چین کا عالمی امن، ترقی اور تعاون کے فروغ کیلئے ایشیا کے کردار پر زور

ایک ایسے وقت جب دنیا کرونا وبائی مرض کے عوامل سے دوچار ہے، ایک بہتر دنیا کیسے یقینی بنائی جا سکتی ہے؟ عالمی معیشت کی مستحکم بحالی اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں؟ اور ہم یکساں فوائد کو کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟
اس ایجنڈے میں سرفہرست تین اہم سوالات کے ساتھ، رواں سال بواؤ فورم فار ایشیا (BFA) کی جنوبی چین کے صوبہ ہینان کے قصبے بواؤ میں منعقد ہونے والی سالانہ کانفرنس نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ہے۔ چین کے صدر شی جن پنگ کی طرف سے جمعرات کو فورم میں دنیا میں سب کے لیے سلامتی کو فروغ دینے کے لیے عالمی سلامتی کے اقدام نے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایشیائی نقطہ نظر پیش کیا ہے۔
‘نفیس، مربوط عوامل’
صدر شی جنپنگ نے ایک ویڈیو تقریر میں کہا کہ ترقی کے لیے سلامتی ایک اولین امر ہے، اور انسانیت ایک "ناقابل تقسیم سیکورٹی کمیونٹی” میں رہ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اس دن اور دور میں، بین الاقوامی برادری اتنی ترقی کر چکی ہے کہ یہ ایک نفیس اور مربوط اپریٹس کی حیثیت اختیار کر چکی ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ کسی ایک حصے کو ہٹانے کی کوئی بھی کوشش اس کے متعلقہ افعال میں سنگین مسائل کا باعث بنیں گی۔ تمام ممالک سے ہاتھ ملانے کی اپیل کرتے ہوئے، انہوں نے COVID-19 وبائی امراض کو کنٹرول کرنے، اقتصادی بحالی کو فروغ دینے، عالمی امن کو برقرار رکھنے اور عالمی حکمرانی کے چیلنجز سے نمٹنے میں تعاون کی ضرورت کو مزید اجاگر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "بڑے ممالک کے لیے یہ خاص طور پر اہم ہے کہ وہ مساوات، تعاون، نیک نیتی اور قانون کی حکمرانی کو پیش نظر رکھتے ہوئے دیگر ممالک کی رہنمائی کریں، اور اپنی حیثیت کے مطابق کام کریں۔”چینی صدر شی جنپنگ کا یہ چھٹا موقع ہے کہ وہ فورم میں کلیدی تقریر کر رہے ہیں، اور تعاون اور امن ان اہم ستونوں میں سے ہیں جن کا وہ دنیا کے سامنے چین کی تجاویز کو بیان کرتے وقت اکثر ذکر کرتے ہیں۔
ایشیا کا کلیدی کردار
ایشین اکنامک آؤٹ لک اور انٹیگریشن پروگریس کی سالانہ رپورٹ 2022 کے مطابق، قوت خرید کو اگر ایک برابری کا آلہ کار تصور کیا جائے تو 2021 میں عالمی معیشت میں ایشیا کا حصہ 2020 سے 0.2 فیصد پوائنٹس بڑھ کر 47.4 فیصد ہو گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2022 میں معاشی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے متعدد عوامل ضروری ہیں جن میں COVID-19 کی ترقی، روس-یوکرین تنازع کے بعد جغرافیائی سیاسی تناؤ، امریکا اور یورپ میں مانیٹری پالیسی میں ایڈجسٹمنٹ، کچھ معیشتوں میں قرض کے مسائل شامل ہیں۔ کچھ ایشیائی ممالک میں عالمی سپلائی اور سیاسی نظام کی تبدیلیوں جیسے عوامل درپیش ہیں۔ ایسے پس منظر میں، فورم میں شی کی تجویز زیادہ معنی خیز ہے – ایشیا کو عالمی امن کے لیے ایک کلیدی کردار، عالمی ترقی کے لیے ایک پاور ہاؤس اور بین الاقوامی تعاون کے لیے ایک نئے امن مرکز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "جب ایشیا اچھا ہوتا ہے تو پوری دنیا کو فائدہ ہوتا ہے۔” ایک زیادہ اوپن ایشیائی منڈی کو فروغ دینے کی کوششوں پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے مواقع سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا، جیسے کہ علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری کا نفاذ اور چین-لاؤس ریلوے کے ٹریفک کے لیے کھولنے جیسے مواقعوں کو بھر پور انداز میں استعمال کیا جانا ضروری ہے۔
چینی صدر شی جنپنگ نے اس عمل کے دوران چین کے کردار پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چینی معیشت کے بنیادی اصول – اس کی مضبوط لچک، بے پناہ صلاحیت، تدبیر کی وسیع گنجائش اور طویل مدتی پائیداری – میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور چین اپنی وسعت پر مبنی پالیسیز کے تسلسل کو جاری رکھے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے