قدرتی آفات اور ہمارے ناخدا

سیلاب اور قدرتی آفات کا مقابلہ کرنا اگرچہ انسانی بس میں نہیں ہوتا مگر سیلاب دنیا کے دیگر ممالک میں بھی آتے ہیں پر ہر بار وطن عزیز پاکستان ہی سیلاب کی تباہ کاریوں کا عذاب جس قدر بھگتا ہے اتنا نقصان دنیا کے باقی ممالک میں کیوں نہیں ہوتا.

یاد رکھیے یہ عذاب نہیں بلکہ یہ وہ نا اہلی ہے جس کی وجہ سے ہم اپنے شیطان ہمسائے کی شرارت کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہ جاتے ہیں. ڈیم بنائے گئے ہوتے تو یہ عذاب آنا تھا اور نہ ہی یہ حشر برپا ہونا تھا. جس روز حقیقت میں عذاب آیا سب سے پہلے محلات ریت بن کر بکھریں گے جھونپڑیاں نہیں.

آزمائش کی اس سخت گھڑی میں یقینا تنقید تلخ لگے گی مگر یہی وقت ہے کہ وطن عزیز کی عوام کی توجہ ان باتوں کی طرف مبذول کروائی جائے کیونکہ اس وقت ملک بھر میں سیلاب ہی موضوع سخن ہے۔ سیلاب متاثرین کی امداد کے لئے جو سرگرم عمل ہیں ان کی تعریف ہو رہی ہے اور جو منظر سے غائب ہیں ان کے کردار کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

جونہی سیلاب متاثرین کے لیئے امدادی سرگرمیوں کا مرحلہ ختم ہوگا اس کے ساتھ ہی سیلاب کی تباہ کاری کے تخمینے لگنا شروع ہو جائیں گے اور بحالی کے لئے دنیا بھر سے امدادی فنڈ کے لیئے پکار شروع ہو جائیگی۔ ان ڈونرز کی دلچسپی اور بحالی کے بڑے بجٹ کے حامل پراجیکٹس کی آمد کے ساتھ ہی آپ دیکھیں گے کہ کہاں کہاں سے گدھ نکل آئیں گے۔ وہ لوگ جو آج دور دور تک نظر نہیں آ رہے وہ فورا ان پراجیکٹس میں کلیدی عہدوں پر براجمان ہونے کو اول دستوں میں شامل ہوں گے۔

بیوروکریسی جو اس وقت غائب ہے ان میں دوڑ شروع ہو جائے گی کہ فلڈ بحالی پراجیکٹس میں ایگزیکٹو پوسٹوں پر کیسے تعیناتی حاصل کی جائے۔ ہر چھوٹے بڑے حادثے پر چوکوں میں موم بتیاں روشن کرنے والے انکلز اور انگریزی میڈیم انقلابی کنسلٹنٹس بن کر بحالی کے پراجیکٹس میں قوم کو بتائیں گے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور پائدار ترقی کا لحاظ کرتے ہوئے کیسے منصوبہ بندی کرنی ہے۔ اسی طرح لائیولی ہوڈ کے نام پر ایسے ایسے عبقری سامنے آئیں گے کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔ موم بتیوں والے انکلز کے ساتھ کام کرنے والی خواتین بھی کنسلٹنٹس اور ایڈوائزرز کے طور پر پراجیکٹس میں بھاری مشاہرے پر قوم کو یہ بتائیں گی کہ بحالی کے کام میں صنفی انصاف کو کیسے مدنظر رکھا جائے۔

یہ سب کچھ ہم زلزلوں اور سیلابوں کے پراجیکٹس میں بار بار دیکھ چکے ہیں اور ایک بار پھر یہی کچھ ہونے جا رہا ہے۔ ٹھیکیداروں اور سول ورکس کے کام میں رشوت ستانی اور گھٹیا کوالٹی کا کام کر کے اعلی ریٹس لینے والے بھی لائن میں لگ گئے ہیں۔ ہر کنفلیکٹ اور انسانی المیے کی طرح سیلاب کی تباہ کاریوں کی بھی ایک اپنی پولیٹیکل اکانومی ہے۔ امدادی کاموں کی بھی اپنی پولیٹیکل اکانومی ہے جس میں صحیح اور درست کام کرنے والوں کے ساتھ ساتھ کرپشن کے پہلو بھی شامل رہتے ہیں۔ چونکہ رضاکارانہ کاموں کو مربوط و شفاف بنانے کا نظام سرے سے ہی وطن عزیز میں موجود نہیں ہے اس لئے یہ مسائل ہمیشہ ایک حد تک موجود رہتے ہیں۔ ان سب کے باوجود اکثریت خیر کے کاموں میں سبقت لیتی ہے اور اسی لئے امداد کا مرحلہ کامیابی سے فوری طور پر ہر طرف پھیل جاتا ہے۔ اصل اور بڑی خرابی بحالی کے مراحل میں ہوتی ہے جو بحالی کے عمل کی کاسٹ میں خاطرخواہ اضافہ کرنے کا باعث بنتی ہے۔ یہاں ریاستی ادارے اور ان سے وابستہ افراد جو لوٹ مار کرتے ہیں ان پر گفتگو مفقود ہے۔ عوام کو پریشانی ہے کہ سیلاب سے تباہی پھیل رہی ہے اور اشرافیہ کے اس حصے کو پراجیکٹس اور کنسلٹنسیز نظر آ رہی ہیں.

رحمت باراں ہے کچھ اسطرح برسی
کہیں کوئی کچہ مکاں ڈوبا
مکاں کا معصوم مکین ڈوبا
بے زباں جانور بھی ہے ڈوبا
تنکے کی طرح پورا شہر ہے ڈوبا
خوابوں کا اک جہاں ہے ڈوبا
مگر سنو بات اک خاص نگر کی
محل ہے قائم و دائم جہاں
نعمتوں کی برسات ہے جہاں
ان باسیوں کا ہے ایماں ڈوبا

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے