کا ارادہ ہے۔
ہم اکیسویں صدی میں رہتے ہیں، لیکن امریکہ اب بھی پرانی صفر گیمز کو ترک کرنے سے گریزاں ہے۔ جنگجو امریکہ بین الاقوامی نظام کو تباہ کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، اور کسی طور امن کے محافظ کا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔