پرامن معاشرے کی تشکیل میں مذہبی قائدین اور کمیونٹی لیڈرز کا کردار

زیر بحث موضوع دور حاضر کے مطابق نہ صرف بہتر ہے بلکہ بہت حد تک درست اور ٹھیک ہے ۔سب سے پہلے جو بات انسانی ذہن میں آتی ہے،وہ یہ ہے کہ دور حاضر میں ہر اچھی بات کا خاتمہ ہو چکا ہے جس کے بارے میں ہم جانتے ہو ئے بھی نظریں چرارہے ہیں ۔ ۔معاشرے میں عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باقی عوامل کے ساتھ اس کی سب سے بڑی اور اہم وجہ ہمارے معاشرے میں رہنے والے مذہبی و سماجی رہنماؤں کی لا پرواہی بھی ہے ۔

معاشرے میں مذہبی و سماجی رہنما اپنا کردار ادا کرکے پرامن معاشرے کی تشکیل بہتر طور سے کر سکتے ہیں ۔ہر وہ بات یا عمل جس سے انسانی معاشرے میں بہتری آئے، مذہبی و سماجی رہنما اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بتائیں اور ان لوگوں تک حق اور سچ کو پہنچائیں جو کہ خاندان ،محلے اور معاشرے میں اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ مذہبی و سماجی رہنما اپنی اس بھاری ذمہ داری کو بہتر طریقے سے ادا کریں ۔

آج کے ، مذہبی و سماجی رہنما اپنی ذمہ داری صرف اسی کام کو سمجھتے ہیں جو کہ ان کے اپنے مذہبی تعلیمی اداروں تک محدود ہیں ۔دور حاضر کی نو جوان نسل اپنی تہذیب و تمدن ،اخلاقی اقدار،سب بھول چکی ہے انہیں اپنے اعمال اوررویوں کی اصلاحی تبدیلی کے لئے بلا شبہ مذہبی قائدین کی ضرورت ہے اور ان کے گھر وں کے سر براہ کو بھی مذہبی قائدین کی صحبت کی سخت ضرورت ہے۔ مرد اورعورت اپنے گھر کے سربراہ ہیں، ان کو اپنے گھر کے افراد کو اس بات کی تلقین کرنا ہوگی کہ مذہب نے ہی ہمیں پرامن زندگی بسر کرنے کا طریقہ بتایا ہے۔مذہبی قائدین کو مذہبی تعلیمی اداروں کے ذریعے سے وہ باتیں بتائی جائیں جن سےمعاشرے کی بہترین اور پر امن تشکیل ہوسکے۔دورحاضر میں الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا مذہبی عمائدین اور کمیونٹی سربراہا ن کی مدد سے اچھا کردار ادا کر سکتا ہے ۔

پرامن معاشرے کا آغاز ہی ایک گھر اور ایک خاندان سے ہوتا ہے ۔لہذا گھر یا خاندان کے سربراہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذہبی قائدین سے رابطہ کرتے ہوئے اچھے معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں ۔اس عنوان کو سامنے رکھتے ہوئے اس کا اختتام اسی موضوع پہ ہی ہونا چاہیے کہ پرامن معاشرے میں مذہبی قائدین اور کمیونٹی کے لیڈر کو اپنا اہم کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے