پی ٹی آئی کے خلاف پولیس کا کریک ڈاؤن، پکڑ دھکڑ جاری

اسلام آباد / کراچی / لاہور: حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ روکنے کے لیے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاون جاری ہے جس میں اب تک درجنوں کارکنان کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کی اکثریت روپوش ہوگئی ہے۔ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی لال حویلی پر بھی پولیس نے چھاپا مارا لیکن شیخ رشید اور ممبر قومی اسمبلی راشد شفیق نہ ملے۔

پولیس نے سابق صوبائی وزیر راجہ بشارت، ممبر صوبائی اسمبلی اعجاز خان جازی، واثق قیوم، چوہدری امجد، چوہدری عدنان، راجہ راشد حفیظ کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے، لیکن ابھی تک کوئی سرکردہ رہنما گرفتار نہیں ہوسکا۔
پولیس نے پی ٹی آئی کے رہنما حماد اظہر، علی نوید بھٹی، جمشید اقبال چیمہ، ایم پی اے ملک ندیم عباس بارا، یاسر گیلانی ، میاں اسلم اقبال ، ایم پی اے سعدیہ سہیل، اعجاز چوہدری ، میاں اکرم عثمان ، عقیل صدیقی، سابق ڈپٹی سیکرٹری لاہور عامر ریاض قریشی، یوسی چیئرمین امیدوار شیخ محمد حیدر صاحب اور دیگر کی رہائش گاہوں پر چھاپہ مارا ہے۔

ادھر کراچی پولیس نے گلشن اقبال میں رکن نیشنل اسمبلی اور پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکریٹری سیف الرحمان محسود کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں حراست میں لے لیا۔

پولیس نے رکن سندھ اسمبلی و پی ٹی آئی کے سینئر نائب صدر کراچی سعید آفریدی، پی ٹی آئی کراچی کے صدر بلال غفار، رکن قومی اسمبلی و انفارمیشن سیکریٹری سندھ ارسلان تاج گھمن ، رکن سندھ اسمبلی شہزاد قریشی کے گھروں پر بھی چھاپے مارے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

اس کے علاوہ قصور پولیس نے ایم این اے کے ٹکٹ ہولڈر (این اے 138) سردار راشد طفیل کے گھر پر چھاپہ مارا۔ سردار راشد گھر پر موجود نا تھے تاہم پولیس کے چھاپے کے دوران سردار راشد کی والدہ کی طبعیت بگڑ گئی اور انہیں فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ دوسری جانب یاسر گیلانی کی رہائش گاہ پر چھاپے کے دوران سادہ اور پولیس وردی میں ملبوس اہلکاروں نے گھر کا گیٹ توڑنے کی کوشش کی اور گھر میں موجود بچوں اور خواتین کو حراساں کیا۔

پولیس نے شیراکوٹ میں پی ٹی آئی رہنما سعید احمد خان کے گھر چھاپہ مارا۔ سعید خان کا کہنا تھا کہ پولیس سیڑھی لگا کر چھت سے گھر میں داخل ہوئی اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا۔

راستوں کی ممکنہ بندش کے لیے کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ بھی جاری ہے۔ آزادی مارچ روکنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری کو راولپنڈی پہنچا دیا گیا ہے، آنسو گیس، قیدی گاڑیاں اور دیگر سامان بھی پولیس دستوں کو فراہم کردیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے 350 افراد کی فہرست تیار کی گئی اور سی سی پی او دفتر کی جانب سے کارکنوں کی فہرستیں متعلقہ تھانوں کو فراہم کردی گئیں ہیں جبکہ تمام ڈویژنل ایس پیز کریک ڈاون کی خود نگرانی کریں گے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کا مقصد 25 مئی کے لانگ مارچ کو روکنا ہے اور کارکنوں کو پکڑ کر متعلقہ پولیس اسٹیشن میں نہیں رکھا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور کے خارجی اور داخلی راستوں پر بھی پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے۔

[pullquote]حکومت کی لانگ مارچ سے نمٹنے کی تیاری، ڈی چوک سیل کردیا گیا[/pullquote]

دوسری جانب وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے دیگر صوبوں سے پولیس ایف سی اور رینجرز طلب کرلی ہے کنٹینر لگا کر ڈی چوک کو سیل کردیا۔

وزارت داخلہ نے وفاقی پولیس اور انتظامیہ کو اقدامات مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتشار پھیلانے والے لانگ مارچ کے شرکاء سے سختی سے پیش آیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے حکومت نے دیگر صوبوں سے پولیس کی بھاری نفری طلب کرلی ہے، پولیس کے ساتھ ساتھ ایف سی اور رینجرز بھی طلب کی جا رہی ہے۔

آج رات سے دیگر صوبوں سے بلائی گئی نفری پہنچنا شروع ہو جائے گی، جب کہ آپریشنل پولیس کوآج قیدی وینز، واٹر کینن اور دیگر سامان فراہم کر دیا جائے گا۔

پولیس نے لانگ مارچ کی راہ روکنے کے لیے ڈی چوک کو سیل کردیا ہے اور وہاں کنٹینر لگاکر آنے جانے کا راستہ بھی بند کردیا ہے۔

[pullquote]پی ٹی آئی کو سری نگر ہائی وے تک محدود کرنے کا فیصلہ[/pullquote]

دوسری جانب ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو نہ روکنے کی تجویز بھی دی گئی جس کے بعد حکومت اور اتحادیوں کے درمیان پی ٹی آئی کو قانونی حدود میں رہتے ہوئے لانگ مارچ کی اجازت دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری نے اتحادیوں سے رابطے کرکے اتفاق رائے میں اہم کردار ادا کیا جس کے بعد پی ٹی آئی کو سری نگر ہائی وے تک ہی محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

[pullquote]سری نگر ہائی وے سے آگے آنے پر قانونی راستہ اپنایا جائے گا[/pullquote]

ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحادیوں میں طے پایا ہے کہ پی ٹی آئی سری نگر ہائی وے پر اگر پرامن مارچ کرے گی تو اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی، سری نگر ہائی وے سے آگے آنے کی صورت میں قانونی راستہ اپنایا جائے گا۔

[pullquote]اتحادیوں کا ملک میں انتشار کی صورت میں سخت قانونی کارروائی پر اتفاق[/pullquote]

اتحادیوں ںے ملک میں انتشار و افراتفری کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لانے ہر بھی اتفاق کیا۔ آج ہونے والی حکومت اور اتحادی جماعتوں کی اہم بیٹھک میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے حوالے سے مزید مشاورت ہوگی۔

[pullquote]رانا ثنا اللہ کو خصوصی ٹاسک سونپا جائے گا[/pullquote]

ذرائع کے مطابق اتحادیوں سے حتمی مشاورت کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ خاں کو خصوصی ٹاسک سونپا جائے گا، مشاورتی اجلاس میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوں گے۔

سابق صدر آصف علی، مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر اتحادی جماعتوں کے قائدین بھی شرکت کریں گے۔ اجلاس میں وزیراعلی پنجاب اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوں گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے